ڈالرز، اللہ اور عوام کی طاقت

ترکی اور امریکا کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا خدشہ اس وقت سر اٹھانے لگا ہے جب صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی صدر کی جانب سے سٹیل اور ایلومینیم پر محصول دگنا کرنے پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے اپنے رجحانات کو تبدیل نہ کیا تو ہم نئے اتحادی اور دوست تلاش کر سکتے ہیں ۔  ترک صدر نے کہا ہے کہ اگر ان کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے پاس ہمارے عوام ہیں، ہمارے پاس اپنا حق ہے اور ہمارے پاس اللہ ہے ۔

ترک صدر اردوغان کے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا جب تک اپنے یک طرفہ اور غیر مہذب رجحانات کو ترک نہیں کرتا تو ترکی اپنے لیے نئے دوستوں اور اتحادیوں کو دیکھے گا ۔

صدر اردوغان نے امریکہ سے اپنی رنجش کے بارے میں مزید کہا کہ امریکا شام میں کرد فورسز کو مسلح کر رہا ہے اور مذہبی مبلغ فتح اللہ گولن کو ہمارے حوالے کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کی طرف سے پادری اینڈریو برنسن کے معاملے پر کشیدگی کو ہوا دی جا رہی ہے ۔

واضح رہے کہ امریکی پادری کو ترکی میں دہشت گردی کے مقدمے کا سامنا ہے جبکہ ترک حکام امریکا میں جلا وطن ترک رہنما فتح اللہ گولن کو سنہ 2016 کی بغاوت کو منظم کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں ۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی سٹیل اور ایلومینیم پر محصول دگنا کر دیا جس کے باعث ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ترک لیرا ہمارے مضبوط ڈالر کے مقابلے میں کمزور تھا اور اس وقت امریکا کے ترکی سے تعلقات اچھے نہیں ہیں ۔ لیرا کی قدر میں کمی پر ترکی کے صدر اردوغان نے کہا کہ یہ کمی اس مہم کا حصہ ہے جس کی قیادت غیر ملکی طاقتیں کر رہی ہیں۔ ترکی نے متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے خلاف قدم اٹھائے گا ۔ ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس قسم کی پابندیاں اور دباؤ کے نتیجے میں اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو نقصان ہوگا ۔

امریکہ اور ترکی نیٹو کے ممبران ہیں اور دونوں میں کئی ایشوز پر اختلافات ہیں۔ مثلاً نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ، انقرہ روس سے میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنا چاہتا ہے اور سنہ 2016 میں ناکام بغاوت میں ملوث افراد کو کیسے سزائیں دی جائیں ۔

حال ہی میں صدر ٹرمپ نے ترکی کے دو اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان امریکی پادری کی ترکی میں گرفتاری ہے جس پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں میں لیرا کی قدر میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ گذشتہ ایک سال میں اس کی قدر میں 40 فیصد کمی ہو چکی ہے۔

صدر رجب طیب اردوغان نے جمعہ کو ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے عوام سے کہا کہ وہ غیر ملکی کرنسی اور سونے کو لیرا میں تبدیل کرائیں کیونکہ ترکی اس وقت معاشی جنگ سے دو چار ہے ۔ اردوغان نے اپنے خطاب میں امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ ممالک کا رویہ ایسا ہے جو بغاوت کرنے والوں کی حفاظت کرتا ہے اور وہ قانون اور انصاف کو نہیں جانتے۔ جن ممالک کا رویہ ایسا ہے جس کے باعث ان کے ساتھ تعلقات کو بچانا مشکل ہو گیا ہے ۔ ترک صدر نے کہا کہ اگر ان کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے پاس ہمارے عوام ہیں، ہمارے پاس اپنا حق ہے اور ہمارے پاس اللہ ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے