جشن آزادی ….. !

حکیم فاروق سومرو

میں نے آزادی دیکھی، آزادی ناچ رہی تھی، آزادی گا رہی تھی، آزادی اچھل کود اور غل غپاڑے میں بری طرح مستعمل تھی. لوگ آزادی کو بے دریغ "ورت” رہے تھے.

پاکستانی نسل جس نے آزادی کے لیے ایک تنکا نہیں توڑا، پاکستانی قوم جسے آزادی کے لیے کانٹا بھی نہیں چبھا، پاکستانی روشن خیال جنہوں نے غلامی کی طویل شب کو شبِ عروس سمجھا…….. انہیں قتل کی آزادی ہے، بم بازی کی آزادی ہے، ڈاکہ زنی کی آزادی ہے. دودھ، دہی، دال، چاول، گندم، دھنیا، نمک، مرچ، مسالہ میں ملاوٹ کی آزادی ہے. دن بھر سبزیاں مہنگی بیچنے اور رات گئے ریڑھیاں، چھابے گندگی کے ڈھیروں میں پھینکنے کی آزادی ہے.

اور آج تو آزادی ہے. آزادی ناچے گی خواہ گوڈے اور گٹے ٹوٹ جائیں. آزادی ناچے گی، آزادی باجوں کی پاں پاں سے ہر جگہ طوفانِ بدتمیزی برپا کرے گی. یہ پاکستانی ثقافت ہے.

ہٹ او مُلّا….! مجھے آج جی بھر کے آزادی منانے دے. یہ جشنِ آزادی پھر کہاں؟ اور تُو کیا جانے کہ آزادی کے مزے کیا ہیں؟ یہ ثقافتیے، یہ لاحقے، یہ سابقے، یہ بے تکے بیانیے، یہ آزادیے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے مُلّا ازم کو دفن کر دیا ہے. آزادی ایک روشنی ہے جس کی چکا چوند سے ہم روشن خیال ہی آزادی مناسکتے ہیں. آزادی کا ایک ایک لمحہ یادگار ہے، قومی زندگی کے ثقافتی جسد میں آزادی ہی روحِ رواں ہے، آزادی ہی جاوداں ہے، یہ لامکاں، ماورائے حدِ امکاں، یہ کن فکاں، یہ سب قیاس و گماں ہے. آزادی مکان ہے، مکان واجب ہے، سر الاسرار ہے اور آزادی کے خیال سے ہی ہم پُر بہار رہتے ہیں اور امریکہ کی غلامی کے دن بھی ہمیں سازگار رہتے ہیں.اس حال میں جب بھی میں آزادی سے ملا ہوں وہ مجھے اپنی اپنی سی لگی اور جب بھی پابندیوں میں اس سے ملا ہوں تو نری باقیاتِ ضیاء الحق لگی.

ایسی آزادی کے "فرق”(مانگ) پہ خاک جو دلوں میں خوف خدا پیدا کرے. جو مہنگائی کو "پھٹکارے” جو سڑکوں پر رینگنے والی ابلیسی قوت کو "درکارے” جو لگژری کو انسانی زندگی میں کھلا ہوا زہرِ بے تریاق کہے، جو غاصب ٹولے اور امریکی کمیوں کو شیطانی اشرافیہ بتائے. ایسی آزادی ہمیں نہیں چاہیے جو ہم جاگیرداروں کی گردن ناپے. ایسی آزادی کے ہم قائل نہیں جس میں محتسبوں کے ایک اعلان سے ظالموں، جابروں اور مستبدوں کا جسم خبیث پسینے میں شرابور ہو جائے اور فریبی آنکھیں تملق کے بدبودار قطرے ٹپکائیں مگر دل "آزادی” کے گیت گائے. آزادی کے انتظار میں اپنے متعفن لاشے کو ہلکان کرے.

آزادی کے لیے جنگ لڑ کر، قربانیاں دے کر، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو ہزیمت سے ہمکنار کر کے، دشمن کو اپنی سرزمین سے بھگا کر اگر ایسی ہی آزادی چاہیے تھی تو وہ امریکہ اور یورپ میں بھی تھی اور غلام ہندوستان میں بھی. اس کے لیے پچپن ہزار بیٹیاں، ان گنت معصوم بچے اور لا تعداد بوڑھوں کو بے گور و کفن پاکستان کے راستے میں بچھانے کی کیا ضرورت تھی؟؟ ہاں ہاں کیا ضرورت تھی؟؟

اور آزادی اس محبوس، متعفن فضا میں تھر تھر کانپتی، لڑکھڑاتی، سر میں خاک ڈالتی دور خلاؤں میں گھور رہی تھی. اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا…….

جی نڈھال، چشم نم
اے سکوتِ شامِ غم

سیلِ درد پیش و پَس
آس پاس تیرگی

بے کنار ظلمتیں

بے قیاس تیرگی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button