یہ یورپ ہے, ان کی خالہ کا گھر نہیں

شہزاد حسین

(شہزاد حسین تین سال سے جرمنی میں مقیم ہیں. امنیسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ منسلک ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے آگاہی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں)

میں تین سال سے یورپ کے اکنامک ہب جرمنی میں مقیم ہوں اور یہاں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم امنیسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ منسلک ہوں۔ گزشتہ دنوں کراچی کے ایک مہاجر بھائی اعظم کے ساتھ برلن میں موجود پاکستانی امبیسی جانے کا اتفاق ہوا۔ اعظم کو وہاں کچھ کاغذات جمع کرانے تھے جس کے بدلے امبیسی کو ایک لیٹر جاری کرنا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ پاکستانی شہری ہی ہے اور جرمنی میں سیاسی پناہ چاہتا ہے۔ اس سے پہلے اس درخواست کو جرمنی کی ایک عدالت نے مسترد کردیا تھا جس کے بعد فارن آفس نے تصدیقی لیٹر جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔

بدھ کے روز صبح ہوتے ہی ہم نے برلن کی گاڑی پکڑی۔ ٹھیک ساڈھے آٹھ بجے ہم برلن اسٹیشن پر پہنچ گئے جس کے بعد پورے 9 بجے ہم امبیسی کے مرکزی دروازے کے باہر موجود تھے. امبیسی میں داخل ہوتے ہی ہم نے ٹوکن لیا جس کا نمبر 307 تھا. ہم ٹوکن لیئے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے.. میں نے وہاں بیٹھے یہ بات نوٹ کی کہ صبح صبح کام بہت سست روی کا شکار ہے. خیر ہماری باری آتے آتے ہی آئی اور جب باری پر گھنٹی بجی تو ایک اور پاکستانی صاحب جن کا نمبر ہمارے بہت بعد تھا جلدی سے لپکے اور ہمارے نمبر پر اپنا نمبر چلاتے پائے گئے. خیر ہم نے انتظار میں بہتری جانی. جب وہ صاحب فارغ ہوئے تو میں اور اعظم کاؤنٹر پر گئے اور وہاں موجود ایک صاحب جن کا نام اصغر تھا، کو اپنا مسئلہ بیان کیا ۔

ان صاحب نے اعظم کے کوائف جمع کرتے ہوئے ہمیں کچھ دیر انتظار کرنے کا بولا. ہم سامنے کی کرسیوں پر جابیٹھے. آدھا گھنٹہ گزرنے پر میں نے اعظم کو بولا کہ جائے اور معلوم کرے کہ اور کتنی دیر ہے. خیر اسی گفتگو میں ایک گھنٹہ گزر گیا۔

گھنٹہ بھر انتظار کے بعد جب میں اور اعظم کاؤنٹر پر گئے تو وہی صاحب بیٹھے تھے، کہنے لگے میاں تھوڑا اور وقت انتظار کیجیئے لیٹر کو تیار ہونے میں تھوڑا اور وقت درکار ہے. ہم پھر جاکر انہی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ یونہی کرتے کرتے دن کے 12 بج گئے جبکہ ہم وہاں صبح 9 بجے سے انتظار ہی کر رہے تھے. ہم نے یہ سوچ کر کے کام جلدی نبٹ جائے گا, واپسی کی ٹکٹیں بھی کروا لی تھیں کیونکہ پھر وہاں سے آمدورفت کم ہوجاتی ہے ۔

پاکستانی امبیسی کے عملے کو جب یہ بتایا کہ ہم صبح 9 بجے سے انتظار کررہے ہیں اور ہم نے 2 بجے واپسی کی ٹکٹ کٹائی ہوئی ہے کچھ رعایت کریں تو انہوں نے روایتی کام چوری اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں مزید ٹالتے ہوئے کہا کہ دفتر بند ہوچکا ہے, آپکا کام 2 بجے کے بعد ہی ہوگا. مجبوری سن کر وہ مزید بگڑ گئے اور عملے کے لوگ کہنے لگے کہ یہ آپکا مسئلہ ہے, دو بجے کی ٹکٹ کٹا کر آئے ہیں تو یہ ہمارا مسئلہ نہیں آپ پہلے سوچ کر آتے کہ وقت لگ سکتا ہے۔

مجھے کسی لمحے تو یہ لگا کہ پاکستانی لوگ دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نا چلے جائیں ان کے رویے اور حرکتیں نہیں بدل سکتیں. صبح 9 سے دن 12 بجے دفتری اوقات میں ایک کام کا نہ نبٹنا کس اہلیت کی نشانی سمجھا جائے ۔

ہم نے پھر درخواست کی کہ اگر اب بھی جلدی سے وہ لیٹر بن جائے تو ہم واپسی کی ٹرین پکڑ سکتے ہیں. عملے میں سے ایک شخص اصغر صاحب نے حامی بھری اور یہ کہہ کر اندر چلے گئے کہ دس منٹ انتظار کرو. موصوف جب کچھ دیر بعد برآمد ہوئے تو اپنا روپ بدل چکے تھے. ہمیں تلخی سے بولے کہ ہمارا کام دو بجے سے پہلے نہیں ہوسکتا ہم باہر چلے جائیں. اعظم نے اصغر صاحب کو کہا کہ ابھی تو آپ نے کہا تھا کہ دس منٹ انتظار کریں اور اب آپ نظریں نہیں ملا رہے, بہرحال اسی بات پر ہم نے اکتفا کرلیا کہ چلیں دو بجے کے بعد ہی صحیح مگر کام مکمل کرکے ہی جائیں گے. ہم عمارت سے باہر ٹہلنے چلے گئے اور پورے دوبجے ہم عمارت میں واپس داخل ہوئے تو لیٹر کو اصغر صاحب کے ہاتھ میں دیکھ کر دل کو کچھ تسلی ہوئی۔

اصغر صاحب ہاتھ میں لیٹر لیئے اپنے کسی جاننے والے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے. آدھے گھنٹے کے مزید انتظار کے بعد وہ ہماری طرف بڑھے اور اعظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے کہ جناب 12 بنتے ہیں۔ اعظم کچھ کہے بغیر اپنی جیب کی طرف لپکا اور پیسے نکالنے لگا. اسی دوران میں نے اصغر صاحب سے پوچھ لیا کہ یہ جو بارہ یورو لیئے جارہے یہ کس چیز کی مد میں ہیں، آیا کہ اس لیٹر کے جاری کرنے کے 12 یورو لگتے ہیں۔

میرے سوال کے ان کے کانوں سے ٹکرانے کی دیر تھی کہ اصغر صاحب کے اندر کا پاکستانی ایک بار پھر سے جاگ گیا. انہوں نے بدتمیزی شروع کردی. اصغر صاحب نے میرے ہاتھ کو پکڑا اور مجھے پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے اونچی آواز میں گرجنے لگے. بارہا یہ کہنے کے باوجود کہ تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے سوال کیا گیا، جواب بھی تمیز سے دیں تو کیا جاتا ہے. میں نے یہ بھی جتایا کہ میں ایک پاکستانی ہوں, پاکستانی سفارتخانے میں کھڑا ہوں, اور یہ پوچھنے پر حق بجانب ہوں کہ ہم سے جو پیسے وصول کیے جارہے ہیں وہ کس مد میں ہیں. اس بات کا جواب دینا کیا بہت مشکل کام تھا؟ کیا یہ ہے ہمارے سفارتخانوں میں بیٹھے افسران کی تربیت؟

اصغر صاحب نے پورا دفتر آسمان پر اٹھا لیا اور سیکیورٹی کو آواز دے کر حکم دیا کہ سوال کرنے والے شخص کو باہر نکال دیاجائے.سیکیورٹی گارڈ مجھے گھسیٹتا ہوا، مذاحمت کرنے پر مارتا ہوا باہر لے گیا۔ باہر نکل کر میں نے جب احتجاج کیا تو گارڈ نے تھپڑ، گھونسوں اور ٹھڈوں کی بارش کردی. اس مشکل صورتحال میں مجھے کچھ سوجھی اور میں نے موبائل کا کیمرا آن کرلیا. وہ فوٹیج جو میں نے مار کھاتے ہوئے بنائی تھی ایف آئی آر کے لیئے درخواست کے ساتھ جرمن پولیس کے حوالے کرچکا ہوں ۔

پاکستانیوں کو بہرحال یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب وہ کسی بھی دوسرے ملک میں ہوتے ہیں, وہاں ان کو اپنے ملک کی بدنامی نہیں نیک نامی کا سبب بننا چاہیے. اپنے ملک میں تو چلیں قتل کرکے بھی چھوٹ جاتے ہیں. یہاں رہتے ہوئے مجھے جرمن پولیس پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ سیکیورٹی گارڈ اور سفارتخانے کے عملے کے خلاف بھرپور ایکشن لیں گے۔

امنیسٹی انٹرنیشنل جس کے ساتھ میں برسوں سے منسلک ہوں، کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے وکیل کروا کر دیا اور یہ کیس جرمنی کی عدالتوں تک جائے گا.۔ امنیسٹی سفارتخانے کو خط لکھ کر اس واقع کے خلاف ایکشن لینے کی درخواست کر چکا ہے اور آنے والے دنوں میں وزیراعظم پاکستان کو اس معاملے کے پر ایک خط لکھا جائے گا. ایسے واقعات کی پاکستان میں شاید کوئی اہمیت نہ ہو مگر یہاں کوئی کسی کو ہاتھ بھی لگائے تو ایکشن لے لیا جاتا ہے۔ پاکستانی سفارتخانے میں بیٹھے ان ہٹ دھرم، کام چور افسران کو اس بات کی تسلی ہے کہ پاکستان سے ان کی اسکروٹنی کرنے والا نہیں ہے اور وہ اپنے ہر عمل میں آزاد ہیں۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔یہ یورپ ہے، ان کی خالہ کا گھر نہیں۔ حالیہ واقعہ اور اس کا ٹرائل یہ میری اس بات کو ثابت کرے گا۔

متعلقہ مضامین