جنرل ضیا کی سائیکل

رعایت اللہ فاروقی

’’کیسا لگا پھر ہمارے وزیراعظم کا خطاب ؟‘‘

’’آپ کا وزیراعظم ؟‘‘

’’جی ہاں ! ہمارا یعنی پی ٹی آئی کا وزیراعظم‘‘

’’بہت اچھے بھئی ! بہت اچھے ! ہم تو انہیں کٹھ پتلی سہی مگر وزیر اعظم پاکستان سمجھتے رہے، اچھا کیا بتادیا کہ وہ صرف پی ٹی آئی کے وزیر اعظم ہیں‘‘

’’آپ میرے سوال کا جواب دیجئے ،خطاب کیسا لگا ؟‘‘

’’بھئی بہت ہی زبردست خطاب تھا، کیا کہنے سبحان اللہ !‘‘

’’کیا ؟ میں نہیں مانتا !‘‘

’’کیوں بھئی ؟ آپ اپنے وزیراعظم کے خطاب کو زبردست کیوں نہیں مانتے ؟‘‘

’’نہیں ! میرے کہنے کا مطلب ہے کہ یہ جو آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کو خطاب زبردست لگا، یہ میں نہیں مانتا، آپ کو عمران خان کی کوئی چیز زبردست لگ ہی نہیں سکتی‘‘

’’بدگمانی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، مجھے ان کا جوانی والا ہیئر سٹائل بہت اچھا لگا تھا، ان کا باؤلنگ رن اَپ بہت اچھا لگا تھا، ان کا ورلڈکپ، انکی تین سو بیس کنال کی بنی گالہ جھونپڑی، انکی جمائما ،ان کی ریحام اور ان کے بچے سب بہت اچھے لگے تھے‘‘

’’اچھا پھر بتائیے خطاب میں سب سے متاثر کن کیا لگا ؟‘‘

’’آپ کو یاد ہے نا سابق وزیراعظم نواز شریف مودی کے یار تھے اور اسی لئے وہ کلبھوشن یادیو کا ذکر نہیں کرتے تھے ؟‘‘

’’جی ہاں یاد ہے !‘‘

’’تو مجھے آپ کے وزیراعظم کے خطاب کی سب سے زبردست بات یہ لگی کہ اس خطاب میں کلبھوشن یادیو کا بہت دبنگ تذکرہ ہوتا رہا اور بار بار ہوتا رہا‘‘

’’یہ کیا بکواس ہے !‘‘

’’سنئے تو ! میرے ذرائع تو بتاتے ہیں کہ کسی برانڈے میں لگے ٹی وی پر خان صاحب کا تاریخی خطاب چل رہا تھاجس کی آواز کلبھوشن کے سیل تک پہنچ رہی تھی۔ وہ بہت گھبرا گیا تھا۔ سنتری کو بلا کر پوچھنے لگا، تمہارے وزیراعظم بار بار میرا ذکر کیوں کر رہے رہے ہیں ؟ تو سنتری نے کہا، تاکہ دنیا کو بتاسکیں کہ اس ملک کا نیا وزیراعظم مودی کا یار نہیں ہے۔ راوی بتاتا ہے کہ تب سے کلبھوشن نے کھانا پینا بہت کم کردیا ہے جس سے اس کا وزن بھی تیزی سے گرنا شروع ہوگیا ہے‘‘

’’لاحول ولاقوۃ۔۔۔۔۔ تم سے خیر کی امید رکھنا ہی پاگل پن ہے‘‘

’’مجھے معلوم ہے آپ کی بدگمانیاں آسانی سے ختم ہونے والی نہیں اس کے لئے مجھے مزید زور لگانا پڑے گا‘‘

’’کیسا زور ؟‘‘

’’مطلب یہ کہ خان صاحب کے خطاب کے مزید متاثر کن نکات بتانے پڑیں گے۔ تو سنئے ! کلبھوشن کے بہت زور دار ذکر کے بعد جس دوسری چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ تھا مسئلہ کشمیر پر قومی ہی نہیں بلکہ پوری امت مسئلہ کی شاندار ترجمانی۔ ایسی ترجمانی کہ بس کمال ہی ہوگیا۔ آپ شاید جانتے نہیں لیکن مجھے ایل او سی کے اس پار سے دوستوں نے بتایا کہ جب خان صاحب کا خطاب ختم ہوا تو پورے مقبوضہ کشمیر میں سناٹا چھا گیا، کیا بڑا، کیا چھوٹا، کیا مردا ور کیا عورت، سب ہی ایک دوسرے کو ناقابل یقین نظروں سے تکنے لگے۔ انہیں یقین نہیں آیا کہ ستر سال میں پہلی بار ایسا بھی ہوگیا۔ میرے ذرائع تو بتاتے ہیں کہ جو کشمیری خود مختار کشمیر کے حامی تھے وہ بھی مسئلہ کشمیر پر خان صاحب کی رقیق القلب ترجمانی دیکھ کر صلوۃ توبہ کے لئے مساجد کی جانب دوڑ پڑے او ر سجدوں میں گر کر توبہ ! توبہ ! پکارنے لگے‘‘

’’مجھے پتہ ہے تم کیا بکواس کر رہے !‘‘

’’اچھا تیسری بکواس بھی سن لیجئے ! اس خطاب کی ایک اہم بات بلکہ بہت ہی خوشگوار بات یہ رہی کہ نواز شریف کے دور میں خان صاحب کی زبان پر کرپشن پہلے نمبر پر رہی۔ وہ دن رات اسی کا راگ الاپتے، اسی پر پناما کا پورا مقدمہ کھڑا کیا گیا‘‘

’’تو غلط تھا کیا ؟‘‘

’’سن تو لیجئے ! جو کرپشن تب عمران خان کے ایجنڈے پر پہلے نمبر پر تھی، وہ ان کے حلف اٹھاتے ہی اتنی تیزی سے پاکستان میں کم ہوگئی کہ ان کے ایجنڈے میں گیارھویں نمبر پر چلی گئی۔ اسے کہتے ہیں مدینہ کی ریاست !جب خان صاحب نے کہا تھا کہ وہ 90 دن میں کرپشن ختم کرکے دکھادیں گے تو ہمیں یقین نہ آیا تھا مگر انہوں نے تو 90 گھنٹوں میں ہی اسے پہلے سے گیارھویں نمبر پر پہنچا دیا۔ ذرا کسی کامرس رپورٹر کو فون کرکے پتہ کیجئے، اب تک تو بائیسویں نمبر پر بھی پہنچ چکی ہوگی‘‘

’’تمہاری بکواس اسی طرح جاری رہی تو میرے سر میں درد ہوجائے گا، دو ملازمین اور دو گاڑیوں کے کفایت شعار اعلان پر تو تمہاری زبان سے خیر کا جملہ نہیں نکل سکتا بس فضول باتیں ہی کرتے رہوگے‘‘

’’کون کہتا ہے کہ دو گاڑیوں اور دو ملازمین کے اعلان پر میں خیر کا جملہ نہیں کہہ سکتا ؟‘‘

’’چلو کہہ کر دکھاؤ !‘‘

’’آپ کو خلیفۃ اللہ فی الارض حضرت قبلہ جنرل محمد ضیاء الحق شہید ہلال امتیاز ملٹری بہادر دام اقبالہ کی سائیکل یاد ہے ؟‘‘

’’چپ ! ایک دم چپ ! ایک لفظ بھی اور کہا تو ۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’اچھا چلو سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کی چھوٹی گاڑیوں کی بات کر لیتا ہوں‘‘

’’میں نے کہا نا چپ ! ! !‘‘

متعلقہ مضامین