پاک بھارت مذاکرات کیوں نہیں

تحریک انصاف کے خیرخواہوں میں ایسے کئی لوگ بھی شامل ہیں جنہیں برسوں تک پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ ان میں سے دو افراد بھارتی حکومت کے ساتھ براہِ راست معاملات سنبھالتے رہے ہیں۔ میں ان کے نام لئے بغیر بہت وثوق سے یہ اطلاع بھی دے رہا ہوں کہ وہ جب چاہیں عمران خان صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل کرسکتے ہیں ۔
ریٹائر ہوئے سفارت کاروں کے علاوہ خان صاحب کی جماعت میں میرے دوست شفقت محمود بھی شامل ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1993 میں دوبارہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد انہیں نواب زادہ نصراللہ خان کی سربراہی میں کام کرنے والی کشمیر کمیٹی کا رکن نامزد کیا تھا۔ اس کمیٹی نے کشمیر کاز کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کے لئے بہت محنت سے کام کیا تھا اور اس کی کاوشوں کی بدولت ہی بالآخر اسلامی ممالک کی تنظیم -OIC- کشمیر کی آل پارٹیز حریت کانفرنس کو اپنے اجلاس میں آبزرور کی حیثیت میں مدعو کرنے پر راضی ہوئی ۔
اس روایت کی ابتداء مراکش کے شہر کاسابلانکا سے ہوئی تھی جہاں میر واعظ عمر فارووق بھی تشریف لائے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کی آمد کو اپنی بہت بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا۔ اس کے بارے میں شاداں محسوس کرتے ہوئے مجھے مجبور کیا کہ میں ان کے ہمراہ مراکش میں اسلامی کانفرنس کے اجلاس کی رپورٹنگ کرنے جاﺅں اور وہاں میرواعظ عمرفاروق کی آمد پر خاص توجہ دوں ۔
شفقت صاحب کے علاوہ شاہ محمود قریشی بھی ہیں۔ گیلانی صاحب کی 2008 میں قائم ہونے والی حکومت کے وزیر خارجہ رہے ۔ ان ہی کے زمانے میں ممبئی والا واقعہ بھی ہوا تھا۔ شاہ محمود قریشی اور شفقت محمود کے ہوتے ہوئے عمران خان صاحب کو پاک-بھارت تعلقات کی پیچیدگیاں سمجھنے کے لئے کسی غیر کی ہرگز ضرورت نہیں ۔
ان دونوں حضرات کے ہوتے ہوئے بھی لیکن 25جولائی 2018کے انتخابات میں کامیابی کے بعد سے تحریک انصاف نے بھارت کے بارے میں جو ماحول بنایا وہ قطعاََ بچگانہ خواہشات پر مبنی تھا ۔ نئے وزیر خارجہ کا حلف اٹھانے کے بعد حتیٰ کہ شاہ محمود قریشی صاحب نے بھی پیر کے روز اپنی وزارت میں لوٹ آنے کے بعد کیمرے کے سامنے فرطِ جذبات میں چند ایسے کلمات کہے جنہیں بھارتی میڈیا نے روایتی بغض کے ساتھ اپنے لوگوں کے سامنے رکھا۔
بالآخر بھارتی وزارتِ خارجہ کو میڈیا میں موجود اپنے ”ترجمانوں“ کے ذریعے بہت رعونت سے یہ وضاحت کرنا پڑی کہ نریندر مودی پاکستان سے مذاکرات کرنے کو ہرگز بے تاب نہیں۔ یہ مذاکرات اگر ہوئے بھی تو موضوع ان کا صرف اور صرف ”بھارت میں پھیلائی دہشت گردی“ ہوگی۔ جواباََ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو ایک باقاعدہ بیان جاری کرنا پڑا۔ اس میں وضاحت ہوئی کہ شاہ محمود قریشی صاحب نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم کو مبارکباد کی چٹھی لکھتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین باضابطہ مذاکرات کا عمل بحال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
بنی گالہ میں عمران خان صاحب کی مصروفیات کو میڈیا کے لئے بیان کرنے والے بقراطوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس مختصر بیان کا بغور جائزہ لیتے جو بھارتی حکومت نے نریندر مودی کی جانب سے عمران خان کو 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دینے کے لئے جاری کیا تھا ۔ اس بیان میں بہت مکاری سے یہ وضاحت ہوئی کہ ”بھارتی وزیراعظم“ نے ”تحریک انصاف کے سربراہ“ کو فون کیا تھا۔ ”مبارک بادی“ کے اس پیغام کے ذریعے بھی مربیانہ انداز میں اس بات کو سراہا گیا کہ ”پاکستان میں جمہوری عمل“ مضبوط ہو رہا ہے۔ سفارتی زبان میں اسے Patronizing Tone کہا جاتا ہے اور کوئی خوددار ملک یا شخص اس Tone کو ہضم نہیں کر سکتا ۔
اس Tone میں مضمر مکاری کو سمجھے بنا مگر یہ باور کرلیا گیا کہ شاید نریندرمودی کی یہ خواہش ہے کہ اسے پاکستان کے نئے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری کے لئے مدعو کیا جائے۔ 2014 میں بھارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد مودی نے سارک ممالک کے سربراہان کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا تھا۔ نواز شریف وہاں تشریف لے گئے اور بعدازاں ”مودی کا یار“ کہلائے۔ خدا بھلا کرے ہماری وزارتِ خارجہ کے چند افسروں کا جو تحریک انصاف کے بقراطوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہے کہ عمران خان صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کی حلف برداری کی تقریب کے دوران مودی کی جانب سے Set کی گئی روایت کے اتباع کی ضرورت نہیں۔ سارک تنظیم اس وقت ویسے بھی مفلوج ہوچکی ہے اور وجہ اس کی بنیادی طور پر بھارت کا وہ فیصلہ ہے جس کے ذریعے اسلام آباد میں معمول کے مطابق ہونے والی سارک سربراہی کانفرنس میں مودی نے آنے سے انکار کر دیا تھا ۔ اس تنظیم کی بحالی کے لئے ضروری ہے کہ اسلام آباد ہی میں سارک ممالک کے سربراہان کا اجلاس منعقد ہو ۔
عمران خان صاحب کی تقریب حلف برداری میں کرکٹرسدھو کی آمد کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ ہمارے کئی ”اندر کی خبر“ رکھنے کے دعوے دار دوست بلکہ یہ دعویٰ بھی کرتے پائے گئے ہیں کہ شاید اس کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے مابین Back Door سفارت کاری کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ بقول ان دوستوں کے میڈیا کی نگاہوں سے اوجھل اس عمل کے ذریعے شاید آئندہ چند مہینوں میں کچھ ”ڈرامائی“ ملاقاتیں بھی ہوسکتی ہیں۔
سفارت کاری کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے میں بہت اعتماد کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین فی الوقت ٹھوس مذاکرات کے احیاء کا کوئی امکان موجود نہیں ہے ۔ وجہ اس کی بنیادی طورپر بھارت میں آئندہ سال ہونے والے انتخابات ہیں۔ نئی دلی میں یہ افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ مودی شاید قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرکے اپنی بکھری ہوئی اور کمزور اپوزیشن کو حیران وپریشان کر سکتا ہے ۔
آج سے 5 سال قبل انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی اپنی ”54 انچ کی چھاتی“ پر بہت نازاں محسوس کرتا تھا ۔ اس کا وعدہ تھا کہ اپنے دورِ اقتدار میں وہ ”پاکستان کو سیدھا کردے گا“۔ وہ اس مقصد میں ناکام رہا۔ اس ناکامی کے ہوتے ہوئے وہ پاکستان کے ساتھ فوری مذاکرات کے ذریعے ایسی کوئی شے حاصل کر ہی نہیں سکتا جو اس کی چھاتی کو ” 54 انچ چوڑا“ ثابت کرسکے۔ بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کو لہذا فی الوقت بھول جائیں۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین