صحافت، تجزیہ، رائے اور اختلاف

احساس/ اے وحید مراد
سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک کو استعمال کرنے والوں کے کئی مسائل ہیں ۔ اور ان میں سے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ پہلے صحافیوں کو فرینڈ ریکوسٹ بھیجتے ہیں اور پھر گالیاں دیتے ہیں ۔ کوئی رائے پسند نہ آئے تو کہتے ہیں کہ یہ کیسی صحافت ہے یا صحافی کو ایسا نہیں کہنا یا نہیں کرنا چاہئے ۔
ہر چند مجھے مفت میں کسی کو سمجھانے کا شوق نہیں، (یہ کام ہم نے رعایت اللہ فاروقی کے حوالے کر رکھا ہے) مگر ایک بنیادی بات سمجھائے بنا لگتا ہے کہ اب چارہ نہیں ۔
صحافت بنیادی طور پر رپورٹنگ ہے، کوئی بھی صحافی جب کوئی خبر رپورٹ کرتا ہے تو وہ اپنے ادارے (اخبار/ٹی وی/ویب سائٹ) کیلئے کرتا ہے) فیس بک پر اس کا لنک شیئر کرتا ہے ۔ (فیس بک پر کوئی بھی صحافی رپورٹنگ یا صحافت نہیں کرتا) ۔
دوسرے نمبر پر تجزیہ ہوتا ہے وہ بھی زیادہ تر میڈیا کے اداروں پر ہی شائع/نشر ہوتا ہے ۔ البتہ چھوٹے موٹے اندازے بعض اوقات سوشل میڈیا پر بھی لکھ دیے جاتے ہیں ۔ یہ تجزیے ہر صحافی اپنی معلومات اور حالات و واقعات کو دیکھ کر کرتا ہے ۔ اگر کوئی تجزیہ کار معلومات اور حالات و واقعات کا درست تجزیہ نہیں کر پاتا یا پھر اپنی خواہش کو تجزیے میں شامل کرتا ہے تو اگلے ہی دن پیش آنے والے واقعات اس کے تجزیے، تبصرے اور ماہرانہ رائے کو اس کے منہ پر دے مارتے ہیں ۔ اور یہ ہم نے نواز شریف کے برطانیہ جانے اور واپس آنے کے عرصے میں بارہا دیکھا کہ تجزیہ کاروں نے بڑے دعوے کئے، اپنے ذرائع کے گھوڑے دوڑائے اور اپنی چڑیوں کبوتروں بلکہ عقابوں اور نیولوں کی خبروں پر اعتماد کر کے وثوق سے کہا کہ نواز شریف باقی عمر باہر گزاریں گے اور ملک واپس آنے کا نام نہیں لیں گے، ان کی پارٹی ٹوٹ پھوٹ جائے گی ۔ اور پھر بڑے بڑے میڈیائی نام ان تجزیوں اور پیش گوئیوں پر گزشتہ چار چھ ماہ میں لوگوں کے سامنے شرمندہ ہوئے ۔ (یہ لفظ پاکستان کے تجزیہ کاروں کی لغت میں موجود نہیں) ۔
خیر، تجزیے کے بعد بات آتی ہے رائے کی ۔ سوشل میڈیا پر بہت سے صحافی بہت کچھ لکھتے ہیں اور یہ ان کی رائے ہوتی ہے اور کسی بھی شہری کی طرح ان کو بھی اپنی رائے رکھنے اور اس کے اظہار کا حق حاصل ہے ۔ سوشل میڈیا کے بہت سے صارفین اور خاص طور پر سیاسی جماعتوں کے کارکن یا کسی سیاسی شخصیت کے پرستار صحافیوں کی وہ رائے ہضم نہیں کر پاتے جو ان کے مزاج یا رائے سے مطابقت نہ رکھتی ہو ۔ یہیں سے وہ معاملہ جنم لیتا ہے جب صحافی کو گالی دی جاتی ہے، اس کو کہا جاتا ہے کہ ‘تم صحافی ہو، ایسی بات نہ کرو’ ۔ یا ‘کسی صحافی کو کیا ایسی بات زیب دیتی ہے؟’ ۔
سوشل میڈیا ہر ایسے لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ صحافی کو رائے دینے کا حق ہے اور جس وقت وہ اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے وہ رپورٹ نہیں کر رہا کہ غیر جانبدار رہے یا صرف خبر ہی سنائے ۔ رائے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ اپنی بات کر رہا ہے ۔ کسی بھی صحافی کی رائے کسی بھی عام شہری کو بظاہر کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی جانب جھکی ہوئی محسوس ہو سکتی ہے اور ایسا ہونا کوئی انہونی نہیں ۔
اس کے بعد بات ہو جائے اختلاف رائے کی ۔ ضروری نہیں کہ دو افراد ہمیشہ ایک جیسی رائے رکھتے ہوں ۔ اسی طرح صحافی بھی اختلاف کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی رائے کے جواب میں دلائل سے اپنی رائے کو وزنی ثابت کرتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اختلاف رائے کسی بھی معاشرے کا حسن ہوتا ہے مگر یہ حسن تب تک ہوتا ہے جب دونوں فریقوں کی رائے متوازن ہو یا اس کی بنیاد کسی حرص، ترغیب و دباؤ کے زیر اثر نہ ہو ۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اختلاف رائے ہونا چاہئے مگر مخالفت نہیں ۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں ۔ اختلاف رائے اس وقت تک ہو سکتا ہے جب معاملہ واقعی آئین و قانون کے تحت ہو ۔ جہاں کہیں معاملہ اس سے باہر نکلے اس کی مخالفت بھی کی جا سکتی ہے ۔ اگر پاکستان میں کوئی شخص کہے کہ ہمارے مسائل کا حل پارلیمانی سیاست یا سول قیادت کے بس کی بات نہیں تو اس سے اختلاف نہیں کیا جائے گا بلکہ مخالفت کی جائے گی کیونکہ یہ اس ملک کے آئین میں لکھا ہے کہ مارشل لا لگانے والا ملک سے غداری کا مرتکب ہوگا ۔ جس طرح مارشل لا لگانے والا غداری کا مرتکب ہوتا ہے اسی طرح فوج یا جرنیلوں کو سول قیادت کے خلاف اکسانے والا بھی معاشرے سے غداری کرتا ہے کیونکہ فوج کا کام آئین میں واضح طور پر درج ہے ۔
جب وفاقی وزیر شیخ رشید نئے پاکستان میں ریلوے بغیر کسی ٹینڈر کے جرنیلوں کے کاروباری اداروں این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کے حوالے کرنے کی بات کرے گا تو اس سے اختلاف رائے نہیں ہوگا مخالفت کی جائے گی ۔ قانون میں لکھا ہے کہ جو بھی سرکاری ٹھیکہ دیا جائے گا اس کیلئے  پبلک پروکیورمنٹ قواعد پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا ۔ جب شیخ رشید کہتے ہیں کہ وہ ان قواعد اور طریقہ سے ماورا ہو کر ریلوے کو ٹھیکے پر دینا چاہتے ہیں تو دراصل وہ سنگین بے ضابطگی کے ارتکاب کا اعلان کر رہے ہیں اور اس پر نیب فوری ردعمل دے سکتی ہے ۔ شیخ رشید ریلوے کو خواہ این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کے بھی حوالے کریں تب بھی یہ ملکی قوانین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، کابینہ منظوری دے گی، پی سی ون ہوگا اور ٹینڈر ہوں گے ۔

جب حکومت یا اس کا کوئی وزیر ایسا نہیں کرے گا تو اس سے اختلاف نہیں اس کی مخالفت کی جائے گی ۔ اور وہ حکومت جو عوام کے ووٹ سے زیادہ خلائی مخلوق کی مدد سے اقتدار میں آئی ہو تو اس کی مخالفت تو ہر ذی شعور کو کرنا چاہئے کہ اس ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے ۔ اب یہ مخالفت سوشل میڈیا پر ہی کی جا سکتی ہے کنونشنل میڈیا تو بدترین سنسرشپ کا شکار ہے ۔

متعلقہ مضامین