ٹرمپ نے جنسی سکینڈل چھپانے کیلئے رقم دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے جنسی تعلق کے بارے میں خاموش رہنے کیلئے خواتین کو رقم ذاتی جیب سے دی تھی انتخابی مہم کیلئے قائم فنڈز سے نہیں ۔ ٹرمپ کے سابق وکیل مائیکل کوہن نے اقرارِ جرم کیا تھا کہ انھوں نے 2016 کے انتخابات میں خواتین کو خاموش رکھنے کے لیے رقم دے کر قانون کی خلاف ورزی کی تھی ۔

امریکی نیوز چینل فاکس کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ رقم خود انھوں نے دی تھی اور یہ مہم کی رقم سے نہیں آئی ۔ صدر ٹرمپ کا انٹرویو جمعرات کو نشر ہوگا، لیکن اس کے کچھ حصے سامنے آئے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ انتخابی مہم کے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ رقم میں نے دی تھی۔ میں نے اس کے بارے میں ٹویٹ بھی کیا تھا۔ یہ مہم کے پیسے میں سے نہیں آئی۔  انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں اس کے بارے میں بعد میں پتہ چلا ۔ تاہم ان کے وکیل کوہن نے اس کے برخلاف حلف اٹھا کر کہا ہے کہ صدر نے انھیں یہ رقم ادا کرنے کی ہدایت کی تھی ۔

جولائی میں کوہن نے ایک ٹیپ جاری کی تھی جس میں صدر ٹرمپ مبینہ طور پر رقم کی ادائیگی کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔ اپریل میں پورن سٹار سٹارمی ڈینیئلز کے ساتھ جنسی تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھیں اس رقم کے بارے میں کچھ معلوم نہیں جو ان کے وکیل کوہن نے ڈینیئلز کو دی تھی ۔

سٹارمی ڈینیئلز نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ان کے ساتھ 2006 میں ایک ہوٹل کے کمرے میں سیکس کیا تھا۔ جب ایک رپورٹر نے اس وقت صدر ٹرمپ سے پوچھا تھا کہ کوہن کے پاس ڈینیئلز کو دینے کے لیے رقم کہاں سے آئی تو انھوں نے کہا تھا ‘مجھے نہیں پتہ ۔’

اس کے اگلے مہینے ٹرمپ نے کہا کہ کوہن کو 2016 میں ایک لاکھ اورڈھائی لاکھ ڈالر کے درمیان ادائیگی ہوئی تھی۔ کسی سیاسی امیدوار کے بارے میں پریشان کن خبریں دبانے کے لیے رقم دینے کو امریکی مالیاتی قانونی کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے ۔ خود کوہن تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے سیاسی مہم سے متعلق مالیاتی قانون توڑا ہے ۔

بی بی سی کے مطابق کوہن ایک عشرے تک ٹرمپ کے وکیل رہے ہیں اور انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے دو خواتین، سٹارمی ڈینیئلز اور کیرن میک ڈوگل کو ٹرمپ کے ساتھ جنسی تعلقات چھپانے کے لیے رقم دی تھی ۔ انھوں نے عدالت میں حلف اٹھا کر کہا کہ انھوں نے ‘امیدوار’ کی ہدایت پر ان خواتین کو رقم دی تھی۔ یہاں امیدوار سے مراد ٹرمپ ہیں ۔ کوہن کے وکیل لینی ڈیوس کا کہنا ہے کہ اگر کوہن پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے تو ٹرمپ پر کیوں نہیں؟ ۔

متعلقہ مضامین