سینٹ میں قائد ایوان کون

وزیراعظم عمران خان نے تاحال سینیٹ میں قائد ایوان مقرر نہیں کیا۔ قائد ایوان سینیٹ کی عدم موجودگی کے باعث سینیٹ کی کاروائی چلانے کے حوالے سے قانونی پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
سینیٹ کا اجلاس 27 اگست بروز پیر ہوگا۔ لیکن سینیٹ کا قائد ایوان کون ہوگا ؟ تاحال معلوم نہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے تاحال کسی کو سینیٹ کا قائد ایوان مقرر نہیں کیا۔
روایت کے مطابق نئی حکومت بنتے ہی وزیراعظم سینیٹ کا قائد ایوان مقرر کردیتے ہیں۔سینیٹ سیکریٹریٹ ذرائع کے مطابق سینیٹ میں حکومتی اور اپوزیشن بینچز کا کوئی تعین نہیں ہوسکا ۔ سینیٹ سیکرٹریٹ اس بات پر مشاورت کر رہا ہے کہ اپوزیشن اورحکومتی بینچز کی عدم موجودگی میں سینیٹ کا اجلاس کیسے چلایا جائے۔ اس حوالے سے ایک تجویز سامنے آئی ہے کہ 27 اگست کو سینیٹ کا اجلاس شروع ہونے کی بعد ملتوی کردیا جائے۔
قائد ایوان کی عدم موجودگی کے باعث سینیٹ کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بھی طلب نہ کیا جاسکا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ مخمصے کا شکار ہے کہ ہاؤس بزنس ایڈوائزری کا ایجنڈا کس قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کو بھیجیں؟
ذرائع کے مطابق سینیٹ سیکرٹریٹ اس حوالے سے بھی تاحال لاعلم ہے کہ کیا سینیٹ کا قائد ایوان کیا وزیراعظم خود ہوں گے؟ اور کیا 27 اگست کو وزیراعظم خود بطور قائد ایوان سینیٹ کی کاروائی چلائیں گے۔
دوسری جانب سینیٹ میں سینیٹر راجہ ظفر الحق کو قائد حزب اختلاف مقرر کرنے کے لیے 40 ممبران سینیٹ کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ راجا ظفرالحق کو مسلم لیگ ن، پی کے میپ، نیشنل پارٹی اور جے یو آئی ف کی حمایت حاصل۔ ذرائع کے مطابق سینیٹ سیکرٹریٹ نے ن لیگ کے حمایت یافتہ 17 آزاد سینٹرز کو کہا ہے کہ وہ 24 اگست تک مطلع کریں کہ اپوزیشن بینچز پربیٹھیں گے یا حکومتی بنچز پر، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا فیصلہ کرنے کی آخری تاریخ 30 اگست ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کو ن لیگ کے حمایت یافتہ ممبران کی اپوزیشن بینچز پربیٹھنے کی درخواستیں موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق قائد حزب اختلاف مقرر ہونے کے لئے راجا ظفرالحق کو اکثریتی ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنا قائد حزب اختلاف نامزد کروانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کو 20 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے

متعلقہ مضامین