عمران کے بعد … ؟

مطیع اللہ جان

یہ جنگ محض عمران خان کی جیت اور شھباز شریف کی انتخابی شکست کے لئیے نہیں تھی۔ یہ بیانئیے کی جنگ تھی اور ھے جسکا ہدف پاکستان کی ہر وہ سیاسی جماعت اور اسکی قیادت ھے جو عمران خان کے بعد جمہوری نظام اور سویلین بالا دستی کے بیانیے کے تسلسل کا جواز فراہم کر سکے۔ لگتا ھے عمران خان کو انکو دئیے گئے اس مینڈیٹ کا بخوبی ادراک ھے ۔ ملک کو درپیش ہنگامی مالیاتی چیلینجز کی بجائے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے خاتمے پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہی وہ ٹاسک ھے جو انہوں نے پورا کرنا ھےجسکے لئیے وہ بلا تاخیر مصروفِ عمل ہیں۔ یہ محض اتفاق یا بھول نہیں کہ عمران خان نے اب تک کی تقریروں میں جمہوریت اور اسکے تسلسل سے متعلق دوسرے وزراٴاعظموں کے برعکس آمرانہ بخل سے کام لیا ھے۔ اب اگر خان کی حکومت آیئندہ چند ماہ میں جنرل ضیئا اور جنرل مشرف کی طرح محکمانہ “وائٹ پیپروں” اور انکی بنیاد پر گذشتہ حکومتوں کے خلاف کرپشن کے نئے مقدمات قائم کرتی ھے تو ہو گا کیا؟ اخباری سرخیوں اور بریکنگ نیوز کے ذریعے سیاسی مخالفین کا بھرپور میڈیا ٹرائل ہوگا ، گرفتاریاں ہونگی، روایتی سرکاری گواہان یا وعدہ معاف گواہان پیدا ہونگے۔ تاریخ دوہرائی جائیگی۔ اس سب کچھ کے باوجود اگر کوئی یہ سمجھتا ھیکہ پیچھے مرکز میں رہ جائیگا ’عمران سب کی شان‘ تو یہ اسکی بہت بڑی بھول ہو گی۔ اس لئیے کہ اس وقت تک وزارت عظمیٰ کے عہدے کی بھی وہ شان نہیں رہیگی جو خان صاحب سوچ رہے ہیں۔

میڈیائی اور قانونی ٹرائل جیسے حالات میں پیپلز پارٹی سندھ میں اقتدار کی خاطر قومی سطح پر مائنس ذرداری پر اکتفا کرنے پر مجبور ہو گی۔ بلاول بھٹو کی زیر قیادت ’غیراعلانیہ ایپکس کمیٹیوں والی جمہوریت‘ پارٹی کی نئی مجبوری ہو گی ۔ ویسی ہی مجبوری جیسے مائنس ذرداری کرپشن کے خلاف بیانیے کی مجبوری ھے۔ دوسری طرف مذکورہ وائٹ پیپروں اور ’ٹرائل‘ کا ہدف مائنس نواز ن لیگ کا قیام ھے۔ پارٹی کمان کی چھڑی اُسی طرح حمزہ شہباز کو سونپی جائیگی جس طرح ذولفقار علی بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی کی کمان بے نظیر بھٹو کو سونپنا فوج کی مجبوری بن گئی تھی۔ مرتضی بھٹو سے بے نظیر بہتر اور حاکمِ وقت کی سیاسی مجبوری تھی کوئی احسان نہیں۔ مرتضی بھٹو الذولفقار تنظیم بنا کر غدار اور دھشت گرد ٹھہرا اور مارا گیا۔ عدالت کے ہاتھوں قتل ہونے والے وزیر اعظم کا بیٹا اپنی وزیر اعظم بہن کی حکومت میں پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس وقت شاید دھشت گردوں کے قومی سیاسی دھارے میں شامل ہونے کی واضح پالیسی نہیں تھی۔ خیال آتا ھیکہ اگر ذولفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل نہ ہوتا تو کیا الذولفقار بنتی؟ اور جب خود پر مرتضی بھٹو جیسا وقت آیا تو ہم نے پہلی افغان جنگ میں اپنے کردار کو ’جہاد‘ قرار دے دیا۔ اسی طرح نائن الیون کے بعد ’دھشتگردی کی اصل وجوہات‘ جاننے کیلئیے امریکہ پر زور دیتے رہے۔ کبھی ہم نے سوچا کہ الذولفقار کے بننے کی اصل وجوہات کیا تھی اور اسکا ذمے دار کون تھا؟ قومی سیاستدانوں کو آج پھر اس دوھرائے کی طرف طرف دھکیلا جا رہا ھے۔ بہرحال غیر مہذب اور آمرانہ معاشروں میں سیاسی جماعتوں کے اندر کمان کی تبدیلی ایسے ہی بنا کسی تقریب یا بینڈ کے ہوتی ھے۔

مرتضی بھٹو کے برعکس مریم نواز خوش قسمت ھے کہ اسکے والد صاحب صرف جیل میں ڈالے گئے ھیں۔ اسی لئیے ۱۹۸۸ والی مقتول وزیر اعظم باپ کی بیٹی بے نظیر بھٹو بننا شاید اسکے لئیے اتنا مشکل نہ ہو۔ ویسے آج بھی اگر نواز شریف چاہیں تو سیاست سے دستبرداری کا اعلان کر سکتے ہیں جسکے بعد فیصلہ مریم نواز کا ہو گا۔ کہ وہ مرتضی بھٹو بننا چاہتی ہیں یا بے نظیر بھٹو۔ یا پھر ۱۹۸۸ والی بی بی یا دو ہزار سات والی جس نے جنرل مشرف کی افغانستان پر دوغلی پالیسی کو بے نقاب کیا تھا۔ ایک بات طے ھے بے نظیر بھٹو کے ساتھ ۱۹۸۸ اور پھر دو ہزار سات کے تجربے کے تجربے کے بعد مریم نواز کو آزمانا مشکل ہو گا۔ کسی عوامی مقبولیت کی اہلیت والی سیاسی شخصیت کو اس وقت تک اقتدار میں نہیں آزمایا جا سکتا جسکی کسی خطرناک کمزوری کی چابی ۵۰۱ ورکشاپ میں تیار نہ ہو چکی ہو۔ اور ویسے بھی ان دس سال میں سزا و جزا کے طریقوں میں بڑی جدت آ گئی ھے۔ سیاسی انجینئیرنگ کے شعبے نے بھی بہت ترقی کر لی ھے۔ آمرانہ قووتیں تقریباً پسِ پردہ ہیں۔ تقریباً اس لئیے کہ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ میڈیا ، مقابلتاً جونیجو لیگ سے بہتر عوامی مقبولیت والی جماعت، سوشل میڈیا فورس، عدلیہ، نیب ۱۹۹۰ سے کئی گنا زیادہ ’آزاد منش‘ خفیہ اداروں کی حمایت کے ہوتے ہوئے شاید مرتضی بھٹو یا دو ہزار سات والے بی بی کے انجام کی نوبت نہیں آئیگی۔ اب محض حمزہ شہباز کو ہی پنجاب میں ۱۹۸۸ والی بے نظیر بھٹو بنانا کافی ہو گا جسکے بعد پارٹی کے اندر تقسیم کے آثار پیدا ہو سکتے ہیں۔ آخر بغیر کسی ’بیانیائی سمجھوتے‘ کے حمزہ کو وہ سیٹمل بھی کیسے سکتی ھے۔ ایسے میں مسلم لیگ بے نون ہو کر اپنی تاریخی روایات کے عین مطابق نئی قیادت میں ’غیراعلانیہ ایپکس کمیٹیوں کی جمہوریت‘ کا حصہ بنے پر مجبور ہو سکتی ھے۔ ویسے بھی سندھ تک محدود آج کی پیپلز پارٹی ایسی جمہوریت پر راضی دکھتی ھے اور ن لیگ کو ناراض کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ دونوں جماتیں روایتی احتساب کے ہاتھوں روایتی سیاست پر مجبور دکھائی دے رہی ہیں۔ ’بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی‘ کے مصداق اقتدار صوبے میں بھی مل جائے تو ’خدا کا شکر ادا کرنا چاہئیے۔‘ وگرنہ پھر فتووں کی فیکٹروں نے پھر سے فعال ہونے میں کونسی دیر لگانی ھے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ کرپشن کی طویل قطار میں سب سے آگے کھڑے کئیے گئے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے دو بکروں کے لئیے ہی چھریاں کیوں تیز کی جا رہی ۔ انہیں ذبحہ بھی نہیں کیا جاتا اور بس چھریاں دکھا دکھا کر سدھانے کا کام جاری ھے۔ یہ ڈرامہ جنرل ضیئا الحق کے دور سے جاری ھے اور عوام ہجوم کی مانند تیس سال سے چھری پھرنے کے منتظر ہیں۔ (عوام بیچارے تو کوڑے مارے جانے کے مناظر بھی خوب دیکھتے تھے)۔ بدقسمتی سے اس کام کے لئیے ہاتھوں میں چھریاں اُٹھائے لائے گئے قصائی بھی وہ اناڑی ہیں جو اپنی دہاڑی کیلئیے قربانی کا جانور حرام کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ویسے بھی چھری پھر گئی تو ان سے بڑے سینگوں والے بکروں کی باری بھی آ جائیگی جن کے قریب جانا بھی اناڑی قصائیوں کے لئیے جان لیوا ہو سکتا ھے۔ مقصد شاید ان بکروں کو اتنا سہما ہو کرنا ھے کہ اپنے رولے سے چودھری کی نیند نہ حرام کردیں۔ یوں چودھری کے بکروں کی بھی باری کبھی نہ ائے گی۔ کیا عمران خان کو جان بوجھ کر ایک ایسے آناڑی قصائی کا کام دیا گیا ھے جس کا ہاتھ بکرے کی گردن پر کُھنڈی چھری کے ساتھ کانپ رہا ھے اور قربانی حلال ہونے کی بجائے حرام ہونے کو تیار ھے۔ آخر پینسٹھ سال سے زائد عمر کا ہشاش بشاش قصائی اپنی کپکپاہٹ ہر وقت تو نہیں چھپا سکتا۔ جب دونوں بکرے اپنے انجام (سیاسی) کو پہنچ جائیں گے تو پھر رہ جائے گا عمران، سب کی شان، بنے گا نیا پاکستان۔

اور خان اگر بچ بھی گیا تو آج تک کسی نے یہ سوچا ھیکہ کے سونی رہ جانے والی اقتدار کی گلیوں میں جب عمران یار پھرتے پھرتے جب بھی ’تھک گیا‘ تو اسکے بعد کون آئیگا؟ ’جب جائے گا ’عمران سب کی شان ……‘ تو پھر کیا ہو گا ؟ یہ وقت جلد یا پانچ سال بعد بھی آ سکتا ھے۔ لگتا نہیں ھیکہ جن لوگوں نے زرداری اور نواز شریف کو سیاست سے باہر کرنے کے لئیے اتنے پاپڑ بیلے انکے پاس عمران خان کے بعد کا کوئی پلان نہیں۔ نواز شریف اور ذرداری کا ’مسئلہ‘ دکھاوے کیلئیے ہی سہی عوامی مینڈیٹ اور جمہوریت کا ذعم بھی رہا ھے۔ اب کی بار لائے گئے اناڑی قصائی کا بظاہر ایسا کوئی دکھاوے کا بھی مسئلہ نہیں۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر دونوں پرانے لیڈرران طاقت ور اداروں کے اندر کے معاملات اور انکے مستقبل کی کاروباری اُڑان سے بخوبی واقف اور اس میں بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے تھے۔ شاید زیادہ حصہ مانگنا شروع ہو گئے تھے۔ ان دونوں کے پیچھے دو بڑی سیاسی جماعتوں اور عوامی مینڈیٹ کی وہ طاقت بھی تھی جسکو ایک تیسرے سیاسی بیانیے کی طاقت کے ذریعے ختم تو نہیں کیا جا سکا مگر صوبوں تک محدود کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ ایک طویل عرصے تک حوالدار اینکروں اور ٹھیکیداروں کے نئے ٹی وی وی چینلوں کی مدد سے عوام کے ذہنوں میں تسلسل کے ساتھ نواز، ذرداری اور جمہوریت کے خلاف ذہر بھرا گیا۔ اور اس باعث ایسے سیاسی دور کا آغاز ہوا جس میں جمہوریت ، ووٹ کی طاقت اور سویلین بالادستی کی بات کرنا ملک دشمنی اور غداری کہلایا۔ ایسی باتیں کرنے والوں کو ملک دشمن، فوج دشمن اور دھشت گردوں کے نشانے پر قرار دے کر انہیں بطور سیاستدان، صحافی اور تجزیہ کار معاشرے میں تنہا کرنے کی گھٹیا کوشش آج بھی جاری ھے۔ بندوق کی نالی سر پر اور کاروباری بوٹ پیٹ پر رکھ کر جمہوریت کا نام لینے والوں کو ’خاموشی کی زبان‘ سکھائی جا رہی ھے۔ اور دوسری طرف عوام کو سرکاری میڈیا میں سینسر شپ ختم کرنے کا لال پاپ دیا جا رہا ھے۔وجہ صاف ظاہر ھے، سویلین بالادستی اور جمہوریت کی باتیں خلائی مخلوق کو خدائی مخلوق کے سامنے جوابدے بناتی ہیں۔

آج وہ دور آ گیا ھے جس میں حاکمِ وقت کو اقتدار کے نشے میں رکھ کر ملک کے تمام کاروبار، وسائل اور اداروں پر قبضے کی راہ ہموار کی جا رہی ھے۔ مقصد ھیکہ آنے والے معاشی بحران کا اثر کسی ادارے سے پہلے ملک اور حکومت پر بے شک پڑے۔ ایسے میں محض ریلوے تو کیا تمام محکمے و وزارتوں کے اثاثے بہتر کارکردگی اور شفافیت کے قانونی معیارات کو بالائے طاق رکھ کر فوج کے حوالے کئیے جا سکتے ہیں۔ میڈیکل، شاہراہوں، ٹیلی کام، ایجوکیشن، ہیلتھ، تجارت، پیٹرولیم، میڈیا، داخلہ، آئی ٹی، انڈسٹری اور کونسا ایسا شعبہ بچ گیا ھے جس متعلق فوج میں الگ کور نہ ہو۔ اور آج جو خان کا چپڑاسی نہ بن سکتا تھا اس نے وزیر بن کر چپڑاسیوں والا فرض خوب نبھایا ھے مگر وہ بھی عوام کے اثاثوں کا نہیں کسی اور کا۔ ریلوے میں بڑی بہتری کے باوجود اس کے بڑے حصے بغیر ٹینڈر کے فوج کے حوالے کرنے کا اعلان کرپشن کا سر عام اعتراف نہیں تو کیا ھے؟ ھے کوئی عدالت جو اس فرزند راولپنڈی کو ہاتھ بھی لگائے؟

جب حکومت معاشی طور پر کمزور اور اسکا کوئی ماتحت ادارہ معاشی طور پر طاقت ور ہو تو یہ جاننے کیلئیے کسی پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں ہوتی کہ حکم کس کا چلتا ھے۔ آج تک کسی نام کی سیاسی حکومت کو بھی یا پھر پارلیمنٹ کو افواج پاکستان کے کاروباری معاملات و آمدنی کے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی دفاعی مقاصد کے لئیے حاصل کی گئی حکومتی اراضی و حکومتی وسائل کے کاروباری استعمال سے متعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو کچھ عسکری اداروں نے باقاعدہ تفصیلی سالانہ آڈٹ کرنے دیا ھے۔ دنیا بھر کے خفیہ ادارے اپنے مالی معاملات پر حکومت اور پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹیوں کو جوابدے ہیں، ہمارے ادارے کیوں نہیں؟ ہماری آپاہج یا آپاہج بنائی گئی تمام سیاسی حکومتیں اس معاملے میں اپنی کمزوریوں اور مخصوص میڈیا پر انکی تشہیر سے بلیک میل ہو کر اس جانب توجہ دینے سے ڈرتی رہی۔ کبھی سپریم کورٹ اور کبھی پارلیمنٹ کی پبلک اکائنٹ کمیٹی میں ان اداروں کے آڈٹ سے متعلق بڑکیں ماری گئی اور پھر بس۔ ایسے میں ’فارنسک آڈٹ‘ کا نیا فیشن آ گیا ھے اور وہ بھی عدالتی کاروائیوں میں۔ کسی میں ہمت ھے تو فارنسک نہ سہی آئینی ادارے آڈیٹر جنرل کی وزارت دفاع کی باقاعدہ شائع شدہ آڈٹ رپورٹوں کا ہی نوٹس لے کر ڈیم فنڈ بھر کر دکھا دے۔ مگر نہیں اب تو خان حکومت بھی فارنسک آڈٹ کے فیشن کی دلدادہ ہو کر آڈیٹر جنرل کے آئینی ادارے کو جوتے کی نوک پر رکھ رہی ھے۔ چلیں ہیں قومی بچت مہم پر۔ فارنسک آڈٹ تو واجد ضیا کا بھائی مفت کرنے لندن سے پاکستان آئیگا ناں؟

اب صورت حال یہ ھیکہ پاک چائنا اقتصادی شاہراہ کے منصوبے پر بھی نظریں گڑی ہیں۔ سیکیورٹی صورت حال میں بہتری کے دعووں کے باوجود معیشت، سیاست ، حکومت، اور انتخابی عمل میں سیکیورٹی کا عنصر کم ہونے کی بجائے غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ھے۔ ’دیوار کیا گری میرے خستہ مکان کی………لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لئیے۔‘ ہماری حکومتیں مدت پوری کرنے واسطے منتیں ترلے کرتی رہی اور کچھ ماتحت ادارے اپنے کاروباری مفادات کی خاطر آئیندہ پچاس سال کی منصوبہ بندی کر کے بیٹھے ہیں۔ اس طویل المدت منصوبے میں یا تو جمہوریت ھے نہیں یا پھر جونیجو، معین قریشی، شوکت عزیز، ظفر اللہ جمالی، چودھری شجاعتاور عمران خان کی بھٹکتی روحیں حکومتی ایوانوں میں نظر آ رہی ہیں۔

ایسے میں عمران خان کا مینڈیٹ بظاہر رہی سہی جمہوریت اور جمہوری روایات اور جمہوری اداروں کی نشانیوں کو بھی ختم کرنا لگتا ھے۔ ایوان صدر، وزیر اعظم ہاوٴس، گورنر ہاوٴس، وزراٴعلی ہاوٴس، بے شک شاہ خرچیوں کا گڑ بنے رہے مگر یہ عمارتیں پاکستان میں بچی کھچی سویلین و جمہوری طاقت کی علامت ہیں۔ خرچے کم کرنے کی بجائے ریاست اور ریاستی اداروں کی علامت عمارتیں اگر فضول خرچی قرار دے کر گرائی گئی یا ان کا استعمال بدل دیا گیا تو عوام کی نظروں اور انکے کے ذہنوں سے ہمارے مخصوص جمہوری عمل و اسکی تاریخ کے نقوش بھی مٹ جائینگے۔ ایسا پہلے بھی ہوا اور اب بھی جاری ھے۔ اپنی بائیس سالہ جدو جہد کا دم بھرنے والے وزیر اعظم کو شاید یاد بھی نہ ہو کی راولپنڈی کی فاطمہ جناح یونیورسٹی کی عمارت میں بھٹو اور جنرل ضیئا کے ادوار میں کیا تاریخ رقم ہوئی۔ اسی عمارت کے قریب بھٹو کی پرانی آڈیالہ جیل والی پھانسی گھاٹ کو اسکی دختر مشرق بے نظیر بھٹو دو بار وزیر اعظم منتخب ہونے اور زرداری حکومت پانچ سال مدت پوری کرنے کے باوجود قومی ورثہ قرار دینے میں آخر کیوں ناکام رہی؟ اس جگہ کو قومی ورثہ قرار دینے سے روکنے کیلئیے کبھی راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے ’نشان حیدر پارک‘ تو کبھی ’جناح پارک‘ کا نام استعمال کیا ۔ آخر یہ کونسی قووتیں ہیں جو قوم کے شہیدوں کے لہو کے پیچھے چھپ کر جمہوری قائدین، آئینی اداروں اور انکی نشان عمارتوں کا قبر تک پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں؟ کیا ہماری قوم کے شہیدوں نے کسی فوجی آمر کی حکومت یا آئین اور اپنے حلف کے برخلاف آمرانہ سازش کرنے والوں کی خاطر اپنی جانیں قربان کی تھیں؟ ہر گز نہیں۔ ہماری قوم کے نشان حیدر قدم بوسی کے حقدار ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے حلف کے مطابق ہمارے پیارے ملک پاکستان اور اسکی آئینی سرحدوں کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شھادت نوش کیا۔ ایسے میں کیا ان شہیدوں کے نام حلف کے برخلاف کسی سازش یا سیاسی مفاد کے لئیے استعمال کرنا ایک گھناوٴنا فعل نہیں ہو گا؟

کیا عمران خان کو بھی اپنے آئینی حلف کے مطابق ماتحت اداروں کو انکی قانونی حدود میں رکھنے کیلئیے ٹھوس فیصلے نہیں کرنے چاہیں؟ بطور وزیر آعظم عمران خان کو جمہوریت اور سویلین بالادستی کے اصول کا سر عام اعادہ کرتے ہوئے شرمانا نہیں چاہئیے۔ خان صاحب کو پارلیمنٹ میں قائم جمہوریت کے شہدا کی یادگار، دستور گلی اور سینٹ کے میوزیم میں موجود ہماری درخشندہ سیاسی تاریخ کا سامنا کرنے سے بھی نہیں کترانا چاہئیے۔ یہ وہ تاریخ ھے جسے دیکھ کر عمران خان کو اپنی ’بائیس سالہ جدو جہد‘ کا دوبارہ ذکر کرتے شرم ضرور آئیگی۔ انہیں احساس ہو گا کہ جو عہدہ، اقتدار و رُتبہ انکو تھالی میں رکھ کر پیش کیا گیا ھے اسکی بنیادوں میں محمد علی جناح کے اصل وارثوں کا خون ھے نہ کہ راولپنڈی میں ’جناح پارک‘ کے منتظمین کا۔ جو حلف خان صاحب درست تلفظ سے نہ پڑ سکے اس حلف کا درست مفہوم ضرور کسی سے سمجھ لیں۔ جراٴت کا مظاہرہ تو محمد خان جونیجو جیسے چُنے ہوئے وزیر اعظم نے تیس سال پہلے ہی کفایت شعاری مہم سے کر لیا تھا۔ تیس سال بعد ایک منتخب وزیر اعظم کو اس سے زیادہ جراٴت دکھانا ہو گی چاہے کفایت شعاری کے محاذ سے ہی آغاز کر لیں۔ بطور قوم کے لیڈر آپکو نون لیگ اور زرداری سے آگے کا بھی سوچنا ھے۔ آپکے بعد کیا ہو گا؟ آپکی پارٹی میں کیا ہو گا؟ جمہوریت کا مستقبل کیا ہو گا؟ اگر ان سوالوں کے جواب آپ کے پاس بھی نہیں تو ابھی بھی وقت ھے سمجھ جائیں۔ اگر آپ ان سوالوں کے ٹھوس جواب نہیں دینگے تو عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ آپ کرپشن کو نہیں جمہوریت کو دفنانے کیلئیے بطور گورکن لائے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین