چیف جسٹس اور وکیل خواجہ حارث میں مکالمہ

سپریم کورٹ نے نواز شریف اور دیگر کے خلاف نیب ریفرنسز کو مکمل کرنے کی مدت میں پانچویں مرتبہ توسیع کر دی ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب عدالت العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل 6 ہفتوں میں مکمل کرے، احتساب عدالت ہر ہفتے سپریم کورٹ کو ٹرائل سے متعلق رپورٹ دے ۔

احتساب عدالت کے جج کی ٹرائل کی مدت میں توسیع کیلئے دی گئی درخواست کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کے خلاف ہائی کورٹ میں زیر التواء اپیل پر بھی دلائل دینے ہیں، ہائیکورٹ کی اپیلوں پر فیصلے تک کارروائی روکی جائے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ٹرائل ریگولیٹ نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ ٹرائل مکمل کرنے کیلئے کتنا وقت درکار ہوگا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ واجد ضیاء اور تفتیشی کے بیانات قلمبند ہونا باقی ہیں ۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں بیک وقت دو مختلف جگہوں پر جاکر دلائل نہیں دے سکتا، 15 دسمبر تک کا وقت دیا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اتنا وقت نہیں دے سکتے، شریف خاندان کیخلاف مقدمات کا فیصلہ ترجیح بنیادوں پر ہونا چاہیے ۔

شریف خاندان کے وکیل اور چیف جسٹس کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی ہفتہ اور اتوار کو کیس چلانے کا کہا لیکن آپ ناراض ہوگئے، آپ نے احتجاج کیا اور یہ تک کہہ دیا میں کیس چھوڑ دوں گا ، آپ نے چیف جسٹس کے بارے میں بھی کچھ کہا ۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ نہ کہیں میں نے ایسا نہیں کہا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آن آ لائٹر نوٹ، آپ کہتے تو نہیں لیکن کر جاتے ہیں ۔ وکیل نے کہا کہ 30 نومبر تک وقت دیدیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چھ ہفتے دے رہے ہیں، ضرورت پڑنے پر مزید وقت دے دیں گے ۔ وکیل نے کہا کہ وقت بڑھایا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر ہم کہہ دیتے ہیں جیل میں ہی رہیں اپیل بعد میں سن لیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایک لفظ کہہ دیں گے پھر آپ ناراض ہوجائیں گے ۔ وکیل نے کہا کہ آپ وہ لفظ نہ کہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہفتے اور اتوار کو ہم کام کرسکتے ہیں تو آپ بھی کرلیں۔

عدالت نے چھ ہفتے میں بقیہ دو ریفرنسز کو نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے احتساب عدالت کے جج کی درخواست نمٹا دی ۔

متعلقہ مضامین