مشرف – زرداری کے اثاثوں کی تفصیلات طلب

این آر او قانون سے خزانے کو نقصان کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اثاثوں سے متعلق آصف زرداری کے بیان حلفی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے زرداری کے دو ہزار سات سے لے کر اب تک کے ملکی و غیر ملکی اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لیں ۔ عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف اور ان کی اہلیہ کے پاکستان میں اثاثوں، بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی مانگ لیں ۔

سپریم کورٹ میں این آر او (قومی مفاہمتی آرڈی نننس) سے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی درخواست کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ عدالت میں جسٹس عمر عطا نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی طرف سے اپنی جائیداد کی معلومات پر مشتمل بیان حلفی کو مشکوک قرار دیا ۔ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل محتلف مقدمات میں نو سال تک جیلوں میں رہے جبکہ اُن کے خلاف درج ہونے والے مقدمات میں 40 گواہان پیش ہوئے اور کسی ایک گواہ نے بھی ان کے خلاف بیان نہیں دیا ۔

اُنھوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے خلاف تمام مقدمات کا فیصلہ ہوچکا ہے جس میں وہ بری ہوچکے ہیں جس پر بینچ میں موجود عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ مقدمات اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچے بلکہ احتساب عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں اعلی عدالتوں میں زیر التوا ہیں ۔

سابق صدر کے وکیل نے کہا کہ اُنھیں نیا بیان حلقی جمع کروانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن عدالت نے اُنھیں دوہری مصیبت میں ڈال دیا ہے ۔ بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس بیان حلفی کی تحقیقات کے لیے نہیں کہہ رہے بلکہ عدالت یہ چاہتی ہے کہ وہ گزشتہ دس سال کے اپنے ذرائع آمدن اور جائیداد کی تفصیلات بتائیں۔

سابق صدر کے وکیل نے کہا کہ اس طرح تو کسی سے سرٹیفکیٹ نہیں مانگا جاتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آصف علی زرداری کوئی عام آدمی نہیں ہیں بلکہ قومی لیڈر ہیں ۔ اُنھوں نے فاروق ایچ نائیک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے موکل ان الزامات سے بری ہوگئے تو اُنھیں کلین چٹ مل جائے گی جس کا اُنھیں مستقبل میں سیاسی طور پر بھی فائدہ ہوگا۔

گزشتہ روز آصف علی زرداری کی طرف سے اپنی جائیداد کے بارے میں جمع کروائے گئے بیان حلفی میں کہا تھا کہ آج کے دن تک ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں ہے ۔ یاد رہے کہ سنہ 2005 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بینظیر بھٹو کے ساتھ مفاہمت کے نتیجے میں این آر او جاری کیا تھا جس کی وجہ سے آصف علی زرداری اور دیگر ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات کو ختم کر دیا گیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا تھا ۔

سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ نے اپنے موکل کا غیر تصدیق شدہ بیان حلفی جمع کروایا جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پرویز مشرف کی بیرون ملک جائیداد کی کل مالیت 54 لاکھ درہم ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سابق فوجی صدر کی تمام تنخواہیں بھی اکٹھی کر لی جائیں تو پھر بھی اتنی رقم نہیں بنتی ۔

پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ اُن کے موکل کو پیسے بیرون ملک لیکچرز دینے کی مد میں ملے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "میں بھی ریٹائرمنٹ کے بعد لیکچر دینا شروع کردوں تو کیا مجھے بھی اتنے پیسے ملیں گے”۔ عدالت نے مشرف کے وکیل کو حکم دیا کہ وہ دس دنوں میں سابق صدر اور ان کی اہلیہ کے پاکستان میں اثاثوں، بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کر دیں، سپریم کورٹ نے آصف علی زرداری کے بیان حلفی کے لیک ہونے پر اپنے دفتر کے سٹاف کو بلالیا ۔ چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے استفسار کیا کہ یہ آپ نے تو لیک نہیں کی، جس ان کا کہنا تھا کہ ھم نے لیک نہیں کی۔ میں تو کسی پروگرام میں بھی نہیں جاتا، سپریم کورٹ کا اثاثوں سے متعلق آصف زرداری کے بیان حلفی پر عدم اطمینان اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا، اور آصف زداری کو نیا بیان حلفی جمع کرنے کا حکم دے دیا ۔ آصف زرداری سے 2007کے بعد سے اندرونی اور بیرونی اثاثوں کی تفصیلات پندرہ دن میں طلب کر لیں، عدالت نے کہا کہ آصف علی ذرداری یہ بھی ظاہر کریں کہ وہ کسی ٹرسٹ کے ہیڈ یا ممبر تو نہیں ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آصف علی زردای کا کوئی سوئٹزر لینڈ میں اکاونٹ ہے، کیا بے نظیر بھٹو شھید یا بچوں کے نام پر کوئی اکاونٹ ہے، فاروق نائیک نے کہا کہ وہ ذرداری سے پوچھ کے بتائیں گے ۔

فاروق نائیک نے دلائل دیئے کہ ایک شخص بے بنیاد اخباری تراشے پر درخواست دائر کر دیتا ہے اور میڈیا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے، زرداری نے جیل کاٹی، پھر بھی اس کو یہاں لا کر کھڑا کیا جائے اور یہ عمل کبھی ختم نہ ہو، میرے موکل کی غلطی ہے کہ وہ سیاست دان ہے، آصف علی زرداری کو 9 سال قید کا کچھ صلہ تو ملنا چاہیے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم چاہتے ہیں کہ جو تہمت لگی ہے وہ ختم ہو، ہم تو صرف الزمات دیکھ رہے جو لگائے گئے ہیں، سپریم کورٹ کی طرف سے کلئیرنس کی صورت میں ہی سند مل سکتی ہے ۔ تین رکنی بینچ نے این آر او کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کو بھی گذشتہ دس سال کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کا حکم دیا ۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

 

 

 

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے