انصافی وزیر کی زبان پر ردعمل

 تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کے وزیر اطلاعات  فیاض الحسن چوہان ٹی وی چینل اور تقریب میں بے غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے پر خبروں میں ہیں اور سوشل میڈیا صارفین نے ان پر شدید تنقید کی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت کارکردگی سے زیادہ اپنے وزیروں کی وجہ سے میڈیا پر تبصروں کی زد میں ہے ۔

فیاض الحسن چوہان صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت کا قلمدان سنبھالنے سے قبل بھی اپنی زبان کے غیر محتاط استعمال کیلئے مشہور تھے جیسے انہوں نے ٹی وی مباحثوں میں مخالفین کو ‘خلائی کھوتا’ اور ‘مونچھوں والا بندر’ کے القابات سے نوازا تھا ۔

بطور وزیر اطلاعات ایک تقریب میں شرکت کے دوران اسٹیج پر گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نےکہا ہے کہ پنجاب کے کسی سنیما گھر کے باہر اگر فحش بورڈ لگا تو پہلے اس پر جرمانہ ہوگا اور اگر پھر بھی ایسا کیا گیا تو وہ سنیما گھر بند کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے خواتین کی موجودگی میں کہا کہ اداکارہ نرگس کو حاجی نرگس نہ بناتا تو پھر آپ کہتے ۔ چوہان کا تھا کہ یہ کوئی انسانیت ہے کہ نیم برہنہ عورتوں کی تصاویر پرنٹ آؤٹ کر کے باہر لگا دی جائیں ۔ ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس پر شہریوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔

اس سے قبل فیاض الحسن چوہان نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں طلال چودھری کے نام بگاڑ کر دلال کہا تو اینکر نے ان کو روک دیا جس کے بعد چوہان نے چینل کے اسٹاف کو گالیاں دیں ۔ اس واقعہ کی لیک ہونے والی ویڈیو میں نازیبا زبان کے استعمال پر انہوں نے بعد ازاں معذرت کی ہے ۔

اپنی ٹویٹ میں چوہان نے کہا کہ آف دی کیمرہ کلپ چلانا صحافت کی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ پورے پروگرام میں تحمل کے ساتھ انتہائی منفی سوالات کے جواب دیے، پروگرام ختم ھونے کے بعد آف کیمرہ میرے متعلق کلپ چلایا گیا ۔ لیکن اس کے باوجود میں اپنے آف کیمرہ رویے پر معذرت خواہ ہوں ۔

فیاض چوہان کی ایک اور ویڈیو بھی منظرعام پر آئی ہے جس میں وہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پولیس اہلکار ممتاز حسین قادری کے مزار پر حاضری دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیربحث ہے ۔

فیاض الحسن چوہان کا ماضی میں جماعت اسلامی پاکستان سے تعلق رہا ہے تاہم بعد میں انھوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ سنہ 2018 کے انتخابات میں انھوں نے راولپنڈی کے حلقہ پی پی 17 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

فیاض الحسن چوہان سوشل میڈیا پر بھی خاصے سرگرم ہیں اور انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا کا انھوں نے پھرپور استعمال کیا تھا ۔ فیاض الحسن چوہان کے ٹوئٹر پر ان کے اکاؤنٹ پر تعارف میں انھوں نے حضرت عمر فاروق اور اڈولف ہٹلر کو اپنا پسندیدہ حکمران قرار دیا تھا تاہم صوبائی وزیر بننے کے بعد فیاض الحسن چوہان نے اپنے تعارف میں سے اڈولف ہٹلر کا نام حذف کر دیا ہے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے