اخلاقیات کا خیال رکھنا چاہیے

محمد عاصم

آج ہم ۲۱ ویں صدی  میں سانس لے رہے ہیں ۔ جہاں ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے ۔ آج کی دنیا میں ہر انسان اپنی رائے کا اظہار آسانی کے ساتھ کرتا ہے البتہ رائے کے اظہار میں الفاظ کے چناو کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔ اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بحثیت مسلمان ہم وہ اسلامی تعلیمات کو بھول چکے ہیں جن سے معاشرے میں امن قائم ہوسکتا ہے۔

آج ہمارے پاس سوشل میڈیا کے طور پر ایک ایسا آلہ آ چکا ہے جس کے ذریعے ہم لوگوں کی رائے پر اُن کے خلاف غیر اخلاقی گفتگو کرتے ہیں، لمحہ فکریہ ہے کہ آج کل سیاست دان بھی ٹی وی پر بیٹھ کر غیر مہذب گفتگو کرتے ہیں ۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ جب ایک حکومتی وزیر ٹی وی پر بیٹھ کر غیر اخلاقی گفتگو کرے گا تو اس ملک کے نوجوان اور عوام کو کیا پیغام ملے گا۔ آج معاشرے میں عدم برداشت اور غیر اخلاقی گفتگو کرنے پروان چڑھ چکی ہے اور ہم زوال کے راستے پر ہیں ۔
والدین نے مجھے بتایا تھا کہ آپ کی زبان اور الفاط ہی اپ کی گھریلو تربیت ظاہر کرتے ہیں، لیکن اب جب موجودہ دنیا کی دیکھتا ہوں تو دُکھ اور شرمندگی سے نظریں جھک جاتی ہیں کیونکہ اب تو خواتین بھی ایسے الفاظ کا استعمال کرتی ہیں جن کو سن کر افسوس ہوتا ہے، گزشتہ دنوں پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں بھی خواتین کو بد اخلاقی کرتے دیکھ کر افسوس ہوا، اور یہ یقین پختہ ہوا کہ معاشرے کا ہر فرد اور طبقہ اس برائی کا شکار ہو چکا ہے ۔
سوشل میڈیا پر سلیم صافی اور عاصمہ شیرازی کو بھی صارفین یا ٹرولز کی جانب سے بداخلاقی اور نازیبا الفاظ کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہ اس بات کا ثبوت کہ آج ہم کسی کی رائے کو عزت دینا نہیں جانتے ۔ آج ہم بحثیت مسلمان اپنے کردار کو بھول چکے ہیں ۔ اور اسی وجہ سے ہم ترقی پزیر ممالک کی سمت میں شامل ہیں کیونکہ جب کسی بھی ملک کے عوام اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیتے ہیں تو وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا ۔اور مفکرِ پاکستان نے بھی یہی کہا تھا کہ اپنے اخلاق سے اپ زمانے کو ہم نوا بنا سکتے ہیں ۔
ضروری یہ ہے کہ ہر شخص کو خوا وہ مرد ہو یا عورت، وہ اپنے اخلاق میں بہتری لائے ۔ اگر نیا پاکستان بنانا ہے تو حکومتی وزیروں کو بھی اپنے الفاظ کے چناؤ کو بہتر کرنا ہوگا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے