خاور مانیکا سپریم کورٹ طلب

پاکپتن کے ڈی پی او رضوان گوندل کے تبادلے پر لئے گئے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے خاور مانیکا اور احسن جمیل گجر اور آئی ایس آئی کے کرنل طارق فیصل کو پیر ۳ ستمبر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اس سے قبل عدالت نے متعلقہ افراد کو آج تین بجے سے پہلے حاضر ہونے کیلئے کہا تھا لیکن مختلف وجوہ کی بنا پر پیش نہ ہو سکے ۔

عدالت نے وزیراعلی کے پرسنل سیکرٹری حیدر اور چیف سیکورٹی افسر عمر کو بھی پیش ہو کر مؤقف دینے کی ہدایت کی ہے ۔ سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر شہزادہ سلطان کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ کے سامنے پنجاب پولیس کے سربراہ کلیم امام، ایڈیشنل آئی جی پنجاب ابوبکر خدا بخش، آر پی او ساہیوال شارق کمال اور ہٹائے گئے ڈی پی او رضوان گوندل پیش ہوئے۔ تینوں افسران نے عدالت کو معاملے میں اپنا موقف بتایا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب کلیم امام کی سخت سرزنش کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پولیس کو ریفارمز کر کے با اختیار بنا رہے ہیں، سیاسی دباؤ سے نکال رہے ہیں مگر آپ نے سیاسی دباؤ پر رات ایک بجے اپنے افسر کا تبادلہ کر دیا ۔ آئی جی نے کہا کہ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتا، رضوان گوندل نے مجھ سے غلط بیانی کی اس لئے ہٹایا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر غلط بیانی کریں گے تو واپس آئی جی کے طور پر نہیں جائیں گے ۔ رضوان گوندل نے کہا کہ ان کو وزیراعلی کے سیکرٹری نے فون کر کے بلایا، وہاں وزیراعلی کے ساتھ ایک شخص احسن گجر بھی موجود تھا جس نے کہا کہ خاور مانیکا کے ڈیرے پر جا کر معاملات درست کروں ۔

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ایک معمولی واقعہ میں وزیراعلی کہاں سے آ گیا؟ وزیراعلی کا یار کہاں سے آ گیا؟ آئی ایس آئی کا کرنل کہاں سے آ گیا؟ ۔ رضوان گوندل نے عدالت کو بتایا کہ ان کو خاور مانیکا کے ڈیرے پر جانے کیلئے آئی ایس آئی کے کرنل طارق نے بھی فیصل آباد سے فون کیا تھا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے تمام متعلقہ افراد کو فوری طب کیا تاہم وہ اسلام آباد نہ پہنچ سکے جس پر سماعت پیر 3 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے خاور مانیکا، احسن گجر، وزیراعلی کے سیکرٹری اور سیکورٹی افسر کو طلب کر لیا گیا ۔

متعلقہ مضامین