وزیراعظم عمران خان اور فوج

سیاسی افق / اعزازسید

وزیرا عظم عمران خان کے پاک فوج سے تعلقات کا باضابطہ آغازستائیس اگست کو اس روز ہوا کہ جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم ہاوس میں ان سے ملاقات کی ملاقات کی۔ میری اطلاع کے مطابق اسی ملاقات میں عمران خان کے جی ایچ کیو کا دورہ بھی طے ہوا۔ جنرل باجوہ سے ملاقات کے دو روز بعد وزیراعظم اپنی کابینہ کے چند اہم ترین ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی گئے۔ جہاں وزیراعظم اور آرمی چیف کی پچیس منٹ کے ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔ انہیں کور کمانڈرز کانفرنس کے لیے مختص کمرے میں لے جایا گیا ۔ بتایا گیا ہے کہ اس کمرے میں ماضی میں وزرا اعظم کو نہیں لایا گیا۔
وزیراعظم کے اس غیر معمولی دورے کے موقع پر ڈی جی ملٹری آپریشنز اور ڈی جی آِئی ایس آئی نے وزیراعظم اور ان کےساتھ آنیوالے کابینہ کے ارکان کو ملک کو درپیش مسائل پاکستان کے امریکہ ، بھارت، افغانستان ، ایران ، سعودی عرب سے تعلقات کے بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ ڈی جی ایم آئی نے ملک میں دھشتگردی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ایک افسر نے ملک بھر میں فوج کے منصوبوں ، فوجی بجٹ ، شہیدوں کے ورثا کے لیے اقدامات اور ڈی ایچ اےیز کے بارے بریفنگ دی۔
اس ملاقات کی اہم بات یہ بھی ہوئی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تمام شرکا کے سامنے کہا کہ
Prime Minister we will completely support you and will follow your policies. Buck will stop at you.

ترجمہ ٫: جناب وزیراعظم ہم آپ کو مکمل سپورٹ فراہم کریں گے اور آپ کی پالیسیوں کی پیروی کریں گے۔ فیصلہ آپ کا ہوگا ۔
اس دوران وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان کے لیے خصوصی ظہرانہ بھی دیا گیا۔ عمران خان اپنی ٹیم کے ہمراہ کم و بیش آٹھ گھنٹے جی ایچ کیو میں رہے۔ جس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے اس ملاقات کوزبردست اور انتہائی مثبت قراردیا۔
ماضی میں وزرا اعظم جی ایچ کیو آتے رہے ہیں ، مگر عمران خان کی یہ ملاقات کئی اعتبار سے منفرد تھی کیونکہ ماضی میں ایسی پذیرائی کسی اور وزیراعظم کےحصے میں نہیں آئی۔ عمران خان کا فوج سے تعلق بہت پرانا ہے لی٘کن یہ وزیراعظم عمران خان اور فوج کے تعلقات کا باضابطہ آغازہے۔
عمران ویسے تو جنرل ضیا الحق اور ان کے بعد آنے والے کم و بیش تمام آرمی چیفس سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ مگر بحثیت سیاستدان عمران خان کے فوج سے تعلقات کا آغاز اتنا ہی پرانا ہے جتنا پرانا جنرل مشرف کا دور۔ یہ جنرل مشرف کے اقتدار کے ابتدائی دنوں کی بات ہے کہ جب مشرف کو اقتدار کے جواز کے حصول کے لیے سیاستدانوں کی ضرورت تھی۔ ان دنوں جنرل محمود آئی ایس آئی کے سربراہ اور میجر جنرل احتشام ضمیر ان کے نائب تھے۔
مشرف کی عمران خان سے ملاقاتیں کرائی گئیں دونوں قریب آنا بھی چاہتے تھے۔ مگر عمران خان کو جب جنرل احتشام ضمیر کے زریعے پتہ چلا کہ مسلم لیگ ق میں وہ تمام سیاستدان موجود ہیں جن پر کرپشن کے الزامات ہیں تو وہ اس جماعت میں شامل نہ ہوئے۔ سال دوہزار تیرہ کے موسم سرما میں جب میں اپنی کتاب کے انٹرویو کے سلسلے میں جنرل احتشام ضمیر سے ملا توباتوں باتوں میں عمران خان کا ذکر آیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عمران خان صاف ستھرے کرپشن سے پاک سیاستدانو ں کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ انہیں ابھی تک دور دور تک علم نہ تھا کہ "الیکٹیبلز” کس بلا کا نام ہے۔ میں نے احتشام ضمیر سے پوچھآ کہ عمران خان مشرف کا ساتھ کیوں چھوڑ گئے اس پر انہوں نےبتایا کہ عمران خان جو باتیں آج کررہا ہے وہی باتیں تب کررہا تھا۔ یہ باتیں ہیں تو ٹھیک مگر ہیں بیوقوفی کی۔ اس لیے ان کے ساتھ ہماری بات بن نہ سکی۔ ظاہر ہے طاقت کے رموز اپنے ہوتے ہیں۔
عمران نے شروع میں مشرف کا ساتھ دیا اور پھر افتخارر چوہدری کی معزولی کے بعد مشرف کے خلاف تحریک میں بھی شامل ہوئے۔
جنوری۲۰۰۸ کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تو کم و بیش دو سال بعد سال دوہزار دس میں اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے عمران خان سے پہلی ملاقات کی اور پھر سلسلہ چل نکلا۔ میرے خیال میں جنرل احمد شجاع پاشا سے عمران خان کا وہی تعلق رہا ہے جو جنرل جیلانی سے نوازشریف کا تھا۔ یہ پاشا ہی تھے جو فوج میں عمران خان کا اولین تاثر لے کر گئے تھے اور وہ تاثر یہ تھا کہ عمران خان ایک صاف ستھرا، کرپشن سے پاک،سیدھا سادھا اور نیک نیت انسان ہے۔ میرے خیال میں وزیراعظم عمران خان کا فوج میں یہ تاثر آجبھی قائم ہے۔
جنرل پاشا کی مارچ دوہزاربارہ میں آئی ایس آئی اور فوج سے رخصت تک اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی عمران خان سے کوئی ایک بھی ملاقات نہیں تھی۔ پاشا کے بعد لیفٹنینٹ جنرل ظہیرالاسلام آئی ایس آئی کے سربراہ بنے تو رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔ قربت اتنی بڑھی کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے براہ راست تعلق بھی جڑ گیا۔ آرمی چیف کیانی تو عمران خان کے سے ملنے بنی گالہ بھی چلے جایا کرتے تھَے۔ انہیں عمران کا باورچی پسند نہیں تھا وہ اپنا باورچی بلوا کھانے پکواتے اوراکٹھےکھاتے۔
اکتوبر سال دوہزار گیارہ میں عمران خان نے مینار پاکستان لاہور پر یادگار جلسہ کیا تو تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماوں کا باضابطہ طور پرماتھا ٹھنکا۔ مگر عام انتخابات میں خلاف توقو نتائج آنے پرعمران خان نے چیف جسٹس اور آرمی چیف جنرل کیانی دونوں کی رئٹائرمنٹ کا انتظار کرنا شروع کردیا اور موقع ملتے ہی دونوں پر کڑی تنقید کرنے لگے۔ کیانی ملازمت میں توسیع لینے اوردیگر وجوہات کی بنا پر اپنے ادارے میں غیر مقبول ہوچکے تھے ، کیانی پر تنقیدنےعمران کو فوج سے دور نہیں شائد اور نزدیک کیا۔
نوازشریف کی وزارت عظمی۱ کے دنوں میں اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ظہیرالاسلام عباسی بھی عمران خان کے قریب تھے۔ کہا جاتا ہےکہ سال دوہزار چودہ میں دھرنے کے خاکےمیں دونوں نے مل کرہی رنگ بھرا تھا۔ اس موقع پر لاہور میں سابق آئی ایس آئی چیف جنرل احمد شجاع پاشا نے اپنے قریبی دوست پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت مجھ سمیت اکثر لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ دھرنے کے پیچھے پاشا ہیں لیکن اب پتہ چلا ہے کہ لاہور میں کی اس ملاقات میں پاشا نے دھرنے کی مخالفت کی تھی اور عمران خان کو پیغام بھیجا تھا تھا کہ دھرنا ناکام ہوجائے گا اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس بات کی پاشا بھی تصدیق کرتے ہیں۔ ہوا بھی وہی، دھرنے نے عمران خان کو تو کوئی فائدہ نہ دیا تاہم نوازشریف کی منتخب حکومت کو نقصان بہت پہنچا اور باقیوں کے حصے بھی بدنامی آئی۔
کوئی مانے یا نہ مانےعمران خان وزیراعظم بن چکے ہیں۔ جمعرات کو جب وہ ٹمٹاتی آنکھوں کے ساتھ اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ جی ایچ کیو گئے تو آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری فوٹیج میں آرمی چیف کو انہیں چھڑی کے بغیر سیلوٹ کرتے اور جی ایچ کیو میں مرکزی کرسی پر بیٹھے دکھایا گیا ہے ۔ سیلوٹ پہلے بھی کیے جاتے تھے اور مرکزی نشست پر وزرا اعظم کو پہلے بھی بٹھایا جاتا تھا مگر ان کی فوٹیج جاری نہیں کی جاتی تھی۔
یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ فوج دل سے عمران خان کو اپنا وزیراعظم تسلیم کرتی ہے ۔ ملکی تاریخ کی پچھلی تین دہائیوں میں وزارت عظمی۱ پر تین بڑی شخصیات براجمان رہیں ۔ جنہوں نےاپنی مدت میں اس عہدے پرانمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان تین شخصیات میں بے نظیر بھٹو ، نوازشریف اور یوسف رضا گیلانی شامل ہیں۔
بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمی پر ان کے والد کی موت اور نوازشریف کی وزارت عظمی پر بارہ اکتوبرکے واقعات کی پرچھائیاں رہیں جبکہ یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمی، آصف زرداری صاحب کی زیر بار رہی۔
عمران خان اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان پر ماضی کا کوئی سایہ موجود نہیں۔ ان کا فوج میں تاثر سیدھے سادھے ، نیک نیت شخص کا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر عمران خان نے اپنی مرکزی اور صوباِئی کابینہ کے انتخاب میں کی گئی غلطیوں کو بروقت درست کرلیا ۔ انتقام کی سیاست کو ترک کرکے ریفارم کی سیاست پر توجہ دی اور غیر ضروری جھگڑوں کی بجائے اپنی استعداد کار میں اضآفہ کرتے ہوئے عوام کی بہتری کے اقدامات کیے اور عوام کو اپنے ساتھ رکھا تو وہ تمام شعبوں کے اختیارات بھی حاصل کرلیں گے اور آسانی سے نہ صرف پانچ سال پورے کریں گے بلکہ ملک کو بھی آگے لے جائیں گے ۔ فوج یقینا ان کے ساتھ ہوگی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے