سپریم کورٹ پر بڑھتے مقدموں کا بوجھ

سپریم کورٹ میں40ہزار 5سو 40سائلین انصاف کے منتظر ہیں۔یکم اگست سے 15اگست تک سپریم کورٹ رجسٹری اسلام آباد ،کراچی،لاہور ،پشاور اورکوئٹہ میں 682مقدما ت دائر ہوئے ۔15دنوں میں سپریم کورٹ کی پانچوں رجسٹریوں میں 526مقدمات نمٹائے گئے ۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے.سپریم کورٹ میں اس وقت 40,540مقدمات زیر سماعت ہیں ۔15 جولائی سے 31 جولائی تک جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سپریم کورٹ میں کل زیر سماعت مقدمات کی تعداد 40336 تھی. یکم اگست سے 15تک سپریم کورٹ کی پانچوں رجسٹریوں میں دائر کیے گئے اور نمٹائے گئے مقدمات کے اعدادوشمار جاری کردیئے گئے ۔

سپریم کورٹ میں یکم اگست سے 15اگست تک 682نئے مقدمات دائر ہوئے ۔جبکہ 526مقدمات نمٹائے گئے۔
15دنوں میں سپریم کورٹ رجسٹری اسلام آباد میں375 دائرہوئے جبکہ 398مقدمات نمٹائے گئے۔اسی طرح کراچی رجسٹری میں 49 نئے مقدمات دائر ہوئے،107نمٹائے گئے ۔لاہور رجسٹری سپریم کورٹ میں 181نئے مقدمات دائر ہوئے 21مقدمات نمٹائے گئے ۔سپریم کورٹ رجسٹری پشاور اور کوئٹہ میں بالترتیب 60اور 17مقدمات دائر ہوئے ۔پشاور اور کوئٹہ رجسٹری میں 15دنوں میں کوئی مقدمہ نہیں نمٹایا گیا ۔
پانچوں رجسٹریوں کے حوالے سے یکم اگست سے 15اگست تک جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں بنیادی انسانی حقوق کے 275مقدمات زیر التواءہیں ،پانچوں رجسٹریوں میں بنیادی انسانی حقوق کے 17مقدمات دائر ہوئے لیکن صرف 3نمٹائے گئے ۔سپریم کور ٹ کی پانچوں رجسٹریوں میں اس وقت 2249جیل پٹیشنز زیر سماعت ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی پانچوں رجسٹریوں میں 39ازخود نوٹس زیر سماعت ہیں ۔عدالت عظمیٰ کی پانچوں رجسٹریوں میں اس وقت 9ہزار 3سو 68 سول (دیوانی اپیلیں) اور 19ہزار 3سو 74آئینی درخواستیں زیر سماعت ہیں ۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بنیادی انسانی حقوق کی خلا ف ورزیوں ،بری طرز حکمرانی اور بد انتظامی کیخلاف کافی متحرک ہیں ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آج یکم ستمبر کوکراچی کے نجی ہسپتال کے دورے کے دوران پیپلز پارٹی کے زیر علاج لیڈر شرجیل میمن کے کمرے کا دورہ کیا جہاںسے شراب کی دو بوتلیں برآمد ہوئیں ۔تاہم سابق صدر آصف علی زرداری نے شراب برآمدگی بارے پوچھے گئے سوال پر بتایا”اب اگر جس ملک میں چیف جسٹس چھاپے ماریں پھر ہم کیا کہیں گے“۔

وکلاء تنظیموں کی طرف سے اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے اور جوڈیشل ایکٹوازم کیخلاف جاری کیے گئے بیانات بھی موجود ہیں. اس بات سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ چیف جسٹس نے جہاں یہ تسلیم کیا کہ وہ اپنے گھر کو ٹھیک کرنے میں ناکام رہے وہیں انھوںنے یہ شکوہ بھی کیا کہ انھیں وکلاءکی طرف سے مدد نہیں ملی ۔

نظام عدل میں اصلاحات سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے واضح ریمارکس دیے تھے”مجھے اپنے گھر سے مدد نہیں ملی،میں نے نظام عدل میں اصلاحات کیلئے بڑے بڑے وکلاءکی منتیں کیں لیکن کسی نے بھی مدد نہیں کی “۔بنچ اور بار کے درمیان فاصلے کے روشن امکان موجود نہیں ہیں تاہم صدر سپریم کورٹ بار پیر کلیم خورشید نے چیف جسٹس کے شکوے کا جواب یوں دیا تھا” خدا کے گھر میں بھی انسان بلاوے پر ہی جاتا ہے “۔تاہم عدلیہ میں جج صاحبان کی تعداد میں کمی کی حقیقت سے بھی نظریں نہیں چرائی جاسکتیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے