فوج کا کیا کام کہ کاروبار کرے؟ چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے لاہور میں بل بورڈز پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی پر سوال اٹھائے ہیں ۔ عدالت نے ڈی ایچ اے لاہور، این ایل سی، این ایچ اے اور محکمہ ریلوے کو نوٹس جاری کر کے 10 دن میں جواب طلب کیا ہے ۔

سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ لاہور میں بل بورڈز این ایل سی، این ایچ اے اور ڈیفنس اتھارٹی نے لگا رکھے ہیں ۔ ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پوچھا کہ ڈی ایچ اے کے اربوں روپے کہاں جاتے ہیں؟ کبھی ملک کی فوج بھی پیسہ کمانے کیلئے کاروبار کرتی ہے؟ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ فوج کا کیا کام کہ ہائوسنگ سکیم بنائے، فوج نے ہائوسنگ سکیم بنانی ہے تو ملازمین اور شہداء کیلئے بنائے، ہاؤسنگ اسکیموں میں فوجی افسران کیوں آ جاتے ہیں؟ ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بل بورڈز کیلئے اصول وضع کریں گے جو ملک بھر پر لاگو ہوگا ۔

کینٹ بورڈ کے وکیل نے کہا کہ کینٹ آمدن کا بڑا حصہ بل بورڈز سے آتا ہے ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ بل بورڈز دوران ڈرائیونگ توجہ ہٹانے کا باعث بنتے ہیں۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس نے کہا کہ لاہور کے ہر کھمبے پر چوہدری سرور اور پی ٹی آئی کے بینر لگے ہیں، ان کو بینرز لگانے کی اجازت کس نے دی ہے؟ ہارٹی کلچر کی ایڈیشنل ڈی جی نے کہا کہ لاہور میں بل بورڈز پی ایچ اے نے نہیں لگائے، ہم سے کسی نے منظوری بھی نہیں لی، ایک آدھ بار ہٹائے تو ہمارے ملازمین کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے، بل بورڈز کنٹونمنٹ، ڈیفنس، این ایل سی اور این ایچ کے ہیں ۔ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کینٹ کو حکومتوں سے کوئی فنڈ نہیں ملتے، لطیف کھوسہ کے مطابق کینٹ کے عوام کو سہولیات دینے پر خرچہ ہوتا ہے ۔ ڈی جی نے بتایا کہ پارک کی تزئین و آرائش کیلئے کوئی فنڈ نہیں لیتے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فنڈ نہ لینے کا کیا مطلب ہے آپ کیسینو کھول لیں؟ ۔ عدالت نے ڈی ایچ اے لاہور، این ایل سی، این ایچ اے اور محکمہ ریلوے کو نوٹس جاری کر کے 10 دن میں جواب طلب کر لیا ہے ۔

متعلقہ مضامین