ڈار سے واپسی کی درخواست کریں، چیف جسٹس

عدالت عظمی نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کیلئے وزارت داخلہ، خارجہ اور نیب حکام کو مشاورت کر کے میکنزم بنانے کیلئے کہا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم بہت مشکل صورتحال کا شکار ہیں اور ڈار کو پروا ہی نہیں وہ لندن میں کھلے عام گھوم رہے ہیں ۔

سپریم کورٹ میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کیلئے مقدمے کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ برطانیہ کے ساتھ تحویل ملزمان کا معاہدہ نہیں، انٹرپول سے رابطہ کیا ہے ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ انٹرپول نے جواب دیا کہ پاکستان سے صرف متعلقہ ادارے ایف آئی اے اور نیب ہی ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسحاق ڈار کو فون کر کے واپسی کی درخواست کریں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ اسحاق ڈار کو ‘چک’ ایسی پڑی ہے کہ معاملہ ہی ‘چکا’ گیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ کیا اسحاق ڈار کا پاکستانی پاسپورٹ منسوخ ہوسکتا ہے، ہمیں اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کیلئے متعلقہ حکام تجاویز دیں، اگر اسحاق ڈار کا پاسپورٹ منسوخ کردیا گیا تو کیا وہ بیرون ملک رہ سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاسپورٹ منسوخ کرنے کے بعد اسحاق ڈار سیاسی پناہ لے لیں، وہاں بتائیں ان کے ساتھ عدالتیں زیادتی کر رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسحاق ڈار نے تو کھلے عام سینیٹر کا انتخاب لڑا تھا، سابق وفاقی وزیر برائے خزانہ کو وطن واپس نہیں لاسکتے، کیا ہم اتنے بے بس ہیں ۔ عدالت کی ہدایت پر سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر اور قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل اصغر حیدر پیش ہوئے ۔ انہوں نے عدالت سے مہلت طلب کی تاکہ جواب دیا جا سکے ۔

عدالت نے ہدایت کی کہ اسحاق ڈار کا پاسپورٹ اگر منسوخ کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے اس پر بھی آگاہ کیا جائے ۔ سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے