عمران خان، ماؤزے تنگ اور خمینی

یہ بات درست ہے کہ انقلاب کے ذریعے اقتدار میں آنے والے دیدہ ور غیر ملکی دورے نہیں کرتے۔ ملک ہی میں ٹک کر اپنی قوم کا ذہن بدلنے اور حالات کو سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چیئرمین مائونے فقط ایک بار سوویت یونین کے بے حد اصرار پر اس ملک کا دورہ کیا تھا۔شاید اس دورے کی وجہ ہی سے وہ روس کے متعارف کردہ سوشلسٹ نظام سے متنفر ہوناشروع ہوئے۔ بالآخریہ فیصلہ کیا کہ ان کے ملک میں مارکسی نظریات کو چین کے تاریخی اور ثقافتی مزاج کے مطابق ڈھالتے ہوئے لاگو کیا جائے گا۔
حالیہ تاریخ میں امام خمینی انقلاب ایران کے بعد کسی غیر ملکی دورے پر نہیں گئے۔ اپنے آخری سانس تک شہرِ قم کے اس حجرے ہی میں مقیم رہے جہاں سے 60 کی دہائی میں انہوں نے بطور معلم آغاز کیا تھا۔ مائوزے تنگ اور امام خمینی نے مگر خود کو حکومتی معاملات سے بھی دور رکھا۔ چو این لائی تا حیات چین کے وزیر اعظم رہے ۔ گائیڈ لائنز البتہ مائو سے لیتے رہے ۔ بعد ازاں ڈینگ سیائوپنگ آئے تو انہوں نے کافی عرصے تک قوم کی فکری رہ نمائی اور حکومت چلانے کافریضہ اپنے پاس رکھا۔
ہمارے عمران خان صاحب کے مداحین بھی یہ طے کربیٹھے ہیں کہ 25جولائی 2018کے دن اس ملک میں انتخابات نہیں ہوئے انقلاب آیا ہے۔ خان صاحب کی صورت میں ہمیں ایک اور وزیراعظم ہی نہیں ملا بلکہ وہ دیدہ ور بھی نصیب ہوا ہے جس کی پاکستانی قوم کئی دہائیوں سے منتظر تھی۔ شاید اس قوم کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے عمران خان صاحب نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مائوزے تنگ اور امام خمینی کی طرح غیر ملکی دوروں سے اجتناب برتیں گے۔
اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی ہمارے وزرائے اعظم ربّ کا شکریہ ادا کرنے کے بہانے سرکاری جہاز کو اپنے خاندان کے افراد اور چہیتوں سے بھرکر عمرہ کرنے تشریف لے جاتے تھے۔ یہ شکرادا کرنے کے بعد دنیاوی معاملات پر توجہ دینے کے لئے پہلاسفر چین کا ہوتا۔ اس کے بعد شدت سے انتظار ہوتا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کا جس کا آغاز نیویارک میں ہر سال ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہوتا ہے۔ سرکاری جہاز کو اپنے خاندان کے افراد اور چہیتوں سے لاد کر ہمارے ماضی کے وزرائے اعظم نیویارک چلے جاتے۔ صحافیوں کا ایک لشکربھی ان کے ہمراہ ہوتا ۔
ہمارے ہر وزیر اعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب پاکستان میں ٹی وی سکرینوں پر Liveدکھایا جاتا۔ ان کے ہمراہ گئے صحافیوں کو اُردو اور انگریزی لغات کھول کر وہ توصیفی الفاظ تلاش کرنا پڑتے جن کے استعمال سے لوگوں کو سمجھایا جاتا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ ڈالا ۔
عمران خان صاحب نے اب تک یہ سب کچھ نہیں کیا ہے۔ حال ہی میں بلکہ جب فرانس کے صدر نے ان سے ٹیلی فون پر رابطے کی کوشش کی تو انہوں نے سینئر صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو جاری رکھنے کو ترجیح دی ۔ خارجہ سیکرٹری کو قلندرانہ شان بے نیازی سے بتادیا کہ وہ فرانسیسی صدر کو بتادے کہ پاکستان کے وزیر اعظم مصروف ہیں ۔ وہ آدھے گھنٹے بعد فون کرلیں۔ ان کے اس روئیے نے کئی دلوں میں چیئرمین مائو اور امام خمینی کی یاد تازہ کر دی ۔ قومی غیرت وحمیت کے اظہار کے بے چین افراد کو قرار آگیا۔ سینے فخر سے تن گئے ۔
عمران خان صاحب کی مجبوری مگر یہ ہے کہ وہ مائوزے تنگ اور امام خمینی کی طرح پاکستان کے فقط فکری رہ نما ہی نہیں۔ برصغیر کی آزادی کے بعد گاندھی نے بھی بھارت میں اپنے لئے کوئی سرکاری عہدہ نہیں لیا تھا۔کاروبارِ مملکت وحکومت نہرو کے سپرد کر دیا تھا۔ خان صاحب کے پاس مگر کوئی چو این لائی یا نہرو موجود نہیں ہے ۔ اسی باعث انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب اپنے پاس ہی رکھا ہے ۔ جب وہ 8 گھنٹے کی بریفنگ کے لئے GHQ تشریف لے گئے تو آرمی چیف نے انہیں صاف الفاظ میں بتا دیا کہ دفاعی اور قومی سلامتی امور کے حوالے سے بھی حتمی فیصلہ سازی فقط وزیراعظم کریں گے۔
پاکستان میں اقتدار واختیار کا حتمی مرکز بن جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان صاحب کے لئے قوم کی توقعات پر پورا نہ اترنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہیں اب Deliver کرنا ہوگا ۔ پاکستان میں Deliver کرنے کے لئے بدقسمتی سے مگر بین الاقوامی اداروں سے روابط بہت ضروری ہیں ۔ امریکہ،یورپ، اور چین کو Engage رکھنا ہوگا ۔ بھارت اور افغانستان سے کئی سنگین معاملات کو طے کرنا پڑے گا۔
ان سب امور کو نمٹانے کے لئے وزیر اعظم عمران خان فقط پاکستانی عوام کی محبت پر اکتفا نہیں کرسکتے۔ ہمارے تمام اداروں کی پرخلوص مدد کے باوجود انہیں پاکستان کا Caseبین الاقوامی دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ عالمی برادری کو قائل کرنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا سرپرست نہیں بلکہ نشانہ ہے۔ ہمارے ملک کی پرخلوص مدد کی جائے تو پاکستان دنیا بھر کے مسلمان ممالک کے لئے جدید جمہوری اور خوش حال ملک کی حتمی مثال بن کر ابھرسکتا ہے۔ایسا ہوجائے تو برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک میں بیٹھے مسلم نوجوان انٹرنیٹ کے ذریعے ISIS وغیرہ سے روابط استوار کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ اپنی ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں کو جمہوری نظام کے امکانات اجاگر کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع ہو جائیں گے ۔
مختصراََ یہ یوں کہہ لیجئے کہ عمران خان صاحب کی کرشماتی شخصیت کو جس نے 22 برسوں کی طویل جدوجہد کے بعد انہیں عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت کا بااختیار وزیر اعظم بنایا ہے اب پاکستان کا Case بین الاقوامی فورموں کے سامنے ایک Grand Sales Person کی صورت استعمال ہونا چاہیے۔ امریکہ،بھارت اور افغانستان کے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے انہیں ہمارا کیس پیش کرنا ہوگا۔ مائوزے تنگ اور امام خمینی والی بے اعتنائی اس ضمن میں کام نہیں آئے گی۔ عمران خان صاحب کو چو این لائی جیسا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ گلوبل کمیونٹی کو Engage کرنا ہوگا۔ وگرنہ ان کے مداحین مایوس ہوجائیں گے ۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین