اعتراف میں کوئی مضائقہ نہیں

امریکی صدر نکسن نے 1972 میں چین کا دورہ کرتے ہوئے تاریخ بنائی تھی۔ کمیونسٹ بلاک کے سرخیل سوویت یونین کو دُنیا کے سب سے زیادہ آباد ی والے ”کامریڈ“ -چین- سے دور کر دیا۔ اس دوری کے نتائج بالآخر ہمیں افغان جنگ کی بدولت کمیونسٹ نظام کی مکمل تباہی کی صورت دیکھنے کو ملے۔
نکسن نے کئی حوالوں سے اس تباہی کی بنیاد ڈالی تھی لیکن اپنے ہی وطن میں وہ ذلیل ورسوا ہوگیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر باب ووڈورڈ نے واٹرگیٹ سکینڈل بریک کیا۔ الزام اس سکینڈل کے حوالے سے ہماری نظر سے دیکھیں تو بہت معمولی تھا۔ یعنی ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے حکومتِ وقت کے سیاسی مخالفین کی جدید آلات کے ذریعے نگرانی۔ نکسن نے اس الزام کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ مناسب وقت پر اپنے کئے کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی کا طلب گار ہوتا تو آج بھی اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا۔ وہ مگر اپنے جھوٹ پر ڈٹ گیا اور بالآخر استعفیٰ دینے پر مجبور ہوا۔
نکسن وائٹ ہاﺅس سے رخصت ہونے کے بعد کئی برسوں تک گمنامی کی زندگی گزارتا رہا۔ اسے گمنامی وذلت کے اندھیروں کی طرف دھکیلنے والے باب ووڈورڈ کی گڈی مگر ابھی تک چڑھی ہوئی ہے۔ایوان ہائے اقتدار تک اپنی رسائی اور تعلقات کو وہ اب صحافت کے لئے نہیں کتابیں لکھنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ صدر بش نے افغانستان وعراق پر جو جنگیں مسلط کیں انہیں سمجھنے کے لئے باب ووڈورڈ کی کتاب پڑھنا ضروری ہے۔ اوبامہ جس لگن اور محنت سے ان جنگوں سے باہر آنے کی جدوجہد کرتا رہا اس کی کہانی بھی صرف ووڈ ورڈ ہی بیان کرپایا ہے اور اب اس نے ٹرمپ کے ایام اقتدار کے بارے میں بھی ایک کتاب لکھ دی۔ اس کا عنوان ہی Fear(خوف)ہے۔ اس کتاب میں ٹھوس واقعات کا ذکر کرتے ہوئے باب ووڈورڈ نے کچھ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ امریکی وائٹ ہاﺅس میں شاید کوئی انسان نہیں ایک غضب ناک روح موجود ہے جسے دنیا بھر کے کسی بھی حصے میں تباہی پھیلانے کے علاوہ کسی اور شے کی تمنا نہیں۔
پاکستان کی خوش بختی کہ جس روز امریکی وزیر خارجہ پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے نمائندوں سے ملنے کے لئے اپنے ملک سے روانہ ہوا اس دن کے تمام عالمی اخبارات میں باب ووڈورڈ کی حالیہ کتاب کے دل دہلا د ینے والے اقتباسات چھپے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے ان پر توجہ نہیں دی ہوگی۔مخدوم شاہ محمود قریشی کے لئے ان کا مطالعہ مگر ضروری تھا۔ شاید انہوں نے یہ اقتباسات پڑھنے کے بعد وزارتِ خارجہ میں بیٹھے معاونین سے رائے بھی طلب کی ہوگی۔ اگرچہ پومپیو کے اسلام آباد سے بھارت روانگی کے بعد موصوف نے جو پریس کانفرنس کی اس نے ایسے مطالعے کا عندیہ نہیں دیا۔
ہماری وزارتِ خارجہ میں مذاکرات کی میز پر امریکی وفد نے فقط 40 منٹ صرف کئے تھے ۔ ان منٹوں کی روئیدادمخدوم صاحب نے 70منٹ سے زیادہ وقت لے کر سنائی۔ان کی سنائی داستان سے تاثر یہ ملا کہ ا مریکہ تو اب بھی ویسا ہی ہے جیسا صدر بش یا اوبامہ کے ادوار میں ہوا کرتاتھا۔ پاکستان میں لیکن تبدیلی آچکی ہے۔ عمران خان صاحب عوام سے یہ وعدہ کرنے کی وجہ سے برسراقتدار آئے ہیں کہ وہ ہمسایہ ممالک سے تعلقات کو بہتر بناتے ہوئے علاقائی امن کے استحکام پر توجہ مرکوز رکھیں گے تاکہ پاکستان کے عوام کی خوش حالی کے یقینی اسباب فراہم کئے جاسکیں۔
مخدوم صاحب کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ امریکہ نے بالآخر دریافت کرلیا ہے کہ مسئلہ افغانستان کا کوئی جنگی حل ممکن نہیں۔ اس ملک میں امن فقط طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہی یقینی بنایا جاسکتا ہے اور یہ بات عمران خان صاحب گزشتہ کئی برسوں سے کہتے چلے آرہے ہیں۔ واشنگٹن نے گویا اب وہی حقیقت دریافت کی ہے جو پاکستانی وزیر اعظم جبلی طورپر کئی برس قبل جان چکے تھے۔ امریکی وفد کو لہذا یہ سمجھانے کی کوشش ہوئی کہ وہ پاکستانی وزیر اعظم کی بصیرت کا سہارا لیتے ہوئے افغانستان میں اپنی مشکلات کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرے۔ شاید اس بصیرت سے مزید رجوع کے لئے مائیک پومپیو نے مخدوم صاحب سے درخواست کی کہ اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں جب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے نیویارک تشریف لائیں تو واشنگٹن کی وزارتِ خارجہ کا دورہ بھی کریں۔ شاہ صاحب نے کشادہ دلی سے اس دعوت کو قبول کرلیا ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ کی طولانی پریس کانفرنس کے بعد امریکی وزارتِ خارجہ نے سرکاری پریس ریلیز کے ذریعے جو بیان کیا اس کے آخری پیرے میں لیکن ”زمیں جنبدنہ جنبد گل محمد“والا تاثر برقرار رہا۔ پاکستان کو اس پریس ریلیز کے ذریعے ایک بار پھر یاد دلایا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پر مبینہ طورپر موجود دہشت گردوں کے خلاف Decisive (فیصلہ کن) کارروائی کرے ۔ مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب اگرچہ اپنی پریس کانفرنس کے دوران اصرار کرتے رہے کہ امریکی وفد نے Do More والی کوئی بات کی ہی نہیں۔
ایسا ہی دعویٰ انہوں نے اس ٹیلی فون کال کی بابت بھی کیا تھا جو امریکی وزیر خارجہ نے ہمارے وزیر اعظم کو چند روز قبل مبارک باد دینے کے بہانے کی تھی۔امریکی مگر اپنی بات پر ڈٹے رہے۔ جھوٹ بولنا امریکی پالیسی کا اہم پہلو ہے۔مثال کے طورپر صدام حسین کے عراق میں Weapons of Mass Destruction کی موجودگی کا الزام۔ مسئلہ مگر یہ بھی ہے کہ امریکی جھوٹ بول کر اس پر قائم بھی رہتے ہیں اور ہم ایسے ملک بے چاری پروین شاکر کی طرح سچ بولتے ہوئے بھی گیم نہیں بناسکتے۔
ایک بات میں اب تک سمجھ نہیں پایا ہوں کہ آخر ہماری حکمران اشرافیہ اس حقیقت کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کیوں گھبرا رہی ہے کہ پاک-امریکہ تعلقات ٹرمپ کے وائٹ ہاﺅس پہنچ جانے کے بعد سے دوستانہ قطعاََ نہیں رہے ۔ ان میں بہتری کی فی الوقت گنجائش ہی نہیں۔ یہ تعلقات مخاصمانہ ہوچکے ہیں ۔ مخاصمت کا اعتراف کرنے میں لہذا کوئی مضائقہ نہیں ۔ عام پاکستانی کو خدارا سچ بتائیں ۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین