آؤ مل کر ڈیم بنائیں

ازخودی/ مطیع اللہ جان

وزیراعظم عمران خان کے بیرون ملک پاکستانیوں کے نام خصوصی پیغام نے دیا میر بھاشا ڈیم کیلئے چیف جسٹس کی چندہ مہم میں نئی روح پھونک دی ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق غیر ممالک میں مقیم تقربیا 80 لاکھ پاکستانی اگر ایک ایک ہزار ڈالر ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں تو اس میں آٹھ ارب ڈالر آجائینگے جبکہ صرف دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا خرچہ ایک اندازے کے مطابق 16 ارب ڈالر ہے۔ وزیر اعظم کی یہ بات درست ہے کہ یہ خواب حقیقت بننے کی صورت میں پاکستان میں زر مبادلہ کی کمی اور ادائیگیوں کے عدم توازن جیسے مسائل بھی حل ہو جائیںگے۔ مگر ایسا تبھی ممکن ہے جب ڈیم کی تعمیر کیلئے غیر ملکی کمپنیوں اور ماہرین جو ڈالر میں وصولیاں کرتے ہیں انکی بجائے پاکستانی کمپنیوں اور ماہرین پر مکمل انحصار کیا جائے۔ صرف ایسا کرنے سے ہی ہم ذرائع مبادلہ اور ادائیگیوں کے عدم توازن جیسے مسائل کا حل بیرون ملک پاکستانیوں کی اتنی بڑی قربانی کے ذریعے نکال سکتے ہیں۔ مذکورہ اعدود شمار سے واضح ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے چندے کے باوجود ڈیم کیلئے صرف آدھی رقم ہی اکٹھی ہو سکے گی اور اگر اس رقم کو بھی غیر ملکی کمپنیوں اور ماہرین یا مشینری کی درآمد میں استعمال کیا گیا تو پھر یہ تاریخی چندہ مہم قرض اتارو ملک سنوارو جیسی مہم کے انجام سے دوچار ہو گی تو اس کا حل کیا ہے ؟ حل مشکل سہی ناممکن نہیں۔
کسی بھی ڈیم کی تعمیر میں جس مشینری ، مہارت ، میٹریل اور افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے کیا وہ پاکستان جیسی اسلامی ایٹمی جمہوریہ ریاست میں موجود نہیں ؟ میری رائے میں ہمارے پاس یہ تمام وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ قراقرم کے پہاڑوں کا سینہ چیر کر شاہراہ قراقرم بنانے والے پاکستانی انجینئرز ہوں یا چاغی کے پہاڑوں کو لرزا دینے والے ایٹمی سائنسدان ، ایک سے ایک نیا شہر آباد کرنے والے رہائشی اسکیموں کے ٹھیکے دار ہوں یا پورے ملک میں انتخابی عمل کو تحفظ دینے والے پونے چار لاکھ فوجی اہلکاروں کی افرادی قوت اگر یہ تمام ادارے اور افراد بغیر کسی معاوضے یا اضافی الاؤنس سال کے چند مہینے بھی دیامیر بھاشا کے مقام پر پہنچ کر ایک "آپریشن ضرب آب ” شروع کر دیں تو شاید ہمیں بیرون ملک پاکستانیوں کے چندے کے باوجود ہونے والی آٹھ ارب ڈالر کی کمی محسوس نہیں ہو گی۔ مگر شرط وہی ہے کہ کام اسی تنخواہ میں کرنا ہے۔
حکومت کو ڈیم کی تعمیر کیلئے ماہرین ، تعمیراتی مواد ، مشینری اور افرادی قوت کی ایک مکمل فہرست جاری کرنا ہو گی۔ جو بلڈوزر اور دیو ہیکل مشینیں ملک بھر میں بڑی بڑی رہائشی اسکیموں کیلئے استعمال ہوتی ہیں اور جو بارود ان اسکیموں میں پلاٹوں کیلئے زمیں ہموار کرنے واسطے استعمال ہوتا ہے وہ سب سال کے چند مہینے دیامیر بھاشا ڈیمز کے جگہ پر استعمال ہوں تو ہم ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن ، نیشنل لاجسٹکس سیل اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے علاوہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور بحریہ ٹاؤن جیسے عظیم اداروں کو اگر ہماری افواج پاکستان کے اور دوسرے بڑے بڑے کاروباری اداروں کے وسائل دستیاب ہو جائیں تو پاکستان کی حکومت اور غریب عوام کو اپنا مزید پیٹ کاٹنا نہیں پڑیگا۔ ایسے کاروباری اداروں پر ذمہ داری اس لیے بھی زیادہ بنتی ہے کہ انھوں نے پورے ملک میں سرکار کی وسیع اراضی سے بے بہا کاروباری منافع کمایا ہے اور اسکے علاوہ بھی عوام کے ٹیکس سے پیدا شدہ وسائل کو استعمال کر کے جو وسیع کاروباری ایمپائر کھڑی کی گئی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ ان کے مالی وسائل ، مشینری اور افرادی قوت کو بغیر اضافی اخراجات کے ڈیموں کی تعمیر کیلئے استعمال کیا جائے۔ سال میں چند مہینے ہماری عظیم افواج پاکستان کے چار لاکھ سپوت ہی اگر بارود ، بلڈوزر اور گینتی بیلچے لے کر ٹرپل ون بریگیڈ کی قیادت میں اپنی توانائیوں اور وسائل کا رخ دیا میر بھاشا کی جانب موڑ دیں تو ہم صحیح معنوں میں نیا پاکستان بنا سکیں گے۔ اسی طرح پاکستان کے سویلین تعمیراتی ، کاروباری ادارے بھی اگر اپنے بلڈوزر ، مشینری اور سیمنٹ ،ریت اور بجری جیسا میٹریل ڈیم کی جگہ کیلئے مفت فراہم کر دیں تو ہماری معزز عدلیہ کو چندے کیلئے انصاف کا ہتھوڑا بھی استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ڈٰیم فنڈ کیلئے حاصل شدہ رقوم کو کسی بین الاقوامی کانفرنس کے اللوں تللوں اور میڈیا کی تشہیری مہم کیلئے استعمال نہیں کیا جائے۔ بین الاقوامی وفود کی چائے اور بسکٹوں سے تواضع کرنیوالی حکومت ایسی بین الاقوامی کانفرنسوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ میڈیا ، اشتہاری کمپنیوں اور آئی ایس پی آر نے اب تک مفاد عامہ میں ڈیم فنڈ کیلئے جو تشہیری مہم چلائی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ یہ مہم بلا معاوضہ جاری رہنا انتہائی ضروری ہے اور اگر ضرورت پڑے تو اس معاملے پر عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے "وار” ، ” مالک ” اور ” جنون ” جیسی فلمیں بھی بنانی چاہئیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم بطور قوم معاشی چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے ایک ہو جائیں اور جن جن افراد اور اداروں نے عوامی وسائل کے بل بوتے پر اربوں ڈالر مالیت کے کاروبار کو ملکی اور بین الاقوامی سطح تک وسعت دی ہے وہ افراد اور ادارے خود کو اور اپنے وسائل کو حکومت اور عوام کے سامنے پیش کر دیں۔ عوام سے چندہ مانگنے میں کوئی برائی نہیں ہے اور پاکستانی قومی مفاد کی خاطرہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں میں ایسے جی دار بھی ہوں گے جو ایک ہزار تو کیا کئی ہزار ڈالر ڈیم فنڈ کے لے دینے کو تیار ہیں اس لیے بھی کہ انکے بہت سے ساتھی مالی طور پر شاید ایک ہزار ڈالر دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ مگر ان سب کے باوجود حکومت کو بھی اپنا دامن صاف کرنا ہو گا۔ کفایت شعاری کیلئے وزیر اعظم عمران خان کی مہم قابل ستائش ہے مگر جب تک ہماری سویلین اور عسکری قیادت اپنی ذاتی زندگیوں یعنی رہن سہن کے معیار میں بھی کفایت شعاری نہیں کریگی تو محض سرکاری محفلوں میں چائے بسکٹوں کی تواضع سے کام نہیں چلے گا۔ حکومت کو ڈیم فنڈ کیلئے وسائل پیدا کرنے ہونگے۔ اس کیلئے تمام وزراتوں کے ماتحت سرکاری اداروں کے اربوں روپے مالیت کے ریسٹ ہاؤسز ، گیسٹ ہاؤسز ، میسسز اور تفریح گاہوں کو فوری طور پر نیلام کرنے سے بھی چندہ دینے والے عوام کا حکومت پر اعتماد بڑھے گا۔ حکومت کو اس سلسلے میں تمام اداروں کے بجٹ میں واضح کمی کر کے اپنی صدق دلی اور عزم و خلوص کا ٹھوس ثبوت دینا ہو گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ عوام اپنا پیٹ کاٹ کر حکومت وقت کو ڈیم بنانے کیلئے چندہ دیں اور حکومت وقت اپنے سالانہ بجٹ میں تمام اخراجات کو ویسا ہی رکھے۔ ہمیں جن معاشی چیلنچز کا سامنا ہے وہ اس دور سے مختلف نہیں جو 1971 میں ملک ٹوٹنے کے بعد آیا تھا۔ کچھ ایسے ہی معاشی حالات اور چیلنجز تھے جب اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بہت سی صنعتوں کو قومیانے کا فیصلہ کیا تھا۔
عوام سے چندہ تو اس دور میں بھٹو نے بھی نہیں مانگا تھا۔اب اگر ہم حقیقی معاشی بحران سے گزر ہی رہے ہیں تو حکومت پاکستان کو دوسرے مشکل فیصلوں کے ساتھ کم از کم سرکاری اور نیم سرکاری کاروباری اداروں اور صنعتوں کا حساب کتاب تو اپنے کنٹرول میں لینا ہی ہو گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ملک کا وزیر اعظم ڈیم بنانے کیلئے غریب عوام سے دس دس روپے کا چندہ مانگ رہا ہو اور چند ادارے انہی غریب عوام کے ٹیکس اور سرکار کی زمین پر اربوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہوں اور پھر کسی قسم کے ترقیاتی اور تعمیراتی کام کیلئے ایک ٹھیکے دار کی مانند غریب حکومت سے چندے کے پیسے کو بطور ٹھیکہ طلب کریں۔ اگر ہم نے ڈیم بنانا ہے تو پہلے عوام کے ٹیکس اور سرکار کی اراضی پر کاروبار کرنے والوں کو مالیاتی طور پر جواب دہ بنانا ہو گا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ سرکار کے ادارے عوام کے ٹیکس سے تنخواہیں لیں ، سرکار کی اراضی پر کاروبار کریں اور جب کوئی ڈیم بنانا پڑے تو چند دن کی تنخواہ چندہ کر کے جان چھڑا لیں۔ آئیں ہم سب مل کر ڈیم بنائیں۔۔۔ !

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے