مشرف سنگین غداری کیس میں کیا ہوا

پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت جسٹس یاور علی کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کی ۔ عدالت نے آئندہ سے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرنے کی ہدایت جاری کی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم مشرف کو واپس لانے کیلئے انٹرپول سے رابطہ بار آور ثابت نہیں ہوا ۔

وفاقی شرعی عدالت کے کمرے میں قائم خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے آرٹیکل چھ کے سنگین غداری مقدمے کی سماعت کی ۔ جسٹس یاور علی اور جسٹس نزر اکبر پر مشتمل خصوصی عدالت نے پوچھا کہ استغاثہ ٹیم کے سربراہ اکرم شیخ کی علیحدگی سے کیا باقی ٹیم پر اثر پڑے گا، عدالت نے مشرف کا بیان ریکارڈ کرنے پر معاونت کیلئے کہا تھا ۔

استغاثہ کی سابقہ ٹیم کے رکن وکیل نصیرالدین نے بتایا کہ پراسیکیوٹر کی عدم موجودگی میں معاونت نہیں کی جا سکتی ۔ جسٹس یاور نے کہا کہ آپ استغاثہ کے رکن نہ بھی رہیں وکیل تو ہیں اس حیثیت میں معاونت کر سکتے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم آج کیلئے مقدمہ ملتوی کر سکتے ہیں مگر اگلی بار ایسا نہیں کیا جائے گا، اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے گی ۔ ہم نے ملزم کا بیان اسکائپ کے ذریعے ریکارڈ کرنے پر معاونت مانگی تھی، مقدمے میں تمام شواہد پہلے ہی ریکارڈ کئے جا چکے ہیں ۔

جسٹس یاور علی نے کہا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اگر بیان اسکائپ کے ذریعے ریکارڈ نہ کیا جا سکا، اور اگر ملزم نہیں آتا تب بھی ہم استغاثہ کو سن کر فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے کا فیصلہ ہر صورت کرنا ہے اور کو منطقی انجام تک پہنچنا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس یاور علی نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر بتایا جائے کہ مشرف کی عدم حاضری میں کیسے بیان ریکارڈ کیا جاسکتا ہے ۔ جسٹس یاور علی نے پوچھا کہ اگر بیان ریکارڈ نہیں ہوتا تو پھر کارروائی کیسے آگے چلائی جاسکتی ہے اس پر بھی معاونت کی جائے ۔

جسٹس یاور علی نے پوچھا کہ وفاقی حکومت نے انٹرپول سے رابطے کے سوا مزید کیا اقدامات کئے کہ ملزم کو واپس لایا جا سکے؟ ۔ وزارت داخلہ کے نمائندے نے بتایا کہ صرف انٹرپول سے ہی رابطہ کیا تھا اور انٹرپول نے سیاسی معاملہ کہہ کر معذرت کر لی ہے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک لکھ کر دیں کہ ملزم کو واپس لانے کا اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں ۔  پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے سماعت ۹ اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں گے ۔ ملزم کا بیان اسکائپ پر ریکارڈ کرنے پر عدالت کی معاونت کی جائے اور ملزم بیان ریکارڈ نہیں کراتا تو کارروائی آگے بڑھانے پر معاونت کریں ۔

 

متعلقہ مضامین