مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن کیلئے دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے نادرا کو ہدایت کی ہے کہ پہلے سے موجود عدالتی فیصلے کی روشنی میں عیسائی نہیں مسیحی لکھا جائے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ سماعت کی ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہمیں اور نادرا کو نوٹس جاری کیا گیا تھا حاضر ہوئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ چرچ میں رسومات کے بعد کیا مسیحی شادیاں کسی سرکاری ادارے میں بھی رجسٹر کی جاتی ہیں، کیا اس کیلئے قانون موجود ہے؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ رسومات کے بعد ڈی سی کا تصدیقی خط جاری کیا جاتا ہے، اس کے بعد طریقہ کار کے مطابق مقامی حکومت/بلدیاتی نظام میں رجسٹریشن ہوتی ہے ۔ مسیحی برادری کے درخواست گزار بشپ نے عدالت کو بتایا کہ 1872 کے عیسائی شادیوں کے قانون کے تحت رجسٹریشن ہوتی تھی، اب یونین کونسل میں ہوتی ہے تاہم مسئلہ یہ درپیش ہے کہ پنجاب میں جہاں پورے ملک کے 80 فیصد مسیحی رہائش پذیر ہیں یونین کونسل ہماری شادیوں کو رجسٹر نہیں کر رہی، صرف پیدائش اور اموات کو رجسٹر کرتی ہے ۔ دس پندرہ سال سے اس کیلئے کوشش کر رہے ہیں مگر معاملے کو لٹکایا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب اس کو نہیں لٹکایا جائے گا، آج نہیں تو کل یہ کام ہو جائے گا ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر یہ انسانی حقوق اور اقلیتی امور کی وزارت کے تحت آتا ہے تو وہ یونین کونسل کے اہلکار کو اختیار تفویض کرے تاکہ رجسٹریشن ہوتی رہے ۔ ایسا ہو کیوں نہیں رہا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کیلئے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے ۔ نادرا کے چیئرمین عثمان مبین نے بتایا کہ ہمارا اس سے تعلق نہیں، دراصل جو مذہبی پیشوا شادی کراتا ہے اس کی بھی حکومت کے پاس رجسٹریشن ہونا ہے جس کے بعد ہی یونین کونسل اس شادی کو رجسٹر کرے گا، 8 ہزار یونین کونسل ہمارا سافٹ ویئر استعمال کر رہی ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دیگر صوبوں میں ہو رہا ہے مگر پنجاب میں نہیں ہو رہا، دیگر مذاہب کیلئے رجسٹریشن ہے تو پھر آئین میں مساوی سلوک کے تحت وہی مسیحیوں کے لئے بھی ہوگا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے فیصلے پر عمل کرانا بھی ضروری ہے ۔ عدالت کو شکایت کی گئی کہ عرصہ قبل فیصلہ دینے کے باوجود عیسائیوں کو مسیحی نہیں لکھا جا رہا ۔ چیف جسٹس نے نادرا کو ہدایت کی کہ اس فیصلے پر فوری عمل کیا جائے اور آج سے ہی ہر عیسائی کو مسیحی لکھا جائے ۔

عدالت نے مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی ہے کہ اگر موقف دینا ہے تو تحریری طور پر جمع کرایا جائے ۔

متعلقہ مضامین