ڈار کی واپسی مشکل

سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپس لانا انتہائی مشکل کام ہے ۔

سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کے کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کا سفارتی پاسپورٹ منسوخ کیا جا چکا ہے، اسحاق ڈار کا عام پاسپورٹ بھی منسوخ کردیا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نیب کی درخواست پر وزارت داخلہ نے اسحاق ڈار کو بلیک لسٹ کردیا، اس وقت اسحاق ڈار کے پاس کوئی سفری دستاویز نہیں ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے پوچھا کہ پھر اسحاق ڈار کیسے واپس آئے گا؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس کیلئے طریقہ کار موجود ہے جب بے حوالے کیا جاتا ہے تو سفری دستاویزات بنائی جاتی ہیں ۔ چیف جسٹس نے انور منصور سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ اٹارنی جنرل، کیا آپ نے یہ معاملہ دیکھا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے اپنی نشست سے اٹھ کر روسٹرم کا رخ کیا اور بتایا کہ اس معاملے پر متعلقہ حکام سے بات کی ہے ۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ نیب عدالت کے اسحاق ڈار کو مفرور قرار دینے کا آپ کو علم ہوگا، کیا اب بھی ریاست اسحاق ڈار کو واپس نہیں لا سکتی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ برطانیہ سے تحویل ملازمین کا معاہدہ موجود ہے ، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس کے لیے وہاں کی عدالتوں میں جانا پڑے گا، یہ ایک طویل طریقہ کار ہے ۔ عدالت کے پوچھنے پر احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ہم نے اسحاق ڈار کی جائیدادیں شناخت کرلی ہیں، اسحاق ڈار کی جائیدادوں کو مقدمے سے منسلک کرنے کیلئے کارروائی جاری ہے ۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کیلئے تمام متعلقہ محکموں سے مشاورت جاری ہے اور کوشش ہے کہ حل نکال لیں ۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو اسحاق ڈار کی وطن واپسی کیلئے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کر دی ۔

 

متعلقہ مضامین