اے آر وائے، بول کو دفاتر خالی کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے رہائشی علاقوں میں قائم ٹی وی چینلز کو دفاتر خالی کرنے کیلئے تیس دنوں کی آخر ی مہلت دیدی ۔عدالت نے قرار دیا چار ہفتوں میں دفاتر خالی نہ کیے گئے تو یہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی ۔جسٹس عمر عطاءبندیال نے ریمارکس دیئے ٹی وی چینل کی وجہ سے قانون میں رعایت نہیں دی جاسکتی ۔عدالت نے پہلے چھ ہفتے کا وقت دیا لیکن بنچ کے رکن جسٹس عمر عطاءبندیال کے اعتراض پر نیا حکمنامہ لکھوا یا گیا اور دفاتر خالی کرانے کیلئے چار ہفتوں کی حتمی مہلت دیدی گئی ۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی ۔اے آر وائی ،کیپیٹل اور بول نیوز نے رہائشی علاقوں میں قائم اپنے دفاتر کو سیل کرنے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے ۔سی ڈی اے گذشتہ روز تینوں ٹی وی چینلز کے دفاتر کو سیل کر دیا تھا ۔جسٹس عمر عطاءبندیال بولے رہائشی علاقوں کمرشل سرگرمیوں سے متعلق سپریم کورٹ کا حکمنامہ موجود ہے،اچانک ہی حکم آ گیا کہ دو گھنٹے میں عملدرآمد کیا جائے۔سی ڈی اے کے وکیل نے کہا ہائی کورٹ میں تجاوزات کے حوالے سے بارہ درخواستیں آئی تھیں ،عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بھی موجود ہے ،اے آر وائی بول نیوز اور کیپٹل ٹی وی کے علاوہ دیگر ٹی وی اور اخبارات نے عدالت عالیہ میں بیان حلفی جمع کرایا جس میں کہا گیا 30اگست تک دفاتر رہائشی علاقوں سے منتقل کر دیئے جائیں گے ۔چیف جسٹس بولے ٹی وی چینلز والوں نے آبیل مجھے مار والا کام کیا،جب فریق نہیں تھے تو کس نے کہا تھا ہائیکورٹ میں جاکر فریق بنیں، آپ سول کورٹ جاسکتے تھے، ہائیکورٹ میں فریق کیوں بنے ۔ ٹی وی چینلز کے وکیل نے کہا ہائیکورٹ میں رپورٹرز کے زریعے ٹی وی چینلز کو فریق بنایا گیا ۔ جسٹس اعجا ز الاحسن بولے ہائیکورٹ نے اپنا دائرہ اختیار بڑھایا۔ کیس کے اختتام پر جب چیف جسٹس نے تحریری حکمنامے میں ٹی وی چینلز کو دفاتر خالی کرانے کیلئے چھ ہفتوں کا وقت دیا تو چینلز کے وکیل نے کہا مزید وقت دیا جائے ۔ اس پر جسٹس عمر عطاء بندیال بولے اگر ایمانداری کی بات کی جائے تو میں چھ ہفتوں کا وقت دینے پر خوش نہیں ہوں، ٹی وی چینل کی وجہ سے قانون میں رعایت نہیں دی جا سکتی ۔ اس پر چیف جسٹس بولے میری غلطی ہے میں نے آرڈر لکھوانے سے قبل اپنے بھائی جج سے مشاورت نہیں کی ۔ عدالت نے اپنے پہلے کے لکھوائے گئے حکمنانے کو واپس لے لیا اور نئے حکمنامے میں رہائشی علاقوں میں قائم ٹی وی چینلز کو ایک ماہ میں خالی کرنے کا حکم دیدیا ۔عدالت نے قرار دیا اے آر وائی، بول اور کیپیٹل ٹی وی اپنے دفاتر کے باہر ڈی ایس این جیز کھڑی نہیں کرسکتے ۔ عدالت نے درخواستیں نمٹا دیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے