ڈیم پر تنقید برداشت نہیں

سپریم کورٹ نے ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر کیلئے پنجاب حکومت سے حتمی جواب مانگ لیا ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم پر تنقید برداشت نہیں کریں گے خواہ کوئی کتنا ہی بڑا سیاست دان ہو، ڈیم ہر صورت بنے گا ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ ڈیمز کی تعمیر پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک سیاستدان نے کہا کہ سپریم کورٹ کو سیاسی پارٹی بنا لینی چاہیے، یہ کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ جو مخالفت کر رہے ہیں وہ کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، یہ وہ ایجنڈا ہے کہ پاکستان میں ڈیم نہ بنے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، بے شک کوئی کتنا بڑا سیاستدان یا اپوزیشن لیڈر ہی کیوں نہ ہو، ہم ڈیم نہ بننے کے ایجنڈے کو پورا نہیں ہونے دینگے، ڈیم ہر صورت بنائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے ڈیم بنا رہے ہیں ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ حکومت پنجاب ڈیم کی تعمیر کے لئے بحریہ ٹاؤن کی جے وی کا جائزہ لے، جے وی تحریری طور پر پنجاب حکومت کو اپنی سفارشات جمع کرائے، حکومت پنجاب کا محکمہ آپاشی سفارشات کا جائزہ لے، عدالت نے کہا کہ اگر محکمہ آبپاشی سفارشات سے مطمئن نہیں تو بھی عدالت کو آگاہ کرے۔

عدالت نے کہا ہے کہ جے وی کی سفارشات اگر پنجاب حکومت مسترد کر دیتی ہے تو اپنی نئی سفارشات لے کر آئے، پنجاب حکومت بتائے ڈیم کب تک تعمیر ہوگا اور کتنی لاگت آئے گی ۔

سیکرٹری آبپاشی نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پنجاب اراضی کے حصول کے لئے فنڈ مختص کر چکی ہے، ڈیم کے ساتھ 11 ہزار کنال بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کی زمین ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب حکومت کو بحریہ ٹاؤن سے ڈیم کی تعمیر کروانے میں کیا رکاوٹ ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے کمیشن مافیا کا کمیشن مارا جائے گا اور یہی رکاوٹ ہے، میں کسی کو نہ ہی کٹ لگانے دونگا اور نہ ہی کمیشن کھانے دونگا، ہر منصوبے میں کمیشن، خدا کا خوف کریں، یہ ڈیم کمیشن کی وجہ سے التواء کا شکار ہے، خود کے لئے قوم کے لئے اور عوام کے مستقبل کے لئے سوچیں، آئندہ ہفتے لاہور میں ہوں کیوں نہ وزیر اعلیٰ اور ان کی پوری کابینہ کو بلا لیں ۔
اس کی ضرورت نہیں یہ معاملات میں ہی دیکھ رہا ہوں، سیکرٹری آبپاشی

ڈیم بنانا قومی کاز ہے اس کے لئے اکھٹا ہونا ہوگا، پلے سے بھی پیسے ڈالنے ہونگے، سیکرٹری آپاشی آپ کو بھی پیسے لینے کے بجائے دینے ہونگے، چیف جسٹس

میں ڈیم کے لئے پیسے دے چکا ہوں، سیکرٹری آپاشی

سماعت آئیندہ ہفتے کے لئے ملتوی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے