چیف جسٹس اور وزیراعلی بزدار کا مکالمہ

سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ ازخود نوٹس کیس میں آئی جی کلیم امام کی انکوائری رپورٹ مسترد کر دی ۔ عدالت نے ڈی جی نیکٹا خالق داد لک کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے 15 دن میں از سر نو تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے سامنے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی کلیم امام پیش ہوئے ۔ کلیم امام کی انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ کے بنچ نے مسترد کر دی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کلیم امام سے کہا کہ آپ کو موقع دیا تھا کہ اپنی غلطی کو درست کر لیں ۔ ایک آدمی کو بچانے کیلئے آپ نے اپنے پولیس افسران کو جھوٹا ثابت کر دیا، یہ رپورٹ دیانتدارانہ نہیں ہے، یہ آپ کی سروس کو خراب کرے گی، آپ کو پولیس اتھارٹی اور عزت کی پروا نہیں رہی ۔ کلیم امام نے کہا کہ ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ جمیل گجر کے خلاف مقدمہ نہیں بن رہا تھا ۔ چیف جسٹس نے وزیراعلی سے کہا کہ کس طرح آپ پولیس افسران کو اپنے دفتر بلا کر کہتے ہیں کہ میرے دوست کی بات سنیں، کب سے جانتے ہیں اس جمیل گجر کو؟ ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وزیراعلی نے کہا کہ مانیکا فیملی کا معاملہ وزیراعلی بننے کے تین دن بعد میرے علم میں آیا، میں نے مناسب سمجھا کہ پولیس افسران سے ذاتی طور پر بھی مل لوں اور یہ معاملہ حل کر لیا جائے ۔ اپنے ہاتھوں سے پولیس افسران کو چائے پیش کی ۔ چیف جسٹس نے وزیراعلی سے کہا کہ مانیکا فیملی تو ماشااللہ اس وقت بہت ٹاپ پر ہے، جمیل گجر کو کیوں بٹھایا، آپ خود کر لیتے، آپ نے پولیس فورس کی تباہی پھیر دی، افسران کی ذلت کرا دی ۔ فون کر کے کہلواتے ہیں کہ صبح افسر کی دفتر میں شکل نہ دیکھوں ۔ وزیراعلی نے کہا کہ تبادلے کرانے کیلئے کسی افسر سے رابطہ نہیں ہوا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق  چیف جسٹس نے کہا کہ جب ہم نے رابطے شروع کئے تو مسٹر سی ایم، سب کے رابطوں کی رپورٹ کھل کر سامنے آ جائے گی ۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالت سے معذرت کرتے ہیں، وزیراعلی کو عہدہ سنبھالے صرف تین دن ہوئے تھے ۔ چیف جسٹس نے آئین کی کتاب اٹھا کر کہا کہ اس میں آرٹیکل باسٹھ (نااہلی) اور عدالت کے اس حوالے سے دیئے گئے تین فیصلے پڑھ لیں ۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وزیراعلی کو اب آگاہی ہے آئندہ ایسا نہیں ہوگا، ہم نے قانونی مشیر بھی لگا دیا ہے تاکہ وزیراعلی ان سے ایسے امور میں مشورہ لے سکیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رات ایک بجے تبادلے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، کیوں ٹرانسفر کیا، اس لئے کہ وزیراعلی نے کہا کہ میری مملکت میں ابھی یہ حکم چلنا چاہئے، یہ کسی کی بادشاہت نہیں ہے، یہ جمہوریت ہے جمہوریت ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ کلیم امام کی رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے، احسن جمیل گجر وزیراعلیٰ کے پاس سفارش لے کر گئے تھے لیکن رپورٹ میں سب اچھا کہا گیا ہے، اسے مسترد کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت ایکشن کی ہدایات جاری کریں گے ۔

چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب سے کہا کہ کیا آپ لوگوں کو بٹھا کر کہتے ہیں کہ ان کی بات سنیں، جمیل گجر کس کا سرپرست ہے، عثمان بزدار نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ بتایا گیا کہ مانیکا فیملی کو خدشات ہیں، آئی جی اسلام آباد میں تھے اس لیے افسران کو بلایا، پولیس کو غیر سیاسی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب سے استفسار کیا کہ رات کو کیوں کہا کہ مجھے صبح اس پولیس افسر کی شکل نہیں دیکھنی، جس پر عثمان بزدار نے کہا کہ میں نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ رات ایک بجے کا تبادلہ ہضم نہیں ہو رہا، رات گئے تبادلے کے نتائج بھگتنا ہوں گے، وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اجلاس غیر اخلاقی تھا اور غیر اخلاقی اجلاس پر آرٹیکل 62 ون ایف لگ سکتا ہے ۔

سماعت کے دوران جمیل گجر اور سابق آئی جی پنجاب کلیم امام نے عدالت سے معافی مانگ لی ۔ سابق آئی جی پنجاب کلیم امام نے کہا کہ آئندہ محتاط رہوں گا، انتہائی ذمہ داری سے کام کیا تاہم غلطی ہوئی ہے تو عدالت کے سامنے سرنڈر کرتا ہوں ۔

عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب کو آئندہ احتیاط کرنے کی ہدایت کی اور سینئر پولیس افسر خالق داد لک کو رات گئے ڈی پی او کے تبادلے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ 15 دن میں پیش کرنے کا حکم دیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے