انڈیا دشمن ملک ہے

اظہر سید

اس خارجہ پالیسی کی کوئی کل سیدھی نہیں ۔ صرف وقتی مفادات کے تحت بھارت دوست ملک بنتا ہے اور دشمن بھی۔منتخب سیاسی حکومتوں میں بھارت دشمنی ایک مستقل پالیسی کے طور پر نظر آتی ہے ۔فوجی حکومتوں میں ایک استثنی کو چھوڑ کر بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی کوشش ہوتی ہے ۔یہ پہلی مرتبہ ہے ایک منتخب سیاسی حکومت نے طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور پہلی مرتبہ بھارت نے یہ ہاتھ جھٹک دیا اور جنگ کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں ۔1962 میں چین بھارت جنگ کے دوران صدر ایوب نے مقبوضہ کشمیر لینے کا سنہری موقع جان بوجھ کر کھو یا تھا چینی بھارت پر بکریاں چوری کرنے کا الزام عائد کر کے اشارے دیتے رہے کشمیر لے لو لیکن فوجی صدر نے چینیوں کی بات نہیں سنی سیٹو اور سینٹو کی سنی ۔چین بھارت جنگ کے بعد جب مغربی دنیا نے بھارتی اسلحہ خانے جدید ترین اسلحہ سے بھر دئے 1965 میں صدر صاحب مسلہ کشمیر کے مستقل حل کیلئے چل نکلے اور بھارت نے اپنی مرضی کا محاذ کھول دیا۔
بینظیر بھٹو اور نواز شریف دور میں یا آصف علی زرداری کی سول حکومتوں کے دوران کارگل مبئی حملوں یا اس طرز کے دیگر واقعات کے بعد بھارت سے دوطرفہ خوشگوار تعلقات کی بحالی ممکن ہی نہیں تھی ۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کیلئے فوجی صدور جیسے جنرل مشرف کے دور میں لائین آف کنٹرول پر باڑ لگانے کی اجازت دینا یا پھر موجودہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بھارت کو دہشت گردی پر بات چیت کی دعوت دینا بھارتی موقف کی واضح کامیابی اور پاکستانی موقف کی بہت بڑی ناکامی ہے ۔پاکستان کے ہاتھ میں اب بھارت کو فروخت کرنے کیلئے کچھ نہیں ہے ۔بھارت عالمی پلیٹ فارم پر ہمیشہ دہشت گردی کی بات کرتا رہا اور ہم کشمیر کی اس دفعہ ہم نے بھارتی موقف تسلیم کر لیا اور دہشت گردی پر بات چیت کیلئے آمادگی ظاہر کر دی لیکن بھارت نے ہاتھ ملا کر جھٹک دیا ۔
جو فصل ہم نے بوئی تھی اب ہمیں وہ کاٹنا ہے ۔بیک وقت بہت سارے محاذ کھول لئے ہیں ۔سی پیک بچ نکلنے کا موقع تھا ہم نے یہ موقع خراب کر دیا ہے۔امریکی ناراض ہیں ۔چینیوں کے ساتھ کھیلے گئے کھیل سے افغانستان میں نئے چیلنجز کھڑے ہونے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں ۔بھارتیوں کو چالاکی سے غیر جانبدار کرنے کی کوشش کر رہے تھے چالاک بنیا نے آپ سے دہشت گردی تسلیم کروا کے آپ کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔
کاش منتخب سیاسی حکومتوں کے ہاتھ مضبوط کئے جاتے اور بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی کوششوں میں بھر پور معاونت فراہم کی جاتی۔شرم الشیخ میں وزیراعظم گیلانی بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا معاملہ مشترکہ بیان میں لانے پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔ وزیراعظم گیلانی نے پارلیمنٹ میں صرف یہ پوچھ لیا "اسامہ کس کے ویزے پر آیا تھا ” انکی وزارت اعظمی بھی گئی اور بیٹا بھی اغوا ہوا ناک سے لکریں کھینچی تو بیٹا بازیاب ہوا۔
بینظیر بھٹو نے بھارت کے ساتھ ایٹمی تنصیبات کی فہرستوں کے تبادلے کا معاہدہ کر لیا ۔ نواز شریف نے واجپائی کو مینار پاکستان بلوا کر پاکستان تسلیم کرنے کا اعلان کروا لیا ،دونوں کو رسوائی ملی۔
خطہ میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال میں آج بھارت کی دوستی کی ضرورت ہے اور بھارتی پکڑائی نہیں دے رہے۔افغانستان میں ناکامی کے امریکی ردعمل سے بچنے کیلئے بھارتیوں کی اشد ضرورت ہے وہ چکر دے رہے ہیں ۔بھارت کو دشمن بنایا تھا اب بھگتیں ۔بھارتی پاکستان کے دشمن ہو سکتے ہیں لیکن دوستی ممکن تھی اب جن مشکلات میں پھنس گئے ہیں بھارت آپ کو محفوظ راستہ نہیں دے گا۔جس پالیسی کے تحت فاطمہ جناح کو بھارت کا دوست قرار دیا جاتا تھا اسی حکمت عملی کے تحت نواز شریف کو مودی کا یار بنایا گیا تھا ،چالاک حکمت ساز اپنے مقاصد کیلئے محترمہ بینظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک قرار دیتے رہے ۔بھارت دشمنی کی جو پالیسی تشکیل دی گئی تھی اس کا ردعمل بھی آنا تھا ۔بھارت میں اب انتہا پسند بی جے پی نے پاکستان دشمنی کو اسی طرح اپنی پالیسی بنا لیا ہے جس طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھارت دشمنی کو بنایا تھا۔اب پاکستان دشمنی بھارتی اداروں میں پھیل چکی ہے ۔وزیراعظم مودی جب پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کریں گے تو بھارتی فوجی سربراہ جنگ کی دھمکیاں دینا ضروری سمجھیں گے۔
کیا بھارتی نہیں جانتے پاکستانی وزیراعظم کی کیا اوقات ہے اور اسے کس طرح وزیراعظم بنایا گیا ہے ۔کیا چینیوں کو خبر نہیں نواز شریف کو سی پیک کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے ،کیا امریکی نہیں جانتے افغانستان میں کیا چل رہا ہے اور پاکستانی معیشت کس بحران کا شکار ہو چلی ہے۔بھارت کو بات چیت کی دعوت دینے کی بجائے اپنے گھر میں اتحاد قائم رکھا جاتا اور چینیوں کے ساتھ سی پیک سی پیک نہ کھیلا جاتا تو پیش آئندہ بحران کا مقابلہ ممکن تھا ۔بھارتی موقع سے فائدہ اٹھائیں گے اور حقارت کے ساتھ بات چیت کی پیشکش مسترد کر دیں گے ۔
ہم سمجھتے ہیں مسائل کے حل کی کنجی چین کے پاس ہے روسی بھی امریکی مخالفت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے اور ایرانی بھی ۔امریکہ ڈوبتی ہوئی اور چین ابھرتی ہوئی سپر پاور اور معیشت ہے ۔چینیوں کے تحفظات سنیں اور سی پیک کے خلاف مختلف حکومتی سطحوں پر جاری معاملات کو ختم کریں ۔ملک میں قومی اتحاد اور یکجہتی کیلئے اقدامات کریں تو شائد مودی یار بن جائے ورنہ چیلنجز شدید ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے