عدالت میں پنجاب اور ملک ریاض کا ڈیم

سپریم کورٹ نے راولپنڈی میں ڈڈوچھہ ڈیم کی تعمیر کیلئے پنجاب حکومت کو بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے جائنٹ وینچر سے بات چیت کر کے سترہ اکتوبر تک جواب جمع کرانے کیلئے کہا ہے ۔ عدالت نے سندھ میں زیر تعمیر ڈیموں کی معلومات اٹارنی جنرل کو ایک ہفتہ میں پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ڈڈوچھہ ڈیم کی تعمیر ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ بحریہ ٹاون نے ڈیم کی تعمیر کا پروپوزل دیا ہے، ہمیں عدالت میں جمع کرائی درخواست کی نقل دی گئی ہے، بحریہ ٹاون کی دلچسپی صرف ڈیم کی تعمیر میں ہے، لاگت پرپوزل کا حصہ نہیں۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ پانی کی فروخت سے ڈیم کی تعمیر پر آئے اخراجات پورے نہیں ہو سکتے، بحریہ ٹاون باضابطہ طور پر حکومت سے بات نہیں کر رہا، شفافیت برقرار رکھنے کے لیے بحریہ ٹاون کو بولی میں حصہ لینا ہوگا، ڈیم تعمیر پر بحریہ ٹاؤن سے اصولی اختلاف نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بحریہ ٹاون اور پنجاب حکومت مل بیٹھ کر معاملہ طے کریں، پانی کا مسئلہ حل نہیں کیا تو نتائج خطرناک ہوں گے، قوم میں بے چینی پیدا نہیں کرنا چاہتا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ صومالیہ نہیں بننا چاہتے، فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی شرائط حکومت کے ساتھ طے کریں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ اٹھارہ ہزار کنال پر ڈیم بننا ہے، گیارہ ہزار کنال بحریہ ٹاون کی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بقیہ سات ہزار کنال زمین حاصل کرنے میں بھی وقت لگے گا ۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ زمین حاصل کرنے کیلئے بجٹ موجود ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیےکہ کراچی کے پانی کے حوالے پچیس دسمبر کو خوش خبری ملے گی ۔ عدالت نے سندھ میں زیر تعمیر ڈیمز کی تفصیلات بھی طلب کر لیں ۔ اٹارنی جنرل کو تمام معلومات ایک ہفتہ میں پیش کرنے کا حکم دہتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں ٹریٹمنٹ پلانٹس پر تیزی سے کام جاری ہے ۔ ڈڈوچھہ ڈیم پر بحریہ اور پنجاب حکومت میٹنگ کرکے نتائج سے آگاہ کرے، ڈیمز بنانا عدالتوں کا کام نہیں، حالات کی سنگینی کے باعث مداخلت کر رہے ہیں، ڈیمز تعمیر کا حکم دینے سے پہلے تین ماہ ماہرین سے رائے لی ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ فریقین ہر میٹنگ کے نتائج سے رجسٹرار آفس کو آگاہ کریں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر کے لئے ایک شہری نے ترانا بھی بنایا ہے، ترانے کو ڈیمز کے اشتہارات کا حصہ بنایا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بحریہ ٹاون اور حکومت میں اتفاق نہ ہوا تو صوبائی حکومت ڈیم بنائے گی، عدالت زمین اور ڈیم دونوں کی حفاظت کرے گی۔ ڈیم بحریہ ٹاون بنائے کا ہے یا صوبائی حکومت کا، یہ عدالت دیکھے گی۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق درخواست گزار نے کہا کہ ڈیم کی زمین پر ہاوسنگ اسکیم بنائی گئی، ڈیم ہمارے لیے سب سے مقدم ہے، ڈیم کی زمین پر ہاوسنگ سوسائٹی نہیں بن سکتی ۔ عدالت نے ملک بھر کے تمام زیر التوا چھوٹے ڈیمز کی تفصیلات طلب کر لیں ۔ سماعت سترہ اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے