ملک ریاض ایک ہزار ارب دیں، چیف جسٹس

اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں اور شہر سے درختوں کی کٹائی کے ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔

ایڈیشنل اٹارںی جنرل نیئر رضوی نے عدالت میں رپورٹ پیش کی تو چیف جسٹس نے عدالت میں موجود ملک ریاض کو دیکھتے ہوئے ان کے وکیل اعتزاز احسن سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بحریہ انکلیو نے بھی سرکاری زمین پر قبضہ کیا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اعتزاز احسن نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا دفتر بھی نیشنل پارک کی زمین پر قائم ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے معلومات ملی ہیں بحریہ انکلیو نے بہت سی سرکاری اراضی گھیر رکھی ہے، سرکاری زمین پر گھر بھی بن چکے ہیں، یہ بحریہ ٹاون میں کیا ہو رہا ہے، سنا ہے بحریہ ٹاون اسلام اباد کی حد بندی بھی ہوئی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اسی دوران ملک ریاض عدات کی پچھلی نشستوں سے اٹھ کر روسٹرم تک گئے اور کہا کہ ایسی اطلاعات درست نہیں ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے مجھ سے 20 منٹ کا وقت بھی مانگا ہے ۔ ملک ریاض نے کہا کہ وہ ڈڈوچھہ ڈیم کیس میں استدعا کی ہے کہ مجھے سننے کیلئے وقت دیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ملک صاحب کیا آپ کے پاس ایک ہزار ارب ہیں؟۔ ملک ریاض نے کہا کہ میرے پاس سو ارب بھی نہیں ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ملک ریاض کے پاس پیسہ نہیں تو کس کے پاس پیسہ ہے، پورے پاکستان کا پیسہ ملک ریاض کے پاس ہے ۔

ملک ریاض نے کہا کہ میرے پاس حلال کا پیسہ ہے حرام کا نہیں ۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کو کب کہا کہ پیسہ حرام کا ہے، آئندہ سماعت پر ہزار ارب کا بندوبست کر کے آئیں ۔ ملک ریاض نے کہا کہ ہزار ارب تو امریکہ کے پاس بھی نہیں ہوگا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ یکم اکتوبر کو آپ کو بیس منٹ تک سنیں گے، ملک صاحب جو تجاوزات آپ نے قائم کی ہیں ان کی ادائیگی کرنا ہو گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے