خان اور نواز شریف نااہلی فیصلوں میں تضاد کیوں؟

عمران خان نااہلی کیس فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل میں لیگی رہنما حنیف عباسی نے چھ صفحات پر مشتمل متفرق درخواست دائر کر دی ۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف اور عمران خان فیصلوں میں تضاد دور کرنے کیلئے فل کورٹ تشکیل دے کر نظرثانی اپیل سنی جائے ۔

عدالت عظمی میں دائر کی گئی درخواست میں حنیف عباسی نے عمران خان نااہلی فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل سننے کیلئے  17 رکنی فل کورٹ بنانے کی استدعا کی ہے ۔ نظرثانی اپیل کل سماعت کیلئے مقرر ہے، حنیف عباسی نے استدعا کی ہے کہ عمران خان کو اہل قرار دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے، عمران خان آرٹیکل 62 ون ایف اور عوامی نمائندگی قانون کے تحت رکن قومی اسمبلی بننے کے اہل نہیں، سپریم کورٹ اسی نوعیت کے ایک مقدمے پانامہ میں نواز شریف کو نااہل قرار دے چکی ہے ۔

درخواست میں سیاست داںوں کی نااہلی کے لئے جسٹس قاضی فائز عیسی کی سات نکاتی تجاویز کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے ۔ جسٹس قاضی فائز نے شیخ رشید نااہلی کیس فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے نواز شریف اور عمران خان کے فیصلوں میں تضاد اجاگر کیا تھا ۔

عدالت عظمی کا تین رکنی خصوصی بنچ کل عمران خان اور جہانگیرترین نااہلی کیس فیصلوں پر دائر کی گئی نظرثانی اپیلوں کی سماعت کرے گا ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے