جہانگیر ترین کو بولنے کی اجازت نہ ملی

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے نااہلی فیصلے پر جہانگیر ترین کی نظرثانی درخواست خارج کر دی ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے ۔ عدالت نے عمران خان اہلیت فیصلے پر نظرثانی درخواست کی سماعت مؤخر کر دی ہے تاہم فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی ہے ۔

اس سے قبل جہانگیر ترین کمرہ عدالت پہنچے تو ان کے ساتھ اسحاق خاکوانی، عون چودھری اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی تھے۔ صحافی نے سوال پوچھا کہ جہانگیر ترین صاحب آپ کو ریلیف ملنے کی کتنی امید ہے؟ جواب دیا کہ دعا کر رہے ہیں جو ہو بہتر ہو، مجھے بہت امید ہے، کیس میں کچھ تکنیکی وجوہات تھیں اس لئے نااہلی کا فیصلہ آیا تھا ۔

چیف جسٹس ثاقب ںثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے عمران خان کی اہلیت اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے فیصلوں پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کا آغاز کیا تو وکیل اکرم شیخ روسٹرم پر آئے ۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ نظرثانی سننے کیلئے فل کورٹ بنانے کی درخواست دی ہے، عدالت مختلف مقدمات میں قانون کو ایک ہی طرح نافذ کرے، سپریم کورٹ کے ایک جج (قاضی فائز عیسی) نے بھی شیخ رشید اہلیت کے فیصلے میں یہ کہا ہے کہ سیاست دانوں کی نااہلی فیصلوں میں قانون کا اطلاق سب پر یکساں کیا جائے ۔ جسٹس عمر عطا نے وکیل اکرم شیخ سے کہا کہ کیا آپ اقلیتی فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں؟ اکرم شیخ نے جواب دیا کہ اقلیتی فیصلہ نہیں بلکہ اس میں چیف جسٹس کو سفارش کی گئی کہ اس پر لارجر بنچ بنایا جائے، شیخ رشید احمد کیس میں 7 سوالات اٹھائے گئے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں وہ قانونی وجہ بتائیں کہ کیوں لارجر بنچ تشکیل دیں ۔  اکرم شیخ نے جواب دیا کہ قانون تمام افراد کے لیے ایک ہونا چاہیے، ڈان اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ان فیصلوں پر نظرثانی کیلئے فل کورٹ تشکیل دی جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اخباروں کی رائے پر فیصلے نہیں کرتے ۔ عدالت نے نظرثانی اپیل سننے کیلئے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست مسترد کر دی ۔

عدالت میں جہانگیر ترین کی نظرثانی اپیل پر دلائل دیتے ہوئے ان کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ میرے موکل نے ٹرسٹ کے حوالے سے دستاویزات دی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یاد رکھیں ہم مقدمہ از سر نو نہیں سن رہے، نئی دستاویزات نظرثانی میں دائر نہیں کیے جاسکتے، چیف جسٹس نے ترین کے وکیل سے کہا کہ اب آپ جھانسہ دے رہے ہیں، کمپنی جہانگیر ترین نے بنائی، کیا لندن فلیٹس کی آف شور کمپنی فرشتے بنا کر چلے گئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آف شور کمپنی فرشتوں نے تو نہیں بنائی، ہم نے دستاویزات پیش کرنے کے لیے کئی مواقع فراہم کیے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کتنے ارب روپے پاکستان سے باہر لے کر گئے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ 50 کروڑ روپے فیصلے میں لکھا ہوا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب ایک مہم چلی ہوئی ہے کہ پیسے بیرون ملک سے واپس لائے جائیں، اتنے بڑے لیڈر نے پیسے واپس کرنے کے لیے کیا سوچا، ہم نے دستاویزات پیش کرنے کے لیے کئی مواقع فراہم کیے، مہربانی کر کے ازسر نو مقدمہ نہ لڑیں اجازت نہیں ملے گی، چیف جسٹس نے جہانگیر ترین کے وکیل سے کہا کہ پیسے چھپوانے کی ڈیوائس بنا لی، باہر فلیٹ آپ نے بنائے، تعمیر خود کروائی، رہتے وہاں ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ظاہری شناخت چھپا کر تفصیلات ظاہر نہیں کیں، ہم جہانگیر ترین کی ٹرسٹ ڈیڈ کو درست تسلیم نہیں کر رہے ۔ چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ آپ خود اپنے دلائل میں واضح نہیں ہیں، کمپنی کس نے بنائی، کمپنی کیسے بنتی ہے اس کا پہلے بھی پوچھا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سارے کا سارا فراڈ کیا گیا، ایک آفس ہولڈر نے دھوکہ دہی کر کے پیسہ باہر بھجوایا ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ پہلے آپ نے کہا تھا آپ کو نہیں پتہ ۔ وکیل نے کہا کہ ابھی میرے ذہن میں نام آیا۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ زیادہ پرجوش نا ہوں، ایک بڑی رقم کو پاکستان سے باہر لے جایا گیا ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عام شخص کی حیثیت سے آف شور کمپنی کے اثرات مختلف تھے، ایک آفس ہولڈر کے لیے اثاثے ظاہر کرنا لازم ہے، یہی تو باتیں ہیں ۔ وکیل نے کہا کہ ہم نے یہ سب بتایا تھا اور آج بھی اس کی تمام تفصیلات پیش کر رہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ جو بات ابھی کر رہے ہیں کیا مرکزی کیس میں یہ بات کی گئی؟ آپ آواز نیچی رکھیں، عدالت کا احترام کریں، عدالت کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، دھیمی آواز میں بولیں ۔ وکیل نے بتایا کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ آف شور کمپنی کے ڈائریکٹر اور شیئر ہولڈر بارے تفصیلات نہیں بتائی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو دستاویزات آپ دے رہے ہیں یہ اس وقت ہم مانگتے رہے ۔ وکیل نے کہا کہ اس وقت میرے پاس نہیں تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت آپ نے کہا تھا دے رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنجابی میں کہتے ہیں کہ لڑائی کے بعد یاد آنے والا تھپڑ اپنے منہ پر مارنا چاہیے ۔ وکیل نے کہا کہ مجھے پنجابی نہیں آتی، ٹرسٹ کے ساتھ میرے موکل کا کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے، آف شور کمپنی کے شیئرز ایچ ایس بی سی سے ای ایف جی میں منتقل ہوئے ۔

جسٹس عمر عطاء نے کہا کہ پاکستانی قانون میں اثاثے ظاہر کرنا لازم ہے، جہانگیر ترین نے اثاثے ظاہر نہیں کیے، ہم نے قانون کے مطابق طے کیا ہے، متعدد مقدمات میں اثاثے چھپانے پر فیصلوں کی مثالیں موجود ہیں ۔  وکیل نے کہا کہ پہلے ٹرسٹ بنا، پھر ٹرسٹ نے جائیداد خریدی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ ساری باتیں پہلے بھی سن چکے ہیں ۔ وکیل نے کہا کہ ای ایف جی آف شور کمپنی کی شیئر ہولڈر تھی ۔ وکیل نے کہا کہ میرے موکل عدالت میں بات کرنا چاہتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ وکیل ہیں، یہ نظرثانی کا مقدمہ ہے، بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ اس کے بعد عدالت نے نظر ثانی اپیل خارج کرنے کا حکم دے دیا ۔

عدالت کے باہر جہانگیر ترین سے فیصلے پر سوال کئے گئے تو وہ نو کمنٹس، نو کمنٹس کہتے ہوئے چلے گئے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے