امل قتل کی تحقیقات کیلئے کمیٹی

سپریم کورٹ نے کراچی پولیس کی فائرنگ سے 10 سالہ امل کے قتل اور اسپتال میں طبی امداد نہ ملنے کی تحقیقات کے لیے جسٹس ریٹائرڈ خلجی عارف حسین کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ کمیٹی میں پولیس افسر اے ڈی خواجہ، ڈاکٹرز اور وکیل بھی شامل ہوں گے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے کراچی میں 10 سالہ امل کے قتل پر لئے از خود نوٹس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران نجی اسپتال انتظامیہ کا جواب سامنے آیا جس کے مطابق امل کے والدین خود بچی کو دوسرے اسپتال لےجانا چاہتے تھے ۔

بچی کے والدین نے اسپتال انتظامیہ کی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ۔ مقتولہ امل کے والد نے عدالت کو بتایا کہ اسپتال انتظامیہ ہمیں بچی کو دوسرے اسپتال لے جانے کا کہہ رہی تھی، ہم نے اسپتال انتظامیہ سے کہا کہ اپنا عملہ اور مصنوعی تنفس کا سامان بھی ساتھ دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے غلط بیانی کرنے پر اسپتال کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے ۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پولیس نے اپنی غلطی تسلیم کر لی مگر نجی اسپتال دفاع میں جھوٹ گھڑ رہا ہے ۔
سپریم کورٹ نے جسٹس ریٹائرڈ خلجی عارف حسین کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی، کمیٹی میں سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، ڈسٹرکٹ بار کا نمائندہ اور ایک ڈاکٹر بھی شامل ہوں گے ۔ کمیٹی پولیس اور اسپتال کی غفلت کے علاوہ امن ایمبولینس سروس کی کوتاہی کی بھی انکوائری کرے گی ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں کسی ایک حکومت کی بات نہیں کرتا لیکن آج تک اسپتالوں کی حالت زار ایسی ہی ہے، کمیٹی کی سفارشات کے بعد اسپتالوں، پولیس اصلاحات کے لیے ضروری حکم جاری کریں گے، کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں بعد ہوگی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے