چینیوں سے مت بگاڑیں

اظہر سید

بھارتی اس دفعہ سرجیکل سٹرائیک کریں گے یا نہیں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن بھارتی فوج کے سربراہ کی دھمکی کے بعد پہلی مرتبہ چینیوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔جنرل باجوہ کے حالیہ دورہ چین کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں حقیقی سپر پاور اور دنیا کے سب سے طاقتور اور با اختیار چینی صدر کا کہنا تھا "سی پیک کو مکمل کیا جائے گا” اور پاک فوج کے سربراہ کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی "سی پیک کو مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے گی” لیکن چیف آف آرمی سٹاف کے دورہ کے موقع پر جاری کردہ مشترکہ بیان کی بازگشت ابھی جاری تھی بھارتی فوج کے سربراہ نے پاکستان کو سرجیکل سٹرائیک کی کھلے عام دھمکی دے ڈالی۔
مودی کے یار کی فراغت کے عمل کے دوران آئی ایس آئی کے دو سابق سربراہان جنرل احسان اور جنرل درانی اپنے سابقہ بھارتی ہم منصب جنرل دلت سے دنیا کے مختلف ممالک میں ملتے رہے مشترکہ کتابیں لکھتے رہے اور دونوں ملکوں کے درمیان فوجی کشیدگی کے خاتمہ کیلئےاپنا کردار ادا کرتے رہے ۔مودی کے یار کی فراغت کے بعد بھی دونوں ملکوں کی فوجی قیادت کے درمیان رابطے ہوتے رہے۔نیو یارک ٹائم میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا پاک فوج کی اعلی قیادت بھارتی فوجی قیادت سے رابطوں میں ہے۔پاک فوج کے حکمت ساز افغانستان میں حالیہ ماضی کی پیش رفت کے تناظر میں بھارت کو غیر جانبدار کرنے کے خواہاں تھے اور یہ ملک کے بہترین مفاد میں تھا ۔پاکستان میں کچھ غلط ہوا ہے جس سے چینی ناراض ہیں ۔نومنتخب وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے دوران چینیوں نے پاکستانی خارجہ پالیسی کے اصل مالکان سے بیجنگ میں بات چیت کی جس کا مرکزی نکتہ سی پیک کو درپیش چیلنجز کے حوالہ سے چینی موقف کا اس طرح اظہار تھا "سی پیک کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی”
پاکستانی عوام کو پالتو میڈیا کے ذریعے گمراہ کیا جا سکتا ہے عوامی جمہوریہ چین کو نہیں ۔بھارتی اگر کوئی ایڈونچر کرتے ہیں تو کیا پاکستان کی فوجی قیادت اس کی متحمل ہو سکتی ہے؟ بھارت کی طرف سے اگر محدود جنگ مسلط کی گئی تو کیا پاکستانی معیشت اس کا بوجھ اٹھا سکے گی ؟ بھارتی ایڈونچر کا کس طرح جواب دیا جائے گا ؟ پاکستان کے فوجی حکمت ساز جوابی حملے سے محدود یا کھلی جنگ کا خطرہ مول لیں گے ،بہت سارے سوالات ہیں اور تمام سوالات کا جواب چینیوں کے پاس ہے ۔
بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے معاملہ میں چینیوں نے پاکستان کی بھر پور مدد کی اور چند مواقعوں پر چینیوں نے بلوچ عسکریت پسندوں سے بات چیت بھی کی۔افغانستان میں چینیوں نے پاکستان کی مدد کی اور بھر پور مدد کی روسیوں کے ساتھ مل کر چینیوں نے افغانستان میں پاکستان کی جس طرح مدد کی اس کے نتایج پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمہ کی صورت میں نظر آئے ۔اب چینی ناراض ہیں افغانستان میں داعش اور طالبان نے امریکی اور بھارتی حمایت یافتہ افغان حکومت کا ناطقہ بند کر دیا تھا پچھلے ایک ماہ کے دوران افغانستان میں داعش اور طالبان کی کاروائیوں کو بریک سی لگ گئی ہے۔رواں ماہ کے شروع میں ماسکو میں ہونے والی افغان امن کانفرنس اچانک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران روس میں افغان امن کانفرنس کے نام پر تین اجلاس ہوئے جن میں ہمیشہ چین روس اور پاکستان کی طرف سے افغانستان میں قیام امن کے عزم کا اظہار ہوتا ۔اس طرح کے اجلاسوں میں پاکستان کو ہمیشہ فائدہ ہوتا تھااور پاکستان میں دہشت گردی کرانے والی قوتوں کو نقصان ہوتا۔چینی کیوں ناراض نہ ہوں نومنتخب حکومت جن بیرون ملک مقیم پاکستانی ماہرین معیشت کو معاشی کمیٹی میں شامل کر رہی تھی اس کے ایک سرخیل عاطف میاں نے پاکستان میں آکر ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے ہی سی پیک کو تمام معاشی خرابیوں کا ذمہ دار قرار دے دیا تھا ۔مجوزہ کمیٹی کے ایک اور نابغے سابق وزیر تجارت رزاق داود نے سی پیک کو ایک سال کیلئے منجمند کرنے کی تجویز دے ماری تھی۔
حالت یہ ہے فوجی سربراہ کی طرف سے سی پیک کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن عملی طور پر سی پیک منصوبوں پر نظر ثانی کے نام پر متعدد منصوبوں کے گرد سرخ دائرہ لگ گیا ہے۔کیا یہ حکومت سی پیک رول بیک کرنے کیلئے لائی گئی ہے ؟ یہ ملین ڈالر سوال ہے جس کا جواب خطہ میں ہونے والی تبدیلیوں میں ملے گا۔چینیوں نے اپنے اضطراب کے اظہار کیلئے اگر افغانستان میں پاکستان کی مدد بند کردی ، چینیوں نے بلوچ عسکریت پسندوں کو سمجھانے کا مسلسل عمل اگر روک دیا ،چینیوں نے اگر بھارتی ایڈونچر کی صورت میں پاکستان کو بیل آوٹ کرنے سے معذرت کر لی پھر کیا ہو گا کیا کوئی متبادل پلان موجود ہے ۔آئی ایم ایف والے آئے بیٹھے ہیں عالمی مالیاتی اداروں کے گماشتوں نے پاکستانی روپیہ کی قدر میں کمی کے فیصلوں سے درآمدات پہلے ہی مہنگی اور واجب قرضوں کے حجم میں اضافہ کرا دیا ہے اب نئے قرضے کیلئے کیا سی پیک کو رول بیک کرنے کی شرط بھی بات چیت میں زیر بحث آئے گی؟
چینیوں کو ناراض نہ کریں ایک طرف معاشی بحران ہے دوسری طرف بھارتی دھمکیاں ہیں ۔معاملات کو درست کر لیں سی پیک پر ڈرامے بند کر دیں چینی ابھرتی ہوئی طاقت ہیں امریکی سورج غروب ہو رہا ہے ۔نجات چینیوں کے تحفظات دور کرنے میں ہے وہ آئی ایم ایف سے بھی بچا لیں گے اور بھارتی دھمکیوں سے بھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے