پٹرولیم ٹیکس عدالت میں

سپریم کورٹ نے تیل و گیس کی قیمتوں کے کیس کی سماعت کے دوران پٹرولیم کے وزیر کا پوچھ لیا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کو بلائیں، پتہ کرکے بتائیں غلام سرور کتنی دیر میں آسکتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے پی ایس او کی طرف سے پرائیوٹ وکیل کے پیش ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ مقدمے میں پرائیویٹ وکیل کیوں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کو وکالت کیلئے کتنی فیس ملی؟ وکیل نے جواب دیا کہ میری وکالت کی فیس پندرہ لاکھ روپے طے ہوئی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پرائیویٹ وکیل کے پیش ہونے سے متعلق جسٹس قاضی فائز صاحب کا فیصلہ موجود ہے ۔ وکیل نے بتایا کہ سابق ایم ڈی پی ایس او اکتیس اگست کو ریٹائرڈ ہوگئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پی ایس او کو برباد کرکے رکھ دیا گیا ۔ ایم ڈی پی ایس او کو اتنی تنخواہ پر کیوں لگایا گیا، کیا سابق ایم ڈی پی ایس او ارسطو تھا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان بڑے محدود وسائل والا ملک ہے، ہر شعبہ میں کفایت شعاری کی ضرورت ہے، اپنے گھر کو ٹھیک کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کیوں سابق ایم ڈی پی ایس کو بھرتی کیا، بھرتیاں بظاہر ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر کی گئیں ۔

چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران نیب کی کارکردگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا، کہا کہ نیب نے اب تک کیا کیا، نیب نے کتنی انکوائریاں مکمل کیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چیئرمین نیب کو کہیں چیمبر میں آکر بریفنگ دیں، نیب نے عملی طور پر کچھ نہیں کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کی صرف آنیاں جانیاں لگی ہوئی ہیں،  ہم نیب کا مکمل ڈھانچہ بدل دیں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے احد چیمہ اور فواد حسن فواد کی گرفتاری سے متعلق بڑی بڑی خبریں چلوائیں، ہم نے نیب کو مکمل سپورٹ کیا، کیا عدلیہ کی طرف سے نیب کو دی گئی سپورٹ کم تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے زیادہ عدلیہ اور کیا کرے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں جس کو ڈی جی نیب کو لگایا گیا اس پر مقدمہ چل رہا ہے، جسٹس امیر ہانی مسلم کے عدالتی فیصلے کے باوجود نیب کے افسران کام کررہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سابق ایم ڈی پی ایس او کو اکتیس لاکھ روپے تنخواہ دی جاتی رہی ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پی ایس او میں صرف ایم ڈی کو بھاری تنخواہ پر نہیں لگایا گیا، اس کے علاوہ بھی ہیں، جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ جی ایم پی ایس او کی تنخواہ چودہ لاکھ روپے ہے، جی ایم ایچ آر کی تنخواہ تیرہ لاکھ روپے ہے، جی ایم فیول کی تنخواہ بھی تیرہ لاکھ روپے ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سب کو بلا لیں، پی ایس او میں کتنی مہنگی گاڑیاں ہیں ان کی تفصیل بھی دیں، احد چیمہ اور فواد حسن فواد کے مقدمے کا کیا ہوا؟ وکیل نے بتایا کہ ریفرنس فائل کیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب چیئرمین آکر اپنی کارکردگی کی تفصیل دیں ۔

پاکستان اسٹیٹ آئل کے حکام نے بتایا کہ موٹر آئل اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 62 فیصد درآمد ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، پیٹرول پمپ مالکان کو فی لیٹر پٹرول پر 3.47روپے ڈیلر کمیشن دیا جاتا ہے، قیمتوں کے تعین میں پی ایس او کا موثر کردار نہیں ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اوگرا قیمتوں کا تعین کرتا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قیمتوں کے تعین کے بعد معاملہ وزارت پٹرولیم سے ہوتا ہوا حتمی منظوری کیلئے کابینہ کے پاس جاتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے