خورشید شاہ کا چیف جسٹس کو جواب

پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سے پوچھا جائے کہ کیا وہ سیاست کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ بات انہوں نے سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی ۔

خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ لوگوں کو روزگار دیا لیکن موجودہ حکومت روزگار دینے کے بجائے روزگار چھیننے جا رہی ہے اور حکومت کے خلاف بولنے والوں پر مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں، میری زندگی کھلی کتاب ہے، میں عام انتخابات میں 8 مرتبہ کامیاب ہوا ہوں اورمجھ پر عوام کا اعتماد ہے، میں نے یا میرے اہل خانہ نے کسی کی ایک انچ زمین پرقبضہ نہیں کیا، میں نے 10 سے 15 ارب کی زمینی خالی کرائیں، اگر میں نے کوئی کرپشن کی ہے تو پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائیں اورتحقیقات کریں ۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جوبھی حکومت آتی ہے خود کوتحفظ فراہم کرنے کیلیے سرکلرڈیٹ کا سہارا لیتی ہے، سپریم کورٹ سیاست کا حصہ بننے جارہی ہے، چیف جسٹس سے پوچھا جائے کہ کیا وہ سیاست کرنا چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس پاکستان وفاقی حکومت کو بجٹ کا 15 فیصد ڈیم کی تعمیر کے لیے مختص کرنے کا حکم دیں ۔

یاد رہے کہ خورشید پر ریڈیو پاکستان میں 800 افراد کو بھرتی کرنے کا الزام وزیر اطلاعات فواد چودھری نے لگایا تھا اور ان کے پارلیمان میں بولنے کے ایک گھنٹے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک سیاست دان کہہ کر عدالت میں یہی بات دہرائی تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے