قندیل بلوچ قتل، معافی کی جھوٹی خبر

(ملتان میں قتل کی گئی ماڈل قندیل بلوچ کے والدین نے قاتل بیٹے کو معاف کر دیا ہے ۔ مقتولہ کے والد اور مدعی مقدمہ نے ملزم بیٹے کو معاف کرنے کا بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا ہے) ۔ یہ خبر ایکسپریس نیوز سمیت مختلف نیوز چینلز کی ویب سائٹ نے دی ہے اور وفاقی وزیر اطلاعات نے اس کو ٹوئٹ کر کے پنجاب حکومت سے کیس میں خود فریق بننے کیلئے بھی کہا ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ خبر غلط ہے ۔ آن لائن اور سوشل میڈیا کی جانب سے پھیلائی گئی فیک نیوز (جعلی خبروں) میں اس خبر کا بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔

جعلی خبر کے مطابق سوشل میڈیا پر متنازع ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والی ماڈل قندیل بلوچ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم اور مقتولہ کے سگے بھائی وسیم کو والدین نے معاف کردیا ہے ۔

یاد رہے کہ پولیس کو اپنے پہلے بیان میں مقتولہ کے والد نے کہا تھا کہ قندیل کو میرے چھوٹے بیٹے نے بڑے بیٹے کے ورغلانے پر قتل کیا ہے۔ واضح رہے کہ قندیل بلوچ کا بڑا بھائی فوج میں حوالدار تھا ۔

قندیل بلوچ  16 جولائی 2016 کی صبح مظفر گڑھ میں اس کے کمرے میں مردہ حالت میں پائی گئی تھی ۔ قتل کا مقدمہ قندیل کے والد عظیم کی مدعیت میں تھانہ مظفر آباد میں درج کیا گیا تھا ۔ دوران تفتیش معلوم ہوا کہ قتل میں اس کا اپنا بھائی وسیم ملوث ہے ۔ جس نے اپنے کزن حق نواز کے ساتھ مل کر قندیل کا غیرت کے نام پر قتل کیا تھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے