مجازی خدا

مطیع اللہ جان

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں دنیا اور آخرت دونوں اپنے نام کی جا سکتی ہیں۔ اس کا اندازہ وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ سوئم اور خاتون اول بشریٰ بی بی کا ٹی وی انٹرویو دیکھ کر ہوا۔ بشریٰ بی بی فرماتی ہیں کہ خان صاحب بنیادی طور پر نیک روح تھے، انسان جب بھٹکتا ہے تو اس کو پتہ نہیں چلتا مگر نیک روح نے جلد یا بدیر ہر حال میں درست راستے پر آنا ہوتا ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے جب انسان کو ہدایت مل جاتی ہے۔ خاتونِ اول کی یہ بات سن کر نجانے اہلیہ اول جمائما خان اور اہلیہ دوٴم ریحام خان پر کیا گزری ہو گی۔ جمائما خان تو خان صاحب کی بھٹکپن کی عمر کی ساتھی بنیں اور ریحام خان ان کے بڑھکپن کے دور میں خان صاحب کی زندگی میں آئیں۔ خان صاحب کا ازدواجی سفر دورِ جدید کی نو مسلم جمائما خان شروع ہوا اور ریحام خان کےدخترِ مشرق والے دوپٹے سے گزرتے ہوئے اب الحمدللہ باپردہ اور باشرع بشریٰ بی بی کے در تک پہنچ چکا ہے۔ بشریٰ بی بی نے ٹھیک کہا کہ نیک روح جتنی بھی بھٹکتی رہے وہ ایک نہ ایک دن صحیح راستے پر آ ہی جاتی ہے۔

خان صاحب بہت خوش قسمت ہیں ، انہوں نے جوانی میں دولت اور شہرت کمائی ، بڑھاپے میں عزت اور اب آخری وقت میں انہیں سیاسی قوت کے ساتھ اچھی آخرت کی بشارت نصیب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ عمران خان نے جمائما خان کے لائف پارٹنر اور ریحام خان کے شوہر نامدار کا اعزاز تو حاصل تھا ہی مگر مجازی خدا کا رتبہ انہیں بشریٰ بی بی کی مریدی سے ہی ملا ہے۔ اپنی اپنی زوجیت کے دوران عمران خان کی تعریفیں تو جمائما خان اور ریحام خان نے بھی کیں مگر جن باتوں کا انکشاف بشریٰ بی بی نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں پردے کے پیچھے سے کر دیا ہے وہ باتیں جمائما خان اور ریحام خان کے علم میں بھی اضافہ کر رہی ہونگی۔ ۔ مثلاً یہ کہ خان صاحب اپنے لباس کے بارے میں انتہائی لاپرواہ ہیں اور اس حوالے سے وہ درویشی کی حد تک دوسروں کی عطا کردہ خلعت پر انحصار کرتے ہیں (چاہے حکمرانہ خلعت ہی کیوں نہ ہو)۔ اور یہ کہ وہ پودے کو پانی نہ ملنے پر پریشان ہو جاتے ہیں۔ خیر یہ پریشانی تو قدرتی امر ہےجو بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے۔ بزرگ اور ریٹائرڈ افراد یونہی تو نہیں آخری عمر میں کسی پودے کو پانی دے کر ہی خوش ہوتے رہتے ہیں۔ مجازی خدا کی ایسی بندگی سے بشرا بی بی نے اپنا حقِ زوجیت ادا کر دیا ھے جو لمحہِ موجود کی دنیاٴ اسلام کی تمام خواتین و خواتینِ اولین کے لیئے ایک ’نمونہ‘ ھے۔

بظاہر خان صاحب کی چھیاسٹھ سالہ زندگی کا درویشانہ آغاز تقریباً چار ماہ قبل الیکشن سے پہلے ہوا ھے۔ پیروں فقیروں اور خاص کر حضرت داتا گنج بخش ، بابا فرید گنج شکر کے در پر ماتھا ٹیک کر انکی ساری عمر یورپ اور خاص کر امریکہ میں بھٹکتی بھولی روح شام اندھیرے گھر واپس آ چکی ھے۔ بدروح نے نیک روح کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے ہیں۔ مگر دو روحوں کے درمیان اندرونی سیاسی کشمکش اب بھی جاری ھے۔ اب مقابلہ آج کی اور اس سے پہلے کی زندگی کے درمیان ہے۔ایک دور تھا جب عمران خان اور نواز شریف دونوں ہی دنیاوی زندگی کے پیروکار تھے۔ اور جب کشمکش اقتدار کی ہو اور بیرونی حریف سے تو بدروح کا حاوی ہونا سیاست کہلاتا ھے۔ اب دیکھیں نا خان صاحب اور میاں صاحب نے اپنا دورِ بھٹکپن ایک ہی طرح گذارا جب دونوں ہی ’مادہ پرستی‘ کا شکار ہو کر تقریباً ایک ہی وقت میں لندن میں جائیدادیں بنا رہے تھے۔ میاں صاحب شاید بروقت ’ہدایت‘ نہ پا سکے اور اس لئےآج بھی بھٹکے ہوئے ٹھہرے۔ ان کو بھی کوئی پیر شِیر مل جاتا تو آج دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہو جاتے ۔ آج بھی مقابلہ ایک کتاب اور ایک ٹی وی انٹرویو کا بھی ہے۔ ریحام خان کی کتاب میں خان صاحب کے بڑھکپن کے قصّے انکی درویشی کے دوسرے پہلووؤں کو اجاگر کرتے ہیں جے پڑھ کر انسان کی بدروح بھی کانپ اُٹھے۔ شاید یہ وہ دور تھا جب خان صاحب کو ہدایت نصیب نہیں ہوئی تھی۔ پھر کیا ہی حسین اتفاق ہوا کہ خان صاحب کو نہ صرف بشریٰ بی بی کے روپ میں ہدایت ملی بلکہ اقتدار کی سِلی سلائی خلعت بھی۔

بشریٰ بی بی باشرع اور باپردہ خاتون ہیں۔ پاکستان جیسے معاشرے میں باپردہ مسلمان خواتین خود کو زیادہ محفوظ تصور کرتی ہیں جوکافی حد تک درست بھی ہے ۔ نقاب کے پیچھے ہماری معزز خواتین نہ صرف معاشرے کی چبھتی نظروں سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ معاشرے کے ہی چبھتے سوالات کا باآسانی مقابلہ بھی کر سکتی ہیں۔ کئی سوالات تو ایسے ہوتے ہیں کہ جن پر عمران خان جیسے کھلاڑی بھی اپنے چہرے کی بے چینی نہیں چھپا سکتے اور ایک ھوئے کیچ پر کپتان والا ردِ عمل دیتے ہیں۔ سیاستدانوں کے ٹی وی انٹرویو میں ناظرین کی نظریں انکے جوابات سے زیادہ انکے چہرے پر گڑی ہوتی ہیں تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ یہ شخص سچ بول رہا ہے یا جھوٹ ۔ سچ اور جھوٹ سے متعلق تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی ٹی وی انٹرویو دیتے ہوئے جو فائدہ ایک باپردہ اور برقع پوش خاتون کو ہوتا ہے وہ فائدہ جمائما خان یا پھر با دوپٹہ ریحام خان کو بھی حاصل نہیں رہا۔ بشریٰ بی بی کا ٹی وی انٹرویو کسی اس ریڈیو انٹرویو سے مختلف نہ تھا جس میں لوگوں نے خود کو ناظرین سے زیادہ سامعین تصور کیا ہوتا ہے۔ بشریٰ بی بی نے اپنے انٹرویو میں یہ ثابت کر دیا کہ اگر پاکستان کی کوئی خاتون اپنے مجازی خدا کی وفاداری اور وکالت کرنے پر آئے تو حقیقی خدا بھی اسکے حق میں فیصلہ دے گا۔ بشریٰ بی بی نے عمران خان کو راہ ِراست پر آ جانے والے اس شخص سے تعبیر کیا جس کی روح بھٹک گئی تھی۔ یوں محسوس ہوا کہ اس ایک شخص کو راہِ راست پر لانے کے لئے ہی بشریٰ بی بی نے ایک عظیم قربانی دی۔ خاتون اول کا انٹرویو ایک ایسے وقت میں آیا جب وزیراعظم عمران خان اپنے انتخابی وعدوں کے برخلاف مِنی بجٹ اور اضافی ٹیکسوں کے ذریعے غریب عوام پر مہنگائی کی سونامی لا چکے ہیں اور انکی بھیگی آنکھیں دیکھ کر انکے دکھوں کا مداوا کرنے والے بہت سے پیر وفقیر حضرات بھی اپنی جائے کار چھوڑ چکے ہیں ۔ خاتونِ اول کے ٹی وی انٹرویو نے غریب عوام کو اپنی غربت بُھلا کر عمران خان کی درویشی پر آنکھیں نم کر نے کا سنہری موقع فراہم کیا ہے۔ ایک شخص جس کے پاس اپنا لباس سلوانے کے بھی پیسے نہیں وہ شخص جب اپنی کٹی پھٹی جوتیوں کے ساتھ تین سو کنال کے گھر میں پھرتا ہو گاتو کیا دردناک منظر ہو گا۔ عوام کا عقیدہ مضبوط ہوا اور عقیدت پروان چڑھی جس کے بعد ہماری عوام اب ٹیکس تو کیا تھانہ کچہری اور دوسرے سرکاری اداروں میں دھکے، ڈنڈے، تھپڑ، مکے تبرکاً کھانے کو تیار ہو گی بلکہ درویش خان صاحب کے لئے انکے بنی گالہ کے خیمے کے گرد طویل دیوار کو دیوارِ مہربانی بنا دے گی جس پر نئے پرانے اور استری شدہ کپڑے لٹکائے جائیں گے ۔پاکستان کے مرید وزیراعظم کے مرید عوام کے پاس اپنی وفاداری ثابت کرنے کے ابھی اور مواقع بھی آئیں گے،
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
اب آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

بشریٰ بی بی سے عوامی دلچسپی کے کچھ اور سوالات بھی پوچھے جا سکتے تھے جسکی اجازت نرم گفتار سینیئر صحافی ندیم ملک کی صحافت نے شاید نہ دی۔ مثلاً کیا یہ ممکن نہ تھا کہ ان کے اور عمران خان کے درمیان عقیدت کا تعلق ہی برقرار رہتا؟ نئے تعلق کو قائم کرنے کے لئے پہلی تجویز کس کی طرف سے دی گئی؟ کیا یہ تجویز یا خیال خاور مانیکا سے تعلق ٹوٹنے کے بعد آیا ؟ خاور مانیکا سے تعلق توڑنے کی وجہ کیا تھی؟ عمران خان سے شادی کرنے پر بچوں کا ردعمل کیا تھا؟ عمران خان سے بطور ایک پیرنی انکی پہلی ملاقات کب اور کیسے ہوئی؟ کیا وہ چاہیں گی کہ عمران خان کے بچے بھی پاکستان آ کر انکے ساتھ رہیں اور اسلامی طرزِ زندگی اپنائیں؟ بطور ایک ماں کیا آپ نے عمران خان سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ انکی کوئی بیٹی بھی ہے؟ کیا وہ چاہیں گی کہ کم از کم تحریک انصاف کی تمام خواتین باپردہ یا برقع پہننا شروع ہو جائیں؟ ان کے نزدیک پیسوں کی لالچ اور اقتدار کی لالچ میں کیا فرق ہے؟ کیا ریحام خان کی کتاب میں لگائے گئے الزامات درست ہیں؟ ایک فرد واحد کے پیچھے آپ نےہزاروں لوگوں کو راہ راست پر لانے کا کام کیوں چھوڑا اور اپنےمریدین کو دوسرے پیروں کی تلاش پر مجبور کیوں کیا؟ کیا عمران خان کے ارد گرد موجود مشیران اتنے ہی پارسا ہیں جتنے وہ خود؟ ان سوالات کے جوابات دینا بشریٰ بی بی جیسی نڈر اور بہادر خاتون اول کے لئے ناممکن نہیں۔ ہماری صحافت اور سیاست کا المیہ ایک ایسے ہی ٹی وی انٹرویو میں پہلے بھی ظاہر ہو گیا تھا جب ریحام خان نے بطور اہلیہ اور ایک ٹی وی اینکر کے اپنے ہی شوہر نامدار اور سیاستدان کا اپنے ہی گھر میں انٹرویو کیا تھا جس کو ایک موقر ٹی وی چینل نے نشر کیا۔اس پر ریحام خان آج بطور سابق اہلیہ تو نادم ہونگی مگر بطور صحافی شاید اب بھی نہیں۔ بشریٰ بی بی کا انٹرویو بھی ایک پیرنی کا اپنے مجازی خدا کے لئے نیک خواہشات سے بھرپور پیغام ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ یہ انٹرویو بھی خان صاحب خود کر لیتے تو لوگ دو نیک روحوں کے بیچ گفتگو میں محو ہو کر حکومت کے مِنی بجٹ کو مکمل طور پر بھول جاتے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے