بنی گالہ کو باضابطہ بنائیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے بنی گالہ سے گزرنے والے کورنگ نالے کے ساتھ تجاوزات کو گرانے کا حکم دیا ہے، عدالت نے بنی گالہ میں تعمیرات کو باضابطہ بنانے کیلئے حکومت کو پالیسی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے عمران خان کی درخواست پر لئے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے عدالت میں علاقے کے سروے کی رپورٹ پیش کی ۔ نیئر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ سروے جنرل پاکستان نے کورنگ نالے کا ۲۱ کلومیٹر تک سروے کیا ہے، نالے کے ساتھ 613 کنال اراضی پر تجاوزات ہیں ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سی ڈی اے، وفاقی محتسب کی رپورٹس اور سروے آف پاکستان کی رپورٹس ایک جیسی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تجاوزات کو ختم کیا جائے، یہ حکومت کا کام ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں یہ درخواست عمران خان لے کر آئے تھے، اب وہ وزیراعظم بن گئے ہیں، بنی گالہ میں تجاوزات اور پانی آلودگی جیسے مسائل بھی ہیں، اب نئی حکومت آگئی ہے ان معاملات کو حل کرے، جنھوں نے غیر قانونی تعمیرات کیں ان سے جرمانے لیے جائیں ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق کورنگ نالے کے ساتھ قابضین میں عیشہ ملک، وقار جمال، طارق آفریدی اور بلو بیگم شامل ہیں، بلو بیگم نے سولہ کنال پر قبضہ کیا ہے، قبضہ کی گئی اراضی پر عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں، کہیں پلاٹ بنائے گئے ہیں اور کہیں پر یہ زرعی استعمال میں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب حکومت وقت کے ہاتھ میں ہے اس بے قاعدگی کو باقاعدہ اور باضابطہ بنائیں، اگر کوئی جرمانہ کرنا ہے تو کریں اور پہلے خود سے شروع کیا جائے، حکومتی شخصیات اپنے جرمانے بھی ادا کرے دوسرے لوگوں سے بھی لے ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کورنگ نالے میں کئی مقامات پر صرف گندگی پڑی ہے اور پانی کا بہاؤ نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سب حکومت نے ٹھیک کرنا ہے، حکم دے دیتے ہیں کہ ساری تجاوزات ختم کی جائیں ۔

بابر اعوان ایڈووکیٹ عمران خان کی جانب سے پیش ہوئے اور بتایا کہ وزیراعظم نے اس مسئلے پر تین اجلاس کئے ہیں اور پیش رفت کی جا رہی ہے، اس لئے کچھ دن کی مہلت دی جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جمعہ تک مہلت دیتے ہیں اگر حکومت سے نہ ہو سکا تو ہم حکم جاری کریں گے ۔

عدالت نے کورنگ نالے کے ارد گرد موجود تجاوزات کو ہٹانے کی ہدایت کی جبکہ بنی گالہ میں بے ضابطہ تعمیرات کو باضابطہ بنانے کیلئے حکومت کو پالیسی بنانے کی ہدایت کی ۔ سماعت جمعہ کے روز تک ملتوی کر دی گئی ۔

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے