پی ٹی آئی ہمارے پیچھے چلتی ہے، چیف جسٹس

لاہور میں منشا بم کے قبضے کے مقدمات کی آواز لگی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کدھر ہے منشا بم؟ کدھر ہے پولیس افسر؟ شہزاد کہاں ہے؟ ۔

پنجاب پولیس کے افسر شہزاد نے پیش ہو کر بتایا کہ منشا کھوکھر عرف بم کی گرفتاری کیلئے بہت چھاپے مارے، سرگودھا میں بھی ریڈ کئے مگر ہاتھ نہیں آیا، ایجنسیوں سے بھی مدد لی ہے مگر ابھی تک گرفتار نہیں کر سکے، ٹیمیں لگی ہوئی ہیں ۔

چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے ایم این اے کرامت حسین کھوکھر کو بلایا تو منشا بم کے سرپرست تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کرامت کھوکھر نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ میں نے اس بچے کو چھڑا کر بڑی غلطی کی ہے، مجھے معافی دی جائے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کا کیا ہے؟ کرامت حسین نے جواب دیا کہ رشتہ دار نہیں ہے مگر برادری کا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے گزشتہ روز عدالت میں کہا تھا کہ اسے جانتے تک نہیں، اب چھڑانے کا کہہ کر معافی مانگ رہے ہیں ۔ کرامت حسین نے کہا کہ مانتا ہوں پولیس افسر شہزاد کو فون کیا تھا اور کہا تھا کہ میرٹ پر فیصلہ کریں، میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عوامی نمائندوں کی بہت عزت کرتے ہیں، پولیس کے ساتھ زیادتی کی اور بیرون ملک مقیم پاکستانی کی جائیداد پر قبضہ کر لیا، پھر آپ نے چھڑا لیا ۔ 

ایم این اے کرامت حسین نے کہا کہ آئندہ کبھی زندگی میں ایسا نہیں کروں گا ۔ عدالت نے رکن پنجاب اسمبلی ندیم عباس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے غلط فہمی ہوگئی تھی، مجھے معاف کر دیں، بہت غلط فہمی ہوگئی تھی ان (کرامت کھوکھر) کے ساتھ عدالت آ گیا تھا ۔ (عدالت میں ہنسی کی آواز سنائی دی) ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عوامی نمائندے ہیں ۔ وکیل شاہ خاور نے کہا کہ دونوں معافی مانگ رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تحریری معافی نامے عدالت میں جمع کرائیں ۔

پولیس افسر شہزاد نے بتایا کہ منشا بم مافیا ہے، سینکڑوں لوگ ان کے متاثرہ ہیں، لوگ بے چارے روتے پھرے ہیں، پچھلی حکومت میں یہ ن لیگ کے ساتھ تھے، یہ مافیا تیس سال سے قبضے کرنے میں ملوث ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے قبضے واگزار کرائیں، منشا بم تو مفرور ہو گیا ہے ۔ چیف جسٹس نے پولیس افسر سے کہا کہ آپ بم شم سے ڈر تو نہیں گئے؟۔ چیف جسٹس نے ایم این اے کرامت کھوکھر سے کہا کہ آپ کی جان پھنسی ہوئی ہے، منشا بم سے کہیں کہ پیش ہو جائے، میں تو یہ معاملہ وزیراعظم کو بھیج رہا تھا کہ ان کی پارٹی ہے تو انضباطی کمیٹی دیکھے ۔ کل اور آج کے بیان پر آرٹیکل باسٹھ ون ایف لگ سکتا ہے، بتائیں کب بم کو عدالت میں پیش کریں گے؟۔

چیف جسٹس نے عدالت میں بیٹھے وکیل احسن بھون سے کہا کہ شاہ خاور ایڈووکیٹ کے ساتھ مل کر ایم این اے اور ایم پی اے کی ‘اسٹرانگ اپالوجی’ (معافی نامہ) لکھ کر عدالت میں لائیں ۔ چیف جسٹس نے کرامت کھوکھر سے کہا کہ منشا بم کی گرفتاری میں پولیس کی معاونت کریں، پی ٹی آئی کو بھی آپ کا معاملہ بھیج رہے ہیں ۔ کرامت کھوکھر (نہایت گھبرائے ہوئے) لہجے میں کہنے لگے، آئندہ، اللہ کے فضل سے، جیسے بھی، کسی بھی، ایسے آدمی کی سفارش نہیں کروں گا ۔ (اس دوران عدالت میں بیٹھے لوگ مسکراتے رہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تو پارلیمان کو، آپ، عوامی نمائندوں کو بہت عزت دینا چاہتے ہیں ۔ انضباطی کمیٹی، ڈسپلنری کمیٹی میں اگر اس طرح کے افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے ۔ چیف جسٹس نے پولیس افسر سے پوچھا کہ منشا بم کے بیٹوں کے نام کیا ہیں جو بدمعاشی کرتے تھے ۔ پولیس افسر نے تین نام لئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ سب کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم جاری کرتے ہیں ۔ پولیس ان جائیدادوں کی فہرست بنائے جن پر قبضہ ہے اور جن پر کسی عدالت نے حکم امتناعی جاری نہیں کیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلی کا بیان بھی آیا ہے جو اچھا ہے، پی ٹی آئی ہمارے پیچھے پیچھے چلتی ہے، جو کام ہم کرتے ہیں یہ بھی شروع کر دیتی ہے، ہم نے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی شروع کی تو آج وزیراعلی کا بیان بھی آ گیا کہ وہ بھی کارروائی کریں گے، سپریم کورٹ کی وجہ سے ایک عورت کو ساٹھ سال بعد قبضہ ملا ہے، یہ سارے حکومت کے کرنے کے کام ہیں، یہ تو ایم این اے کرامت کھوکھر کو کیمپ لگا کر بیٹھنا چاہیئے تھا اور لوگوں کے قبضے چھڑاتے ۔

پولیس افسر نے درخواست کی کہ تفتیشی افسر کو تبدیل نہ کرانے کا بھی حکم جاری کیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی پولیس افسر کو وزیراعلی نے بھی بدنیتی سے ٹرانسفر کرایا تو ہم دیکھ لیں گے، عدالت بیٹھی ہوئی ہے ۔

سماعت کے اختتام پر عدالت نے پنجاب میں زمیںوں پر قبضے کے ملزم منشا کھوکھر بم اور اس کے بیٹوں کے نام ایگزٹ کنٹرول فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا جبکہ منشا بم کی سرپرستی کرنے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کرامت کھوکھر اور رکن پنجاب اسمبلی ندیم عباس کی معافی قبول کر لی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے