جسٹس صدیقی کیس میں حکم کب؟

اعلی عدلیہ کے ججوں کا احتساب کرنے والے فورم سپریم جوڈیشل کونسل نے آئی ایس آئی کی درخواست پر لئے گئے نوٹس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے جواب کے بعد ان کے وکیل حامد خان کو آج تین گھنٹے تک سنا ہے ۔

ذرائع کے مطابق جسٹس صدیقی کے جواب کے بعد کونسل نے شکایت کو باقاعدہ ریفرنس کے طور پر منظور کیا اور آج جسٹس صدیقی کو خود یا وکیل کے ذریعے اپنا موقف پیش کرنے کیلئے کہا تھا ۔ جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے ان کے وکیل حامد خان پیش ہوئے اور تین گھنٹے تک دلائل دئیے ۔

واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں عدالت عظمی کے چیف جسٹس کے علاوہ دو سینئر ججز شامل ہوتے ہیں جبکہ دو ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں ۔ کونسل کے سامنے اٹارنی جنرل استغاثہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ کونسل کی کارراوئی ان کیمرا ہوتی ہے جس کی میڈیا کو رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔

جسٹس صدیقی نے الزام لگایا تھا کہ آئی ایس آئی عدلیہ کے امور میں مداخلت کرتی ہے ۔ انہوں نے راولپنڈی بار سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ خفیہ ایجنسی والے عدالت کے بنچ بنانے میں بھی مداخلت کرتے ہیں ۔

اس الزام کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس کا نوٹس لیا تھا جبکہ فوج کے ترجمان نے بعد ازاں ٹویٹ کر کے لکھا تھا کہ نوٹس ہماری درخواست پر لیا گیا اور ہم نے اس الزام کی شکایت کی تھی ۔

ذرائع کا کہنا ہے کی آج کی کارروائی کے اختتام پر کونسل نے کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا ۔ جسٹس صدیقی کے وکیل کو کہا گیا ہے کہ ان کو بعد میں اطلاع کر دی جائے گی جب کونسل کسی نتیجے پر پہنچے گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے