حب الوطنی پر شک کا جواب

چیف جسٹس ثاقب نثار کے دائیں جسٹس فیصل عرب اور بائیں جسٹس اعجاز الاحسن بیٹھے تھے ۔ مقدمہ سات سالہ بچے کی کفالت اور حوالگی کا تھا ۔ میاں بیوی میں علیحدگی ہو چکی ہے ۔ بچہ ماں کی تحویل میں کراچی میں رہتا ہے ۔ بچے کی ماں شہرزادے جمالی کینیڈا کی دہری شہریت بھی رکھتی ہیں ۔

بچے کے باپ ہاشم گیلانی نے سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے ۔ انہوں نے عدالت میں ایک متفرق درخواست کے ذریعے بچے کو پاکستان سے باہر لے جانے کے خلاف حکم امتناع بھی مانگ رکھا ہے ۔ ہاشم گیلانی کے وکیل فیصل نقوی نے عدالت کو بتایا کہ والد بچے کیلئے کچھ بھی ماننے کو تیار ہے، اگر سپریم کورٹ بچے کو باپ کے حوالے کرتی ہے تو وہ کراچی میں آ کر مستقل سکونت اختیار کر کے اس کی کفالت کرے گا ۔ اس کا بچے سے لگاؤ ثابت کرنے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ اس نے کویت سے 160 مرتبہ بچے سے ملنے کیلئے کراچی کا سفر کیا ۔ بچے کا والد عدالت میں موجود ہے، مگر میں نہیں چاہتا کہ وہ خود بات کرے وہ جذباتی ہو جائے گا ۔ اس دوران بچے کا والد عدالت میں اپنی نشست پر کھڑا ہو گیا ۔ وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل ہاورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی سے پڑھے ہیں، ان کی اہلیہ نے بھی وہیں سے پڑھا ہے ۔

چیف جسٹس نے دوسرے فریق کے وکیل سے پوچھا کہ کیا بچے کی ماں بھی عدالت آئی ہیں؟۔ اسی دوران خاتون روسٹرم کے قریب آئیں تو چیف جسٹس نے مخاطب کر کے کہا کہ مجھے نئی نسل سے امید ہے، ہمارا دور گزر گیا۔ اب نئی نسل نے کرنا ہے، یہ بچہ بھی ہماری نئی نسل ہے ۔ آپ بچے کو کینیڈا کیوں لے کر جانا چاہتی ہیں، بچے کا تو وہاں کلچر تبدیل ہو جائے گا، ہم یہ نہیں چاہیں گے، اگر سات سال کی عمر میں بچے کو کینیڈا لے کر جائیں گی تو اس میں پاکستانیت کہاں رہے گی ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ پڑھی لکھی ہیں معاملے کو سمجھیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے کہا کہ ہم معاملے کو مل بیٹھ کر یا ثالثی کے ذریعے حل کرنے کیلئے بھی تیار ہیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم بھی تو وہی کر رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ویسے بھی شرعی قوانین کو دیکھا جائے تو کفالت باپ کے ذمے ہے ۔ آپ پاکستان میں کیوں نہیں پڑھانا چاہتیں ۔

بچے کی ماں نے کہا کہ میں پاکستان میں پلی بڑھی ہوں، میری پیدائش لاہور کی ہے ۔ ابتدائی اسکول بھی یہیں پڑھا، ہم نے اسکول کے دور میں سائیکل چلائی، آج میرا بیٹا کراچی میں سائیکل نہیں چلا سکتا اس لئے لے کر جانا چاہتی ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب ماؤں کے بچے سائیکل نہیں چلا سکتے تو کیا سب باہر چلے جائیں؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق خاتون نے کہا کہ میں نے کولمبیا بزنس اسکول، ہاورڈ بزنس اسکول سے پڑھا، میرے والدین امریکا میں رہتے ہیں، بچے کے دادا اور دادی کینیڈا میں رہتے ہیں، ہمارا سارا خاندان وہیں مقیم ہے، ہمارا کلچر تبدیل نہیں ہوا، کلچر گھر سے آتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سارے موو (چلے) کر گئے ہیں، پاکستان سے کم پیار ہے، سب کچھ وہاں ہے تو اس ملک میں کیا ہے ۔ خاتون نے انگریزی میں کہا کہ میں اس پر احتجاج کرتی ہوں، مجھے اس ملک سے پیار ہے ۔ چیف جسٹس نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا کہ پہلے مجھے سنیں ۔

خاتون نے کہا کہ کراچی میں حالات ٹھیک نہیں ہیں، بچے اغوا ہوتے ہیں، ہمیں اسکول سے سرکلر آیا کہ بچے کو اسکول چھوڑتے اور واپس لے جاتے وقت باہر انتظار کیا کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کا خیال ہے یہ امریکا میں نہیں ہوتا، وہاں بھی پر پندرہ منٹ بھی اس طرح کی واردات ہوتی ہے، ویسے پاکستان کو بدنام کر دیا ہے ۔ یہاں آج بھی غریب پندرہ بیس روپے میں ریڑھی سے کھانا کھاتا ہے ۔ آپ دولت مند ہیں اس لئے خود کو پاکستان سے ڈی لنک کر دیں ۔ خاتون نے کہا کہ کبھی خود کو پاکستان سے ڈی لنک نہیں کر سکتی ۔

چیف جسٹس پر خاتون کا جواب گراں گزرا، کہا کہ جس ماں کا یہ ایٹی ٹیوڈ (رویہ) ہے اس کیلئے کیا کہیں ۔ ہم اس عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر بچے کو نہیں جانے دیں گے، بچے کا والد اس کی تعلیم کا پاکستان میں ہی بندوبست کرے ۔ ماں باپ دونوں اس کی بلوغت تک اس سے مل سکتے ہیں جب چاہیں، دونوں باہر بھی آ جا سکتے ہیں ۔

خاتون نے کہا کہ بچے کے بھی سفر کرنے کے حقوق ہیں، اس کے ٹریول رائٹس کا کیا بنے گا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دونوں بچے کے مجرم ہیں، اصل بے چارہ وہ ہے جو آپ دونوں میں پس گیا ہے ۔ خاتون نے کہا کہ بچہ پہلے ہی کافی ڈسٹرب ہے ۔

عدالت میں بچے کے باپ نے کہا کہ ہم نے اٹھارہ جماعتیں پاکستان میں ہی پڑھی ہیں، میں ایچی سن سے پڑھ کر ہاورڈ چلا گیا تھا، یہ بھی کراچی سے پڑھ کر ہاورڈ گئیں ۔ مقدمے میں وقفہ کیا گیا ۔

وقفے کے بعد دونوں کے وکیلوں نے عدالت کو بتایا کہ ممکنہ طور پر بچے کی تحویل اور ماں باپ دونوں کی ملاقاتوں کا طریقہ کار طے کرنے پر اتفاق ہو رہا ہے اس لئے مہلت دی جائے ۔ عدالت نے دس دن کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے