نیب کے خلاف عالمی فرم کا مقدمہ

سپریم کورٹ نے غیر ملکی کمپنی کی پاناما جے آئی رپورٹ کا والیم 10 فراہم کرنے کی درخواست پر حکومت سے برطانوی مصالحتی فورم پر پیش کیا گیا مؤقف جمع کرانے کیلئے کہا ہے ۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے سپریم کورٹ سے برطانوی کمپنی کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی ہے ۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی عدالتی بنچ نے برطانوی کمپنی براڈ شیٹ کی درخواست کی سماعت کی ۔  براڈ شیٹ کی جانب سے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ پیش ہوئے ۔ عدالت کے پوچھنے پر اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ براڈ شیٹ کمپنی نے کسی مخصوص دستاویز کے حصول کی درخواست کرنے کی بجائے مکمل والیم دینے فراہم کرنے کی استدعا کی ہے، اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس میں بہت سے ایشوز تھے، سپریم کورٹ نے دس جولائی کے فیصلے میں  جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم ٹین دینے سے منع کیا ۔

عدالت نے برطانوی مصالحتی فورم کے حکم کی نقل طلب کر لی ۔ سپریم کورٹ نے مصالحتی فورم میں پیش کیا گیا پاکستانی حکومت کا موقف بھی طلب کر لیا ہے ۔ کیس کی سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کر دی ۔

یاد رہے کہ براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی عالمی فرم نے پاکستان کے قومی احتساب بیورو نیب کے خلاف برطانوی ثالث کے پاس مقدمہ کیا ہے جس میں نیب سے خدمات فراہمی کا معاوضہ وصول کرکے فرم کو دلانے کیلئے کہا ہے ۔ عالمی فرم کا مؤقف ہے کہ ان کے نیب کے ذمے 500 ملین ڈالرز بنتے ہیں جو ایک معاہدے کے تحت ہیں ۔ اس معاہدے کے مطابق عالمی فرم نے بیرون ملک پاکستانیوں کی اکھٹی کی گئی دولت کی معلومات فراہم کرنا تھیں ۔

برطانوی ثالث نے نیب کے خلاف براڈ شیٹ کے حق میں فیصلہ دیا ہے تاہم رقم کے تعین کیلئے خدمات فراہمی کی تفصیل عدالت میں پیش کرنے کیلئے کہا گیا ہے ۔ اسی وجہ سے براڈ شیٹ نے پاکستان کی سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم دس فراہم کرنے کیلئے کہا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے