میڈیا سنسرشپ پر تنظیمی بیان

پاکستان میں صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے ایک دھڑے نے میڈیا سنسرشپ پر جاری کئے گئے بیان میں الزام لگایا ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے غیر اعلانیہ سینسرشپ کی وجہ سے آزادی اظہار شدید خطرے میں ہے ۔

 پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (بٹ گروپ) کی ایگزیکٹیو کونسل کے اجلاس کے بعد جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی نئی حکومت میڈیا کی غیراعلانیہ سینسرشپ کے خاتمے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی بلکہ حکومت کی خاموشی اس سنسرشپ میں اس کے شامل ہونے کا اشارہ دیتی ہے ۔اور اس غیر اعلانیہ سنسرشپ کے خلاف بیرون اور اندرون ملک احتجاج کے باوجود حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے ۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے بیان کے مطابق نئی حکومت اس مسئلے کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے اور ان اداروں سے اس پر بات نہیں کر رہی ہے جو ایک منصوبہ بندی کے تحت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو دھونس، اشتہارات پر کنٹرول، ہراسیت اور یہاں تک کہ صحافیوں پر حملوں کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ بیان کے مطابق ریاستی اداروں نے میڈیا کو قابو میں رکھنے کی خاطر اپنے ’فرنٹ مین‘ کے ذریعے کئی ریڈیو اور ٹی وی سٹیشن قائم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے نجی چینلوں اور اخبارات میں اپنے لوگ بھی بھرتی کروائے ہیں۔ یونین نے شکایت کی کہ چھاؤنی کے علاقوں میں قومی اخبارات کی تقسیم میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں جبکہ بڑے چینلوں کو کیبل آپریٹروں پر دباؤ کے ذریعے روکا جا رہا ہے جس کا مقصد میڈیا ہاؤسز کو ان ہتھکنڈوں کے ذریعے کنٹرول کرنا ہے ۔

پی ایف یو جے کے دو صفحاتی بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ صحافیوں کو بلوچستان اور سابق قبائلی علاقوں میں آزادانہ طور پر رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہے اور انھیں سکیورٹی کے نام پر تشدد کے شکار علاقوں سے دور رکھا جا رہا ہے ۔

بیان کے مطابق اجلاس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ان حالات کی وجہ سے پاکستان میں مزاحمتی صحافت بھی دم توڑ رہی ہے کیونکہ صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز نے ریاستی اداروں کے غصے سے بچنے کی خاطر سیلف سینسرشپ شروع کر دی ہے۔ اجلاس نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے کارپورٹائزیشن کی وجہ سے مالکان نے بطور ایڈیٹرز یا چیف ایڈیٹر کے نیوز رومز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس وجہ سے مدیر کا اہم عہدہ جو میڈیا کی آزادی میں اہم کردار ادا کرتا تھا اب تقریباً ختم ہو چکا ہے ۔

پی ایف یو جے نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں مزاحمت بھی بند ہوچکی ہے۔ اسی طرح پارلیمان نے جو سیاسی طور پر منقسم ہے بھی مزاحمت کرتے ہوئے آزادی اظہار کے دفاع میں حکومت پر دباؤ ڈالنا چھوڑ دیا ہے جس کی کمی نے جمہوریت کو ایک مذاق بنا دیا ہے۔ یہ پارلیمان کے اپنے فائدے میں ہے کہ وہ اپنی اجتماعی آواز اٹھائے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں بحٹ پر اپنے خطاب میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ پی ایف یو جے نئے پاکستان میں میڈیا کی آزادی سلب کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہی ہے ۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہمیں اختلاف رائے اور تعمیری تنقید برداشت کرنا سیکھنا چاہیے ۔ جب ہم اختلاف کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑتے تو ہم ترقی کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑتے۔‘ بلاول بھٹو نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت آزادی اظہار کی ضمانت دے گی؟ ۔

 

 

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے