ساڑھے تیرہ کروڑ والا وکیل معاف

سپریم کورٹ، سرکاری وکیلوں کی نجی وکالت کے مقدمے کی سماعت کی ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کی بھاری فیس لینے کے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔
اٹارنی جنرل انور منصور اور عدالتی معاون حامد خان نے رانا وقار کے سرکاری وکیل کے طور پر تنخواہ کے علاوہ سرکاری اداروں سے فیس لینے کی اپنی قانونی رائے کی رپورٹ پیش کی ۔
رپورٹ کے مطابق سابق ایڈیشل اٹارنی جنرل رانا وقار نے نجی وکالت کی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری وکیل کی نجی وکالت پر قانون واضح نہیں اس لئے فیس لی گئی ۔

رپورٹ میں اٹارنی جنرل اور حامد خان نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ رانا وقار کا خودمختار اداروں سے فیس لینا غیر قانونی نہ تھا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری قانون کی بھی یہی رائے ہے ۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اپنے دفتر کو کہیں مستقبل میں احتیاط کرے، اس طرح فیس لینے والا کام ختم کریں ۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی سرکاری وکیل مستقبل میں کسی ادارے سے فیس نہیں لے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خان صاحب ہمیشہ کی طرح جیت گئے ہیں، حامد خان اور انور منصور، دونوں خان ہیں ۔
سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس نمٹا دیا ۔ یاد رہے کہ رانا وقار نے بطور سرکاری وکیل تنخواہ لینے کے علاوہ ایف بی آر اور دوسرے سرکاری اداروں کی جانب سے پیش ہونے پر ساڑھے تیرہ کروڑ فیس وصول کی تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے