بحریہ ٹاؤن کیس میں عدالتی ماحول

سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں جب بحریہ ٹاؤن کی نظرثانی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا تو علی ظفر، اعتزاز احسن، خواجہ طارق رحیم، فاروق ایچ نائیک اور اظہر صدیق نامی وکیل روسٹرم پر موجود تھے ۔ کمرہ عدالت میں کچھ مرد اور خواتین بھی موجود تھیں ۔

سماعت کے دوران بار بار وہ خواتین و حضرات کبھی اپنی نشست پر کھڑے ہو جاتے اور ہاتھ اٹھا کر کہتے ہمیں سنا جائے ۔ عدالتی کارروائی میں کئی بار مداخلت کرنے پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ان تمام افراد کو آرام سے کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں اور نشستوں پر بیٹھا دیں، ان کو بعد میں سنیں گے ۔ اس ہدایت کے باوجود ایک مرد اور خاتون نے روسٹرم پر آ کر بات کرنے کوشش کی تو پولیس اہلکار نے انھیں روک دیا ۔ چیف جسٹس کہا کہ اچھا انھیں کہیں ایک ایک کر کے آئیں اور اپنی بات کریں ۔

سب سے ایک شخص روسٹرم پر آیا اور کہا میں اوورسیز پاکستانی ہوں، میرے کہنے پر کچھ لوگوں نے بحریہ ٹاؤن میں سرمایہ کاری کی، ہمارا نقصان ہوجائے گا ۔ پھر ایک خاتون آئی اور اس نے بھی بحریہ ٹاؤن کی شان میں قصیدہ گوئی کی ۔ کمرہ عدالت میں دلچسپ بات یہ دیکھی گئی کہ ملک ریاض ایک شخص کے کان میں کوئی بات کہتا اور وہ شخص خاتون کے پاس آتا اس کے کان میں کوئی بات کرتا اور پھر وہ خاتون روسٹرم پر جا کر بحریہ ٹاؤن کراچی کی تعریف میں کلمات کہتی ۔

ایسا دو سے تین مرتبہ دہرایا گیا، ایک مرتبہ تو یوں ہوا کہ ایک خاتون نے کہا ‘میں نے ڈیمز فنڈز کیلئے کچھ رقم اکٹھی ہے وہ چیک دینا چاہتی ہے’ ۔ چیف جسٹس نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا ۔ جب وہ خاتون روسٹرم چھوڑ کر واپس اپنی نشست پر آئی تو پھر ایک شخص کے کان میں ملک ریاض نے کوئی بات کی اور اس نے شخص آ کر خاتون سے کچھ کہا جس کے بعد وہ خاتون دوبارہ اپنی نشست سے اٹھی اور چیک دینے روسٹرم کی طرف بڑھی ۔ کورٹ ایسوسی ایٹ کو چیک دینے کی کوشش کی لیکن کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔ بعد میں پھر اپنی نشست پر واپس آئی تو دوسری خاتون نے کہا چیک کے ساتھ فہرست بھی لے کر جاتی، اس پر خاتون نے جواب دیا ‘بعد میں چیمبر میں چیک دیں گے’۔

دوران سماعت ملک ریاض نے بات کرنے کی اجازت مانگی ۔ چیف جسٹس نے انھیں دس منٹ کا وقت دیا اور کہا ہم وقت نوٹ کر رہے ہیں ۔ عدالت کی طرف سے اجازت ملنے پر ملک ریاض نے کچھ صفحات پڑھنا شروع کر دیے ۔ ملک ریاض نے چار صفحات پڑھے جو اردو میں لکھے ہوئے تھے اور ان میں بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں کی تعریفیں تھیں ۔

عدالت عظمی کے پانچ جج صاحبان اور کمرہ عدالت میں موجود درجنوں وکیل اور صحافی یہ سب دیکھ کر زیرلب مسکراتے رہے ۔ بظاہر یوں دکھائی دیا کہ بحریہ ٹاؤن والے بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ ‘پیڈ ایکٹرز’ کو عدالت لے کے آئے تھے ۔ بحریہ ٹاؤن کے خلاف عدالتی فیصلے کے ‘متاثرین’ نے ایک موقع پر رونے یا روہانسے ہونے کی اداکاری بھی کی ۔

رپورٹ و تبصرہ : جہانزیب عباسی/ رپورٹر نیو نیوز

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے