جبری گمشدگی پر مذاکرہ

موجودہ حکومت جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے اور ایجنسیوں کی دست درازی روکنے کیلئے قانون سازی کرے.اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے ماہرہ ساجد کیس میں دلیرانہ اور تاریخی فیصلہ دیا،کاش سارے جج صاحبان ایسے دلیرانہ فیصلے کریں ۔ ان خیالات کا اظہار ڈیفنس آف ہیومن رائٹس اور ینگ لائرز کے زیراہتمام ’جبری گمشدگیوں کا معاملہ جسٹس اطہر من اللہ کے تاریخی فیصلے کی روشنی میں؛ کے عنوان سے ہائیکورٹ قائداعظم ہال میں منعقدہ مذاکرے سے شرکا نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مذاکرے کی صدارت اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر سید جاوید اکبر شاہ نے کی.ڈی ایچ آر کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر،ایڈووکیٹ عمر گیلانی، محمد حیدر امتیاز نے خطاب کیا جبکہ وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شریک ہوئے.شرکاء کو بتایا گیا کہ اطہر من اللہ نے تاریخی فیصلے میں جبری گمشدگی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہو کہا کہ ایسے مقدمات میں بار ثبوت مدعی پر نہیں ریاست پر ہے.ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مانگ پرسن کی برآمدگی تک ورثاء کے نان نفقے کا بندوبست کرے اور انکی کفالت کرے.عدالت نے مذکورہ کیس میں سیکریٹری دفاع اور پولیس افسران پر جرمانہ عائد کیا جبکہ مذکورہ فیملی ماہانہ ہرجانہ دینے کا بھی حکم دیا.آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے تاریخی فیصلہ دیا.اگر اجازت ہوتی تو انہیں شیلڈ پیش کرتے.جبری گمشدگی بدترین ٹارچر ہے جس کا شکار پورا خاندان ہوتا ہے.جبری گمشدگی کا شکار سو خاندانوں پر مشتمل تحقیق کروائی جس سے ثابت ہوا کہ 99فیصد فیملیز نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں اور انہیں سخت معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے.یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے کہ اس حساس مسئلے پر یہاں بات ہو رہی ہے.ظلم و ناانصافی کو اس ملک سے ختم ہونا چاہیئے.بابائے قوم نے انسانی حقوق کے لئے یہ ملک بنایا لیکن لوگوں کو حقوق نہیں مل رہے.خاندانوں کو ماہانہ وظیفہ ملنا چاہئے.ریاست کی اس معاملے میں ناقص کارکردگی پر بھی جرمانہ عائد کیا جائے ۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے نے نئی سمت کا تعین کیا ہے.میرے لئے مایوس کن بات ہے کہ موجودہ حکومت فیصلے کے خلاف اپیل میں گئی.وزیر انسانی حقوق نے جبری گمشدگی کے خلاف قانون سازی کا وعدہ کیا تھا وہ اچھی وزیر ہیں لیکن شاید بے بس ہیں.ہم کیوں کہتے ہیں کہ جبری گمشدگی میں ریاستی ادارے ملوث ہیں کیونکہ عدلیہ پارلیمان اور انتظامیہ بے بس ہیں.وہ لوگ عدلیہ پارلیمان سے بالاتر ہیں اور جواب دہ بھی نہیں.اسلئے کہتا ہوں ریاستی ادارے ملوث ہیں اور کیوں نہ کہوں جب سابق فوجی سربراہ برملا کہتا ہے کہ ہم نے ڈالروں کے عوض بندے امریکہ کے حوالے کئے.انہوں نے تجویز دی کہ جبری گمشدگی کو جرم قراد دیا جائے اور بین الاقوامی کنونشن پر دستخط کئے جائیں.2010 کے کمیشن کی رپورٹ شائع کی جائے.سینیٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے.پاکستان میں گوانتاناموبے ٹائپ کے قید خانے بند کئے جائیں ۔

صدر ہائیکورٹ بار جاوید اکبر شاہ نے کہا کہ آمنہ جنجوعہ نے جبری گمشدگی کو تحریک میں بدل دیا اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر جبری گمشدگی کے خلاف بڑی موثر آواز ہیں.جسٹس اطہر من اللہ کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے دلیرانہ فیصلہ دیا کاش سارے جج ایسے دلیرانہ فیصلے دیں.انہوں نے ورثاء کو یقین دلایا کہ وکلاء آئین و قانون کی بالا دستی کی جنگ میں انکے شانہ بشانہ ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے