سعود عزیز اور خرم شہزاد کی ضمانت برقرار

سپریم کورٹ نے بے نظیر بھٹو قتل کیس میں نامزد پولیس افسران سعود عزیز اور خرم شہزاد کی ضمانت منسوخی کیلئے دائر کی گئی درخواست خارج کر دی ہے ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ نے قانون کے مطابق سزا معطل کر کے ضمانت دی، ملزمان ایک سال سے ضمانت پر ہیں، منسوخی کیلئے قانونی جواز ہونا ضروری ہے ۔

عدالت عطمی کے دو رکنی بنچ نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ راولپنڈی میں شہید ہونے والے ایک کارکن کی بیوہ رشیدہ بی بی کی درخواست کی سماعت کی ۔ رشیدہ بی بی نے ہائیکورٹ کی سعود عزیز اور خرم شہزاد کو دی گئی ضمانتوں کو چیلنج کر کے ان کی منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔

درخواست گزار رشیدہ بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو وژنری لیڈر تھیں، وہ پاکستان ہی نہیں ایشیا کی لیڈر تھیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ قانون پر دلائل دیں اور بتائیں کہ ضمانت کیوں اور کن شواہد کی بنیاد پر خارج کی جائے ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ جب ہم قانون کی تشریح کرتے ہیں تو کسی مخصوص کیس کو مدنظر نہیں رکھتے ۔

وکیل نے کہا کہ دہشت گردوں کو شک کا فائدہ دینا دہشت گردی کو فروغ دینے کے متردف ہوگا ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اگر سیکورٹی نہیں دی گئی تھی یا اس میں خلا تھا تو کیسے یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ مجرمانہ نوعیت کا معاملہ ہے ۔ یہ ابھی ہائیکورٹ نے بے کرنا ہے جہاں مقدمہ زیر التوا ہے، ضمانت کو ایک سال گزر گیا ۔ ملزمان کے خلاف ایسا کوئی الزام نہیں کہ ہائیکورٹ سے ضمانت کے بعد کنڈکٹ خراب ہے ۔ یہ اصول قانون نے طے کیا ہے کہ ضمانت کے بعد منسوخی کا فیصلہ کرتے وقت ملزم کا کنڈکٹ بھی دیکھا جاتا ہے ۔

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ 24 افراد کے قتل کا مقدمہ ہے اور ان دونوں افسران کی ذمہ داری تھی، سیکورٹی نہ دینے کے بعد جائے وقوعہ بھی دھویا ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ وہ قانونی جواز بتائیں جس کی بنیاد پر ضمانت منسوخ کی جائے، ہائیکورٹ نے ضمانت کے فیصلے میں لکھا ہے کہ جائے وقوعہ سے 24 شواہد اکھٹے کئے گئے جو ٹرائل میں پیش بھی کئے گئے اس لئے اس بنیاد پر ضمانت کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا کہ کرائم سین کو دھویا گیا ۔

وکیل نے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ بی بی کو نہتا کر کے مارا گیا، کوئی سیکورٹی نہ تھی، بی بی نے خود بھی اپنی سیکورٹی کے بارے میں لکھا تھا، وہ مشرف کے بارے میں تھا جو اس وقت آپ کے سامنے نہیں، مفرور ہے ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ملزمان کو صرف عبوری ضمانت دی گئی ہے، ملزمان کو بری نہیں کیا گیا، 28 شواہد جائے وقوعہ سے اکھٹے کئے جانا ریکارڈ پر ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے کہا کہ اس کے باوجود ملزمان کا بری ہونا یا ضمانت ہو جانا عدالت کا قصور ہے ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ درست بات یہ ہوگی کہ سسٹم کا قصور ہے ۔

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ملزمان صرف ایک سال سے ضمانت پر نہیں بلکہ وہ دس سال بھی شامل کر لیں جب کیس نہ چلنے دیا گیا، کبھی جج غیر حاضر تھا تو کبھی جج کا تبادلہ ہو گیا ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آپ کے دو کردار آج آپس میں گڈ مڈ ہو گئے ہیں، ایک پیشہ ور وکیل ہونا کا اور دوسرا اچھا اوریٹر (خطیب/ مقرر) ہونے کا ۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ ملزم سی سی پی او تھا اس نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ہی نہ بننے دی ۔ پرچہ درج کرنے، تفتیش کرنے والے اور قتل کرنے والے سب خود ہی تھے ۔ آج تک کسی کو لیاقت علی خان کے قتل کا پتہ چلا ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ چلیں، اس بارے میں بات نہیں کرتے ۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے درست فیصلہ نہیں کیا، ضمانت بنتی ہی نہیں تھی اس لئے خارج کی جائے ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ دیگر کئی مقدمات میں آپ نے ہائیکورٹ کے ضمانت خارج کرنے کے خلاف بھی آپ نے اپیل کر رکھی ہوگی اس میں پھر کیا کہیں گے ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ضمانت ہونے سے کسی کے مجرم یا معصوم ہونے پر فرق نہیں پڑتا، ابھی ہائیکورٹ نے کیس کا فیصلہ نہیں کیا ۔

ملزمان سعود عزیز کی جانب سے خالد رانجھا ایڈووکیٹ جبکہ خرم شہزاد کی جانب سے وکیل اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسر کو چار سال او ایس ڈی بنایا گیا، اس کیس کی وجہ سے ترقی نہ ہو سکی اس کے ساتھی افسر ڈی آئی جی تک پہنچ گئے ان کا کیئریر ہی ختم ہو گیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اس پورے کیرئیر اس نے پہلے کبھی جائے وقوعہ دھویا، پولیس افسر کو تو کرائم سین محفوظ بنانے کی تربیت دی جاتی ہے ۔

جسٹس کھوسہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا ریاست نے ملزمان کی ضمانت کو چیلنج کیا، یا اس پر اعتراض ہے؟ سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ملزمان کی بریت کے خلاف دو اپیلیں ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی ہیں تاہم پولیس افسران کی ضمانت پر اعتراض نہیں ۔ وکیل لطیف کھوسہ نے اپنی نشست سے بیٹھے بیٹھے جملہ اچھالا کہ ہمارے ساتھ یہی ہوتا ہے ۔

سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمہ ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے جہاں پولیس افسران کی سزا کے خلاف اپیلوں کو میرٹ پر سنا جانا باقی ہے ۔

کیس کی سماعت کے دوران بلاول بھٹو زرداری عدالت میں فرنٹ رو میں بیٹھے رہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے