آرمی پبلک اسکول حملے پر چار سال بعد کمیشن

سپریم کورٹ نے تقریبا چار سال بعد پشاور کے آرمی پبلک اسکول حملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا حکم دیا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ کے سینئر جج کی سربراہی میں کمیشن چھ ہفتے میں رپورٹ دے گا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی عدالتی بنچ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ عدالت نے سانحہ اے پی ایس پر تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سینیئر جج پر مشتمل کمیشن بنائیں جو چھ ہفتے میں انکوائری کر کے رپورٹ دے ۔

چیف جسٹس نے عدالت میں متاثریں سے کہا کہ پشاور میں اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے صورتحال ایسی تھی کہ کمیشن کی تشکیل کا کام مکمل نہ ہوسکا تاہم اب کمیشن بنا رہے ہیں جو تحقیقات کرکے 6 ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ لواحقین سے شرمندہ ہوں، انہیں دوبارہ عدالت آنا پڑا، والدین کے لخت جگر واپس نہیں لا سکتا تاہم تکلیف کم کرنے کی کوشش کروں گا اور درست تحقیقات کے لیے جو کرسکے کریں گے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم پشاور جائیں گے اور آرمی پبلک اسکول پشاور کے کلاس روم میں بیٹھ کر قرآن خوانی کریں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے