آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ سکتا ہے

وزیراعظم عمران خان نے  کہا ہے کہ تبدیلی ایک سال میں نظر آئے گی، ہماری پالیسیاں ابھی بن رہی ہیں، ہو سکتا ہے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے، کرپٹ افراد سے کوئی این ار آو نہیں ہوگا، کرپشن میں ملوث کسی ایک شخص کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا ۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ شہبازشریف کی گرفتاری سے کونسی قیامت آگئی؟ کرپٹ لوگو کان کھول کر سن لو،کوئی این آر او نہیں ہوگا،عثمان بزدار جیسا ہی وزیراعلیٰ چاہتا تھا،یہی تبدیلی ہے ۔

عمران خان نے کہا کہ کل شہبازشریف کو منڈیلا بنتے دیکھا،اسی لئے پریس کانفرنس کر رہا ہوں، ہم پر الزام لگایا جارہا ہے کہ ہم سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں، شہبازشریف کے  خلاف کیسز کئی ماہ پہلے کے ہیں، نیب میرے ماتحت نہیں ہے اگر نیب کا ادارہ میرے ماتحت ہوتا تو کم از کم 50 افراد جیل میں ہوتے، مزید کرپٹ لوگوں کی باری آنے ہی والی ہے انہیں جیل میں ڈالیں گے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جو لوگ شہباز شریف کی گرفتاری پر شور مچا رہے ہیں وہ اصل میں اپنی گرفتاری کے خوف سے چلا رہے ہیں، یہ لوگ بے شک مظاہرے کریں، دھرنے دیں یا اسمبلی میں شور مچائیں ہم کرپٹ لوگوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے، ایک ایک کرپٹ شخص کو پکڑیں گے اور کوئی این آر او نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ زرداری اور شہباز شریف بھائی بھائی ہیں یہ اکٹھے مل کر الیکشن لڑرہے ہیں، زرداری اور شریفوں کی کرپشن کی یونین ہے یہ لوگ قیمے کے نان کھلا کر لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں، بڑے بھائی کو پکڑا گیا تو کہا کہ نیب نے میرے سوالات کے جواب نہیں دیے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ وزرا کی کارکردگی کو مانیٹر کریں گے جو وزیر کارکردگی نہیں دکھائے گا اسے تبدیل کردیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے